Results 1 to 3 of 3

Thread: Tu Ghani Az Bar Do Alaam Mai Faqeer

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Tu Ghani Az Bar Do Alaam Mai Faqeer


    تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
    روز محشر عذر ہائے من پذیر
    ور حسابم را تو بینی ناگزیر
    از نگاہ مصطفٰےﷺ پنہاں بگیر
    "


    اے اللہ! تو دونوں جہانوں سے غنی ہے اور میں ایک درماندہ فقیر ہوں۔ تیرا کرم ہو گا کہ قیامت کے دن میری معافی قبول کر لے اور مجھے بخش دے اور اگر تو کسی وجہ سے میرا حساب کتاب کرنا اور میرے اعمال نامے کا جائزہ لینا ضروری خیال کرے تو اتنا کرم کرنا۔ میری فردَ گناہ، آقائے دو جہاںحضرت محمد مصطفٰیﷺ کی نگاہوں سے چھپا کر رکھنا۔"
    (بوئے گل کی طرح دل و دماغ کو عطر بیز کر دینے اور روح میں گیلی لکڑی جیسی سلگاہٹ پیدا کرنے دینے والے ان دو اشعار کی ایک ایمان افروز کہانی ہے۔ یہ دو اشعار علامہ محمد اقبال کی کسی کتاب میں موجود نہیں، صرف علامہ اقبال کے خط بنام محمد رمضان مشمولہ اقبال نامہ میں موجود ہیں۔ حامد محمود)ایک صدی سے زائد کا عرصہ ہوا۔ ڈیرہ غازی خان کے ترین قبیلے سے تعلق رکھنے والے اللہ داد خان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس کا نام محمد رمضان رکھا گیا۔ رمضان ہونہار طالب علم نکلا۔ بی۔ اے کے بعد بی ۔ ٹی کا امتحان پاس کیا اور بطور انگلش ٹیچر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ طبیعت میں فقیرانہ استغنا بھی تھا اور صوفیانہ بے نیازی بھی۔ اعلٰی تعلیم یافتہ ہونے اور سرکار انگلیسیہ کا ملازم ہونے کے باوجود کبھی دیسی لباس ترک نہ کیا۔ چہرہ سنتِ رسولﷺ سے سجا تھا۔ ہمیشہ ہاتھ میں ایک موٹی سوٹی اور کندھے پر بڑا سا تولیہ ڈالے رکھتے۔ فارسی اور اردو کے شعر کہتے۔ علامہ اقبال کے عشاق میں سے تھے۔ انکے کئی اشعار پہ تضمین کہی جو علامہ نے بہت پسند کی۔ مولانا فیض محمد شاہ جمالی کے مرید اور حضرت خواجہ نظام الدین تونسوی کے حلقہ نشین تھے۔ ایک نوجوان، عطا محمد جسکانی سے گہرے لگاؤ کے باعث عطائی تخلص اختیار کیا اور محمد رمضان عطائی کہلانے لگے۔یہ اُن دنوں کا ذکر ہے جب عطائی ڈیرہ غازی خان کے گورنمنٹ اسکول میں تعینات تھے۔ اُنہی دنوں اُن کے قریبی شناسا مولانا محمد ابراہیم ناگی بھی ڈیرہ غازی خان کے سب جج تھے۔ ابراہیم ناگی ایک درویش منش اور صاحبِ علم شخصیت تھے۔ آپ انیس ناگی کے والد اور معروف صحافی واصف ناگی کے دادا تھے۔ علامہ اقبال سے گہری محبت رمضان عطائی اور ابراہیم ناگی کے درمیان دوستانہ قربت کی قدر مشترک تھی۔ مولانا ابراہیم کو علامہ اقبال سے ملاقاتوں کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ایک دن مولانا ابراہیم لاہور گئے۔ علامہ سے ملاقات ہوئی۔ واپس آئے تو سرِ شام معمول کی محفل جمی۔ علامہ سے ملاقات کا ذکر چلا تو عطائی کا جنوں سلگنے لگا۔ مولانا نے جیب سے کاغذ کا ایک پرزہ نکال کر عطائی کو دکھایا۔ یہ علامہ کی اپنی تحریر تھی۔ مولانا کہنے لگے۔ لو عطائی! علامہ صاحب کی تازہ رُباعی سنو۔ پھر وہ ایک عجب پُرکیف انداز میں پڑھنے لگے۔تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
    روز محشر عذر ہائے من پذیر
    ور حسابم را تو بینی ناگزیر
    از نگاہ مصطفٰےﷺ پنہاں بگیر
    مولانا کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے لیکن محمد رمضان عطائی کی کیفیت روتے روتے دگرگوں ہو گئی۔ اِسی عالمِ وجد میں فرش پر گرے۔ چوٹ آئی اور بے ہوش ہوگئے۔ رُباعی ان کے دل پر نقش ہو کے رہ گئی۔ اٹھتے بیٹھتے گنگناتے اور روتے رہے اُنہی دنوں حج پر گئے۔ خود اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ جب حجاج اوراد و وظائف میں مصروف ہوتے تو وہ زار و قطار روتے اور علامہ کی رُباعی پڑھتے رہتے۔حج سے واپسی پر دل میں ایک عجب آرزو کی کونپل پھوٹی۔ ”کاش یہ رُباعی میری ہوتی یا مجھے مل جاتی۔“ یہ خیال آتے ہی علامہ اقبال کے نام ایک خط لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“آپ سر ہیں۔ فقیر بے سر۔ آپ اقبال ہیں، فقیر مجسم ادبار۔ لیکن طبع کسی صورت کم نہیں پائی۔“ انہوں نے علامہ کے اشعار کی تضمین اور اپنے چیدہ چیدہ فارسی اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ”فقیر کی تمنا ہے کہ فقیر کا تمام دیوان لے لیں اور یہ رُباعی مجھے عطا فرما دیں۔“ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ اُنہیں علامہ کی طرف سے ایک مختصر سا خط موصول ہوا۔ لکھا تھا:"جناب محمد رمضان صاحب عطائی
    سینئر انگلش ماسٹر۔ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈیرہ غازی خان۔
    لاہور: 19/ فروری 1937
    جناب من! میں ایک مدت سے صاحبِ فراش ہوں۔ خط و کتابت سے معذور ہوں باقی، شعر کسی کی ملکیت نہیں۔ آپ بلا تکلف وہ رُباعی، جو آپ کو پسند آگئی ہے، اپنے نام سے مشہور کریں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔فقط:
    محمد اقبال۔ لاہور"
    علامہ کی یہ عطا، عطائی کے لیے توشہ دو جہاں بن گئی۔ علامہ نے یہ رُباعی اپنی نئی کتاب ”ارمغان حجاز“ کے لیے منتخب کر رکھی تھی۔ عطائی کی نذر کر دینے کے بعد اُنہوں نے اسے کتاب سے خارج کر کے، تقریباً اِسی مفہوم کی حامل ایک نئی رباعی کہی جو ”ارمغانِ حجاز“ میں شامل ہے۔بہ پایاں چوں رسد ایں عالم پیر
    شود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر
    مکن رسوا حضور خواجہ ما را
    حساب من زچشم او نہاں گیر
    (اے میرے رب! روز قیامت) یہ جہاں پیر اپنے انجام کو پہنچ جائے اور ہر پوشیدہ تقدیر ظاہر ہو جائے تو اس دن مجھے میرے آقا و مولاﷺ کے حضور رُسوا نہ کرنا اور میرا نامہ اعمال آپ کی نگاہوں سے چھپا رکھنا)ایم اے فارسی کا امتحان دینے لاہور گئے تو عطائی شکریہ ادا کرنے علامہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہمراہ جانیوالے چوہدری فضل داد نے تعارف کراتے ہوئے کہا۔ ”یہ بوڑھا طوطا ایم اے فارسی کا امتحان دینے آیا ہے۔“ علامہ ایک کھری جھلنگا چار پائی پر احرام نما سفید چادر اوڑھے لیٹے تھے۔ بولے۔ ”عاشق کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔“ رُباعی کا ذکر چل نکلا۔ عطائی نے جذب و کیف سے پڑھنا شروع کیا۔ "تو غنی از ہر دو عالم۔۔۔۔۔۔۔“ علامہ کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے۔ اتنا روئے کہ سفید چادر کے پلو بھیگ گئے۔ آخری ملاقات علامہ کے انتقال سے کوئی چار ماہ قبل دسمبر 1937 میں ہوئی۔ انہوں نے علامہ سے کہا۔ ”سنا ہے جناب کو دربار نبویﷺ سے بلاوا آیا ہے۔“ علامہ آبدیدہ ہو گئے ۔ آواز بھرا گئی۔ بولے۔ ”ہاں! بے شک لیکن جانا نہ جانا یکساں ہے۔ آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے۔ یار کے دیدار کا لطف دیدہ طلبگار کے بغیر کہاں؟“ عطائی نے کہا۔۔۔۔۔”جانا ہو تو دربار نبویﷺ میں وہ رُباعی ضرور پیش فرمائیے گا۔ جو اب میری ہے۔“ علامہ زار و قطار رونے لگے۔ سنبھلے تو کہا ”عطائی! اس رباعی کو بہت پڑھا کرو۔ ممکن ہے خداوند کریم مجھے اسکے طفیل بخش دے۔“21 اپریل 1938 کو علامہ انتقال فرما گئے۔ عرصہ بعد شاہی مسجد کے احاطے میں ان کے مزار کی تعمیر شروع ہوئی تو ہر ہفتے اور اتوار کو ایک مجذوب شخص لاٹھی تھامے مسجد کی سیڑھیوں پر آبیٹھتا اور شام تک موجود رہتا۔ وہ زیر تعمیر مزار پہ نظریں گاڑے ٹک ٹک دیکھتا رہتا۔ کبھی یکایک زاری شروع کر دیتا، کبھی طواف کے انداز میں مزار کے چکر کاٹنے لگتا۔ اس کا نام محمد رمضان عطائی تھا۔مولانا محمد ابراہیم ناگی کبھی کبھی کہا کرتے ”ظالم عطائی! کان کنی تو میں نے کی اور گوہر تو اڑا لے گیا۔ بخدا اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ حضرت غریب نواز (علامہ اقبال) اتنی فیاضی کریں گے تو میں اپنی تمام جائیداد دے کر یہ رباعی حاصل کر لیتا اور مرتے وقت اپنی پیشانی پر لکھوا جاتا“۔محمد رمضان عطائی، سینئر انگلش ٹیچر 1968 میں اس جہاں فانی سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا۔ ”میرے مرنے پر اگر کوئی وارث موجود ہو تو رُباعی مذکور میرے ماتھے پہ لکھ دینا اور میرے چہرے کو سیاہ کر دینا۔“ مجھے معلوم نہیں کہ پس مرگ اُن کے کسی وارث نے اس عاشقِ رسولﷺ کی پیشانی پہ وہ رُباعی لکھی یا نہیں لیکن ڈیرہ غازی خان کے قدیم قبرستان ”ملا قائد شاہ“ میں کوئی بیالیس برس پرانی ایک قبر کے سرہانے نصب لوحِ مزار پر کندہ ہے۔تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
    روز محشر عذر ہائے من پذیر
    ور حسابم را تو بینی ناگزیر
    از نگاہ مصطفٰےﷺ پنہاں بگیر

    عرفان صدیقی، مکہ مدینہ، 192-195 —
    Last edited by Sachii Dosti; 10-12-2014 at 10:59 PM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Nov 2013
    Location
    Dream Land
    Age
    21
    Posts
    3,220
    Mentioned
    97 Post(s)
    Tagged
    2597 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    429507

    Default

    ​prh ky aansoo aa gy ankhon mn......speechless......


  3. #3
    °Têhrêêr°'s Avatar
    °Têhrêêr° is offline .·★ ƒяɨ€ɲď ๏ƒ ɲąţµя€ ★.·´
    Join Date
    May 2014
    Location
    ●♥forest♥●
    Age
    24
    Posts
    3,439
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1546 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    7

    Default

    umdaaaaaaaaaaaaaa
    I aM sTrOnG bEaCaUsE I DePeNdS oN AllAh

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •