یروشلم (کاروان ڈیسک) اسرائیل کے نیوی کمانڈوز نے غزہ کی پٹی پر زمینی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ زمینی کارروائی کےآغاز کے ساتھ ہی سرائیلی فوج کی فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ شدید جھڑپ ہوئی ہے جس میں چار اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے۔

خیال رہے کہ گزشتہ پانچ روز سے جاری اسرائیل کی فضائی بمباری میں اب تک تقریبا 162 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کارروائی میں چار فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انہوں نے اس کارروائی کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ منگل کے روز سے جاری اسرائیلی حملوں میں یہ پہلی زمینی کارروائی ہے۔

گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے ایک تین منزلہ عمارت پر میزائل داغے تھے جس میں ایک ہی خاندان کے سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ہفتے کی صبح جن مقامات کو نشانہ بنایا ان میں مساجد اور حماس کے اراکین کے گھر بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے آغاز سے اب تک عسکریت پسندوں کی جانب سے 520 مارٹر گولے اور راکٹس داغے گئے، جبکہ 140 راکٹوں کو آئرن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم کی مدد سے ناکارہ بنا دیا گیا۔ ادھر اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ کونسل کے تمام 15 ارکان کی جانب سے منظور شدہ بیان میں جارحیت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے پرامن رہنے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کے حل پر زور دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے کی جانے والے جنگ بندی کی شدید سفارتی کوششوں کے باوجود فریقین جنگ بندی پر راضی نہیں ہیں۔ اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے جمعے کو کہا تھا کہ غزہ میں جاری حملوں کو روکنے کے حوالے سے عالمی دباؤ کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ان کے مطابق ان حملوں کا مقصد اسرائیلی شہروں میں امن قائم کرنا ہے اور میں یہ مقصد حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ غزہ کی پٹی میں جاری حالیہ پر تشدد واقعات نومبر 2012 کے بعد بدترین واقعات میں سے ایک ہیں، جن میں یروشلم اور تل ابیب کے ساتھ حائفہ پر بھی بے شمار راکٹ حملے کیے گئے۔

Source newsIsraeli commandos attack gaza