Results 1 to 4 of 4

Thread: سوشل میڈیا کے کمالات

  1. #1
    Join Date
    Apr 2014
    Location
    Pakistan
    Age
    29
    Posts
    68
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    134 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default سوشل میڈیا کے کمالات

    تبصروں اور تجزئیے سے بھرپور تحریریں پڑھ کر ہمیں لکھنے والے پر رشک آتا ہے۔ کیونکہ انہیں شہرت کے ساتھ دولت بھی زیادہ ملتی ہے۔ جس پر ہم بھی سوچتے ہیں کہ ہم کچھ ایسا لکھیں، جو چند گھنٹوں یا دنوں بعد تحریر کے مطابق ہوجائے اور لوگ ہماری دور اندیشی کے تذکرے کرکرکے ہمیں شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچا دیں ، جن کی ہر کوئی بس خواہش ہی رکھتا ہے۔
    اس حوالے جس بھی مصنف ، کالم نگار اور دانشور سے فون پر یا ملاقات کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تو سب ہی کا متفقہ جواب تھا کہ “ تسلسل کے ساتھ گہرا مطالعہ اور اردگرد کے معاملات کا باریکی سے جائزہ “ اچھی تجزیاتی تحریر کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ت جزیاتی تحریر اور چند قدم آگے کی پیشن گوئی کیلئے بھی یہ کام کافی ریاضت مانگتا ہے۔ ہم سمیت بہت سارے لکھاری اس بات کو درست مانتے ہیں۔
    آپ میں سے ہر کوئی اسکرین پر میچ دیکھتے ہوئے یا کوئی پروگرام دیکھتے ہوئے کمنٹری کے انداز میں گفتگو تو کرتا ہی ہے۔ میسی نے کیا زبردست پاس دیا، نیمار نے کس کک پر گول ہوگا، شاہد آفریدی چھکا مارے گا، ثانیہ مرزا ٹینس کا میچ جیت جائیگی۔ میچ پاکستان ہی جیتے گا وغیرہ وغیرہ۔ ان میں سے چند باتیں سچ ہوتی ہیں تو کچھ غلط ۔ مگر وہ اس ہی محفل کا حصہ بن کر گم ہوجاتی ہیں۔ اور آپ کو درست باتوں پر وہ پذیرائی نہیں ملتی جس کے آپ حقدار ہیں۔
    مگر جو لوگ سوشل میڈیا سے وابستہ سے ہیں ، اور پیشن گوئی کے معاملے میں خود کو مشہور بنانا چاہتے ہیں، وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرنے ان کی مشکل آسان کردی ہے۔ ہم ویب سائٹ کی تشہیر نہیں کررہے ہیں، کیونکہ جن لوگوں کے فیس بک پر اکاؤنٹس ہیں ،ان کی بڑی تعداد پہلے ہی ٹو ئٹر سے وابستہ ہے۔ ہم تو صرف انہیں یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ کرکٹ ، ہاکی ، فٹ بال ، بیڈ منٹن سمیت تمام کھیلوں کے دوران اپنی سچی پیشن گوئیوں کا ڈھنڈورا پیٹ سکتے ہیں۔ اور غلط آرا کو مٹا بھی سکتے ہیں۔ جس سے آپ کی تمام آرا درست ہی نظر آئیں گی ۔اور آپ کے سارے دوست انہیں درست پیشن گوئی مان لیں گے ۔ بس اس کیلئے زرا سی تکنیک کا استعمال کرنا ہوگا ۔
    for more detail visit
    Karwan News

  2. #2
    Join Date
    Feb 2009
    Location
    Islamabad
    Age
    28
    Posts
    3,595
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    248 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474848

    Default

    nyc idea...bt itna tym kon de.......
    **HAPPY RAMZAN KAREEM**



  3. #3
    °Têhrêêr°'s Avatar
    °Têhrêêr° is offline .·★ ƒяɨ€ɲď ๏ƒ ɲąţµя€ ★.·´
    Join Date
    May 2014
    Location
    ●♥forest♥●
    Age
    24
    Posts
    3,439
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1546 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    7

    Default

    Hmnmnm sahi hy
    I aM sTrOnG bEaCaUsE I DePeNdS oN AllAh

  4. #4
    Join Date
    Aug 2014
    Location
    Karachi
    Posts
    126
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    12 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    4

    Default

    Quote Originally Posted by karwanpak View Post
    تبصروں اور تجزئیے سے بھرپور تحریریں پڑھ کر ہمیں لکھنے والے پر رشک آتا ہے۔ کیونکہ انہیں شہرت کے ساتھ دولت بھی زیادہ ملتی ہے۔ جس پر ہم بھی سوچتے ہیں کہ ہم کچھ ایسا لکھیں، جو چند گھنٹوں یا دنوں بعد تحریر کے مطابق ہوجائے اور لوگ ہماری دور اندیشی کے تذکرے کرکرکے ہمیں شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچا دیں ، جن کی ہر کوئی بس خواہش ہی رکھتا ہے۔
    اس حوالے جس بھی مصنف ، کالم نگار اور دانشور سے فون پر یا ملاقات کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تو سب ہی کا متفقہ جواب تھا کہ “ تسلسل کے ساتھ گہرا مطالعہ اور اردگرد کے معاملات کا باریکی سے جائزہ “ اچھی تجزیاتی تحریر کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ت جزیاتی تحریر اور چند قدم آگے کی پیشن گوئی کیلئے بھی یہ کام کافی ریاضت مانگتا ہے۔ ہم سمیت بہت سارے لکھاری اس بات کو درست مانتے ہیں۔
    آپ میں سے ہر کوئی اسکرین پر میچ دیکھتے ہوئے یا کوئی پروگرام دیکھتے ہوئے کمنٹری کے انداز میں گفتگو تو کرتا ہی ہے۔ میسی نے کیا زبردست پاس دیا، نیمار نے کس کک پر گول ہوگا، شاہد آفریدی چھکا مارے گا، ثانیہ مرزا ٹینس کا میچ جیت جائیگی۔ میچ پاکستان ہی جیتے گا وغیرہ وغیرہ۔ ان میں سے چند باتیں سچ ہوتی ہیں تو کچھ غلط ۔ مگر وہ اس ہی محفل کا حصہ بن کر گم ہوجاتی ہیں۔ اور آپ کو درست باتوں پر وہ پذیرائی نہیں ملتی جس کے آپ حقدار ہیں۔
    مگر جو لوگ سوشل میڈیا سے وابستہ سے ہیں ، اور پیشن گوئی کے معاملے میں خود کو مشہور بنانا چاہتے ہیں، وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرنے ان کی مشکل آسان کردی ہے۔ ہم ویب سائٹ کی تشہیر نہیں کررہے ہیں، کیونکہ جن لوگوں کے فیس بک پر اکاؤنٹس ہیں ،ان کی بڑی تعداد پہلے ہی ٹو ئٹر سے وابستہ ہے۔ ہم تو صرف انہیں یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ کرکٹ ، ہاکی ، فٹ بال ، بیڈ منٹن سمیت تمام کھیلوں کے دوران اپنی سچی پیشن گوئیوں کا ڈھنڈورا پیٹ سکتے ہیں۔ اور غلط آرا کو مٹا بھی سکتے ہیں۔ جس سے آپ کی تمام آرا درست ہی نظر آئیں گی ۔اور آپ کے سارے دوست انہیں درست پیشن گوئی مان لیں گے ۔ بس اس کیلئے زرا سی تکنیک کا استعمال کرنا ہوگا ۔
    for more detail visit
    Karwan News

    بات دراصل یہ کہ آپ اپنا جتنا بھی وقت نکال لیں لیکن جب تک آپ کے اپنے اندر لکھنے لکھانے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوگی اس وقت تک آپ کچھ نہیں کرسکتے لکھاری بنا نہیں جاتا بلکہ اس کے اندر قدرتی پیاس ہوتی ہے بس موقع ملنے کی صورت میں آپ کے اندر کا رائٹر جو کہ سویا ہوتا ہے جاگ اٹھتا ہے اور پھر جب کاغذ کے قرطاس پر آپ کا قلم چلنے لگتا ہے تو تحریر خود بخود بننے لگتی ہے اور الفاظ خود ہی سطروں پر اس پانی کی طرح بہتے چلے جاتے ہیں جیسے سب کچھ بہا کر لے جائے اور یوں آپ ایک شاندار اور بہترین تحریر کے خالق بن چکے ہوتے ہیں

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •