Results 1 to 2 of 2

Thread: اصولوں کے پہاڑے اور بے اصولے

  1. #1
    Join Date
    Apr 2014
    Location
    Pakistan
    Age
    29
    Posts
    68
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    134 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default اصولوں کے پہاڑے اور بے اصولے

    ہالینڈ کے ایک مؤقر جریدے نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران بعض افریقی ممالک سے یورینیم کی بھاری مقدار درآمد کر چکا ہے یا کرنا چاہتا ہے یہ ویسا ہی یورینیم ہے جو دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرایا جانے والا بم بنانے کے لئے استعمال کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “ یورینیم 238 “ کی بھاری مقدار تنزانیہ کے کسٹم حکام نے قبضہ میں لے لی تھی جو کہ کانگو کی کانوں سے اسمگل کر کے لایا جا رہا تھا۔ تنزانیہ کے حکام نے اخبار سنڈے ٹائمز کو بتایا تھا کہ یہ یورینیم ایرانی بندرگاہ بندر عباس پہنچایا جا رہا تھا جو کسٹم حکام نے روک لیا۔ اس انکشاف کے بعد مغرب کے اس خوف میں اضافہ ہو گیا ہے جو اسے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں لاحق ہے۔ اسی خوف کی وجہ ایران کی اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں، یہودیوں کا صفایا اور ایران کی طرف سے حزب اللہ کو فراہم کی جانے والی امداد و حمایت بھی ہے۔ یہ رپورٹ اس موقع پر منظر عام پر آئی ہے یا لائی گئی ہے جب ایران نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی طرف سے پابندیوں کی دھمکی کے باوجود یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کرے گا۔ جبکہ ایرانی ایٹمی مذاکرات کے نمائندے نے سلامتی کونسل کی طرف سے یورینیم کی افزودگی روکنے کی اپیل یکسر مسترد کر دی ہے۔ ایران نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ اس نے 164 سینٹری فیوجز کے ذریعے یورینیم کی افزودگی کی ہے جبکہ جلد ہی سینٹری فیوجز کی تعداد 3 سو تک بڑھا دی جائے گی۔ جس کے بعد ایک سال کی مدت ( قلیل یا طویل) میں ایٹمی ہتھیار تیار کئے جا سکتے ہیں۔ ادھر ایران کے معتبر اخبار گہیان نے خبر دی ہے کہ ایرانی سائنسدانوں نے ایک نئے مقام پر یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نئے مقام پر کوئی فضائی حملہ مدد گار ثابت نہیں ہو سکتا کہ یہ جگہ ایسی سرنگ میں واقع ہے جس پر کوئی بم بھی اثر نہیں کر سکتا۔ لیکن میرے حساب سے ایران کو امریکی جنرل مارٹن ڈیمپسی کی یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ امریکہ نے اگر اس کے جوہری پروگرام پر حملہ کیا تو ایران کا یہ جوہری اثاثہ بالکل ختم ہو جائے گا۔ امریکہ کو یقین ہے کہ ابھی تک ایران نے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے شروع نہیں کئے۔ ابھی ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے لئے راہ ہموار کر رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی امریکہ اور یورپی یونین سلامتی کونسل کی وساطت سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کے لئے سفارتی اور معاشی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم امریکہ ایران کی ایٹمی تگ و دو سے غافل بھی نہیں ہے۔
    for more detail visit
    Source Code
    Last edited by karwanpak; 15-07-2014 at 11:37 AM.

  2. #2
    Join Date
    Jul 2014
    Location
    Karachi
    Age
    27
    Posts
    281
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    210 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    4

    Default

    Informative sharing
    sigpic19984 2 - اصولوں کے پہاڑے اور بے اصولے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •