Results 1 to 5 of 5

Thread: Waqia Jung e Uhad (٧ شوال - واقعہ جنگِ اُحد)

  1. #1
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    exclaim Waqia Jung e Uhad (٧ شوال - واقعہ جنگِ اُحد)


    ٧ شوال - واقعہ جنگِ اُحد


    Waqia Jung-e-Uhad


    جنگِ اُحد

    سن 3ھ کاسب سے بڑا واقعہ ''جنگ ِ اُحد'' ہے۔ ''احد'' ایک پہاڑ کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تقریباً تین میل دور ہے۔ چونکہ حق و باطل کا یہ عظیم معرکہ اسی پہاڑ کے دامن میں درپیش ہوااسی لئے یہ لڑائی ''غزوهٔ اُحد'' کے نام سے مشہور ہے اور قرآن مجید کی مختلف آیتوں میں اس لڑائی کے واقعات کا خداوند عالم نے تذکرہ فرمایا ہے۔


    تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میدان جنگ میں

    مشرکین تو۱۲شوال ۳ ھ بدھ کے دن ہی مدینہ کے قریب پہنچ کر کوہِ اُحدپر اپنا پڑاؤ ڈال چکے تھے مگر حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ۱۴ شوال۳ھ بعد نماز جمعہ مدینہ سے روانہ ہوئے۔ رات کو بنی نجار میں رہے اور ۱۵ شوال ہفتہ کے دن نماز فجر کے وقت اُحد میں پہنچے۔


    حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت

    ''وحشی'' جو ایک حبشی غلام تھااور اس کا آقا جبیر بن مطعم اس سے وعدہ کر چکا تھاکہ تو اگر حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو قتل کر دے تومیں تجھ کو آزاد کر دوں گا۔ وحشی ایک چٹان کے پیچھے چھپا ہوا تھااور حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تاک میں تھاجوں ہی آپ اس کے قریب پہنچے اس نے دور سے اپنا نیزہ پھینک کر مارا جو آپ کی ناف میں لگا۔ اور پشت کے پار ہو گیا۔ اس حال میں بھی حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تلوار لے کر اس کی طرف بڑھے مگر زخم کی تاب نہ لا کر گر پڑے اور شہادت سے سرفراز ہوگئے۔


    شہادتِ حضرت حنظلہ

    ابو عامر راہب کفار کی طرف سے لڑ رہا تھا مگر اس کے بیٹے حضرت حنظلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پرچم اسلام کے نیچے جہاد کر رہے تھے۔ حضرت حنظلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجیے میں اپنی تلوار سے اپنے باپ ابو عامر راہب کا سرکاٹ کر لاؤں مگرحضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی رحمت نے یہ گوارا نہیں کیا کہ بیٹے کی تلوار باپ کا سرکاٹے۔حضرت حنظلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس قدر جوش میں بھرے ہوئے تھے کہ سرہتھیلی پر رکھ کر انتہائی جان بازی کے ساتھ لڑتے ہوئے قلب لشکر تک پہنچ گئے اور کفار کے سپہ سالارابو سفیان پر حملہ کر دیا اور قریب تھا کہ حضرت حنظلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تلوار ابو سفیان کا فیصلہ کر دے کہ اچانک پیچھے سے شداد بن الاسود نے جھپٹ کر وار کو روکااور حضرت حنظلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو شہید کردیا۔


    ناگہاں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا

    کفار کی بھگدڑ اور مسلمانوں کے فاتحانہ قتل وغارت کا یہ منظر دیکھ کر وہ پچاس تیر انداز مسلمان جو درہ کی حفاظت پر مقرر کئے گئے تھے وہ بھی آپس میں ایک دوسرے سے یہ کہنے لگے کہ غنیمت لوٹو،غنیمت لوٹو،تمہاری فتح ہو گئی۔ ان لوگوں کے افسرحضرت عبداﷲ بن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر چند روکا اورحضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان یاد دلایا اور فرمانِ مصطفوی کی مخالفت سے ڈرایا مگر ان تیر انداز مسلمانوں نے ایک نہیں سنی اور اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہو گئے۔ لشکر کفار کا ایک افسر خالدبن ولید پہاڑ کی بلندی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔جب اس نے دیکھا کہ درہ پہرہ داروں سے خالی ہو گیا ہے فوراً ہی اس نے درہ کے راستہ سے فوج لا کر مسلمانوں کے پیچھے سے حملہ کر دیا۔ حضرت عبداﷲ بن جبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے چند جان بازوں کے ساتھ انتہائی دلیرانہ مقابلہ کیامگریہ سب کے سب شہید ہو گئے۔ اب کیا تھا کافروں کی فوج کے لئے راستہ صاف ہو گیاخالد بن ولید نے زبردست حملہ کر دیا۔ یہ دیکھ کر بھاگتی ہوئی کفارِ قریش کی فوج بھی پلٹ پڑی۔مسلمان مال غنیمت لوٹنے میں مصروف تھے پیچھے پھر کر دیکھا تو تلواریں برس رہی تھیں اورکفار آگے پیچھے دونوں طرف سے مسلمانوں پر حملہ کر رہے تھے اور مسلمانوں کا لشکر چکی کے دو پاٹوں میں دانہ کی طرح پسنے لگا اور مسلمانوں میں ایسی بدحواسی اور ابتری پھیل گئی کہ اپنے اور بیگانے کی تمیز نہیں رہی۔ خود مسلمان مسلمانوں کی تلواروں سے قتل ہوئے۔ چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے والدحضرت یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خودمسلمانوں کی تلوارسے شہید ہوئے۔ حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چلاتے ہی رہے کہ ''اے مسلمانو! یہ میرے باپ ہیں،یہ میرے باپ ہیں۔'' مگر کچھ عجیب بدحواسی پھیلی ہوئی تھی کہ کسی کو کسی کا دھیان ہی نہیں تھا اور مسلمانوں نے حضرت یمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا۔


    حضرت سیِّدُنا مصعب بن عمیر بھی شہید:پھر بڑا غضب یہ ہوا کہ لشکر اسلام کے علمبردار حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر ابن قمیہ کافر جھپٹا اور ان کے دائیں ہاتھ پراس زور سے تلوار چلا دی کہ ان کا دایاں ہاتھ کٹ کر گر پڑا ۔اس جاں باز مہاجر نے جھپٹ کر اسلامی جھنڈے کو بائیں ہاتھ سے سنبھال لیامگر ابن قمیۂ نے تلوار مار کر ان کے بائیں ہاتھ کو بھی شہید کر دیا دونوں ہاتھ کٹ چکے تھے مگر حضرت عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے دونوں کٹے ہوئے بازوؤں سے پرچم اسلام کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے کھڑے رہے اور بلند آواز سے یہ آیت پڑھتے رہے کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنۡ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ؕ( آل عمران:۱۴۴)(ترجمہ کنزالایمان: اور محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)توایک رسول ہیں ان سے پہلے اوررسول ہوچکے۔)پھرابن قمیہ نے ان کو تیر مار کر شہید کر دیا۔


    شہادتِ حضرت سیِّدُنا انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

    حضرت سیِّدُنا اَنَس بن نَضْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ثابت قدمی ونصرتِ الٰہی سے قوت و تائید حاصل تھی ۔ جنگِ بد ر میں کسی وجہ سے حاضر نہ ہوسکے تھے لیکن جنگِ اُحد میں شرکت فرمائی اورمنصب شہادت پر فائز ہوئے اور خوشبوؤں سے معطر و مہکتے رہے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے اعضاء، راہِ خدامیں قربان کر کے آخرت کی کامیابیاں پائیں۔(اللہ والوں کی باتیں،ج۱، ص۲۳۷)


    شہادتِ حضرت سیِّدُنا ثابت بن دحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ

    حضرتِ سیِّدُنا ثابت بن دحداح رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی لشکر کفار پر بھوکے شیروں کی طرح حملہ آور ہو ئے اور آخر خالد بن ولید کے نیزہ سے جام شہادت نوش کر لیا۔


    زیاد بن سکن کی شجاعت اورشہادت

    ایک مرتبہ کفار کا ہجوم حملہ آور ہوا تو سرور ِعالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''کون ہے جو میرے اوپر اپنی جان قربان کرتا ہے؟'' یہ سنتے ہی حضرت زیاد بن سکن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پانچ انصاریوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھے اور ہر ایک نے لڑتے ہوئے اپنی جانیں فدا کر دیں۔ حضرت زیاد بن سکن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ زخموں سے لاچار ہو کر زمین پر گر پڑے تھے مگرکچھ کچھ جان باقی تھی،حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کی لاش کو میرے پاس اٹھا لاؤ،جب لوگوں نے ان کی لاش کو بارگاہ رسالت میں پیش کیاتو حضرت زیاد بن سکن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کھسک کر محبوبِ خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں پراپنامنہ رکھ دیااوراسی حالت میں ان کی روح پروازکرگئی۔


    کھجور کھاتے کھاتے جنت میں

    اس گھمسان کی لڑائی اور مار دھاڑ کے ہنگاموں میں ایک بہادر مسلمان کھڑا ہوا،نہایت بے پروائی کے ساتھ کھجوریں کھا رہا تھا۔ ایک دم آگے بڑھااور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اگر میں اس وقت شہید ہو جاؤں تو میرا ٹھکانہ کہاں ہو گا؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو جنت میں جائے گا ۔وہ بہادر اس فرمان بشارت کو سن کر مست و بےخود ہو گیا۔ ایک دم کفار کے ہجوم میں کود پڑااور ایسی شجاعت کے ساتھ لڑنے لگا کہ کافروں کے دل دہل گئے۔ اسی طرح جنگ کرتے کرتے شہید ہو گیا۔


    لنگڑاتے ہوئے بہشت میں

    حضرت عمرو بن جموح انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لنگڑے تھے،یہ گھرسے نکلتے وقت یہ دعا مانگ کر چلے تھے کہ یااﷲ!عزوجل مجھ کو میدان جنگ سے اہل و عیال میں آنا نصیب مت کر،ان کے چار فرزند بھی جہاد میں مصروف تھے۔ لوگوں نے ان کو لنگڑا ہونے کی بنا پر جنگ کرنے سے روک دیا تو یہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر عرض کرنے لگے کہ یارسول اﷲ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مجھ کو جنگ میں لڑنے کی اجازت عطا فرمائیے،میری تمنا ہے کہ میں بھی لنگڑاتا ہوا باغِ بہشت میں خراماں خراماں چلا جاؤں۔ ان کی بے قراری اور گریہ و زاری سے رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا قلب مبارک متأثرہو گیااور آپ نے ان کو جنگ کی اجازت دے دی۔ یہ خوشی سے اچھل پڑے اور اپنے ایک فرزند کو ساتھ لے کر کافروں کے ہجوم میں گھس گئے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عمرو بن جموح رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ میدان جنگ میں یہ کہتے ہوئے چل رہے تھے کہ'' خدا کی قسم!میں جنت کا مشتاق ہوں۔'' ان کے ساتھ ساتھ ان کو سہارا دیتے ہوئے ان کا لڑکا بھی انتہائی شجاعت کے ساتھ لڑ رہا تھایہاں تک کہ یہ دونوں شہادت سے سرفراز ہو کر باغ بہشت میں پہنچ گئے۔ لڑائی ختم ہو جانے کے بعد ان کی بیوی ہند زوجہ عمرو بن جموح میدان جنگ میں پہنچی اور اس نے ایک اونٹ پر ان کی اور اپنے بھائی اور بیٹے کی لاش کو لاد کر دفن کے لئے مدینہ لانا چاہا تو ہزاروں کوششوں کے باوجود کسی طرح بھی وہ اونٹ ایک قدم بھی مدینہ کی طرف نہیں چلابلکہ وہ میدان جنگ ہی کی طرف بھاگ بھاگ کر جاتا رہا۔ ہند نے جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ ماجرا عرض کیاتو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بتا کیا عمرو بن جموح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گھر سے نکلتے وقت کچھ کہا تھا؟ ہند نے کہا کہ جی ہاں!وہ یہ دعا کرکے گھر سے نکلے تھے کہ ''یا اﷲ!عزوجل مجھ کو میدان جنگ سے اہل و عیال میں آنا نصیب مت کر۔ ''آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ اونٹ مدینہ کی طرف نہیں چل رہا ہے۔


    شہادتِ حضرتِ سیِّدُنا سعد بن الربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ

    حضرت سعدبن الربیع بن عمروانصاری خزرجی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیعۃ العقبہ اولیٰ اور بیعۃ العقبہ ثانیہ دونوں بیعتوں میں شریک رہے اور یہ انصار میں سے خاندان بنی الحارث کے سردار بھی تھے ۔زمانہ جاہلیت میں جبکہ عرب میں لکھنے پڑھنے کا بہت ہی کم رواج تھااس وقت یہ کاتب تھے ۔ یہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے انتہائی شیدائی اوربے حد جاں نثار صحابی ہیں۔ جنگ بدر میں نہایت شجاعت کے ساتھ کفار سے معرکہ آرائی کی۔جنگ احد میں بارہ کافروں کو ایک ایک نیزہ مارا اور جس کو ایک نیزہ مارا وہ مرکر ٹھنڈا ہوگیا ۔ پھر گھمسان کی جنگ میں زخمی ہوکر اسی جنگ احد میں ۳ھ میں شہید ہوگئے اورحضرت خارجہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک قبر میں دفن ہوگئے ۔


    شہداءے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم

    اس جنگ میں ستر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے جامِ شہادت نوش فرمایا جن میں چار مہاجر اور چھیاسٹھ انصار تھے۔ تیس کی تعداد میں کفار بھی نہایت ذلت کے ساتھ قتل ہوئے۔


    قبورِ شہداء کی زیارت

    حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شہداء اُحد کی قبروں کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے تھے ا ور آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا بھی یہی عمل رہا۔ ایک مرتبہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شہداء احد کی قبروں پر تشریف لے گئے تو ارشاد فرمایا کہ یااﷲ! تیرا رسول گواہ ہے کہ اس جماعت نے تیری رضا کی طلب میں جان دی ہے، پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت تک جو مسلمان بھی ان شہیدوں کی قبروں پر زیارت کے لئے آئے گا اور ان کو سلام کریگا تو یہ شہداء کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کے سلام کا جواب دیں گے۔


    چنانچہ حضرت فاطمہ خزاعیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ میں ایک دن اُحد کے میدان سے گزر رہی تھی حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی قبر کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا کہ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَاعَمَّ رَسُوْلِ اللہ(اے رسول اﷲعزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا !آپ پر سلام ہو) تو میرے کان میں یہ آواز آئی کہ وَعَلَیْکِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہٗ۔


    حیاتِ شہداء

    چھیالیس برس کے بعد شہداء اُحد کی بعض قبریں کھل گئیں تو ان کے کفن سلامت اور بدن تروتازہ تھے اور تمام اہل مدینہ اور دوسرے لوگوں نے دیکھا کہ شہداء کرام اپنے زخموں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور جب زخم سے ہاتھ اٹھایا تو تازہ خون نکل کر بہنے لگا۔


  2. #2
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    7,416
    Mentioned
    504 Post(s)
    Tagged
    5438 Thread(s)
    Thanked
    359
    Rep Power
    874041

    Default

    Jazak ALLAH Khair...

    bohat hi comprehensive maloomaat farahim kii hay aap nay, iss waqayie say waaqif tou tha hii aur uss jagah ka bhi visit kar chuka hoon jahan per yeh maarka hua aur uss jaga ka bhi jahan say Mulsim forces MAdina say aayii aur Kuffar ka lashkar makkah say aaya....!

  3. #3
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    11,928
    Mentioned
    79 Post(s)
    Tagged
    2306 Thread(s)
    Thanked
    24
    Rep Power
    21474855

    Default

    Jazzak Allah khiar

  4. #4
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    Default

    uhad4 - Waqia Jung e Uhad  (٧ شوال - واقعہ جنگِ اُحد)

  5. #5
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    Default

    قبورِ شہداء کی زیارت :۔

    حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شہداء اُحد کی قبروں کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا بھی یہی عمل رہا۔ ایک مرتبہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شہداء احد کی قبروں پر تشریف لے گئے تو ارشاد فرمایا کہ یا اﷲ ! تیرا رسول گواہ ہے کہ اس جماعت نے تیری رضا کی طلب میں جان دی ہے، پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت تک جو مسلمان بھی ان شہیدوں کی قبروں پر زیارت کے لئے آئے گا اور ان کو سلام کرے گا تو یہ شہداء کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کے سلام کا جواب دیں گے۔

    چھیالیس برس کے بعد شہداء اُحد کی بعض قبریں کھل گئیں تو ان کے کفن سلامت اور بدن تر و تازہ تھے اور تمام اہل مدینہ اور دوسرے لوگوں نے دیکھا کہ شہداء کرام اپنے زخموں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور جب زخم سے ہاتھ اٹھایا تو تازہ خون نکل کر بہنے لگا۔ (مدارج النبوة ج۲ ص۱۳۵)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •