Results 1 to 2 of 2

Thread: israeeliiiii

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default israeeliiiii


    یہودی کی تاریخ درندگی ، انسان کُشی ، مکاری ، عیاری ، فریب کاری اور بے حیائی کی بڑی لمبی داستان ہے ۔ یہودی فلسطین کو دو ہزار سال سے اپنا گھر کہہ رہے تھے ۔ اس " گھر " میں وہ آگئے تو انہوں نے وہاں سے فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی نکال باہر پھینکا ۔ پھر جون ١٩٦٧ء میں انہوں نے بیت المقدس ( یروشلم ) پر قبضہ کرکے ١٩٦٩ء میں مسجدِ اقصیٰ کو آگ لگائی اور خود ہی بجھادی ۔ اس کے بعد انہوں نے اسلام کی عظمت کے ایک تاریخی نشان مسجدِ ابراہیم کو یہودیوں کی عبادت گاہ بنا کر اس کی مسجد کی حیثیت ختم کردی ۔ لبنان پر حملے سے پہلے یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کھودنی شروع کردی تھیں ۔ یہ بھی ان کا پرانا عہد ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کو مسمار کرکے وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کریں گے ۔اسرائیل کے معنی ہیں مردِ خدا ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ۔ ان کی نسل بنی اسرائیل کہلائی ۔ حضرت یعقوب کے چوتھے بیٹے کا نام یہودہ تھا ۔ فلسطین کے علاقے یہودہ میں اس چوتھے بیٹے اور بن یامین کے قبائل کی حکمرانی تھی ۔ یہ قبائل یہودی کہلانے لگے اور باقی قبائل بنی اسرائیل ۔ حضرت یعقوب کنعان کے باشندے تھے ۔حضرت یوسف نے اپنے والد بزرگوار اور تمام تر قبیلے کو مصر بلالیا جہاں انہیں عزت و احترام سے رکھا گیا ۔ یہ قبائل چار سو سال تک مصر میں رہے ۔ اس طویل مدت میں وہ قبائل سے ایک طاقتور قوم بن گئے جس سے فرعونِ مصر خطرہ محسوس کرنے لگا ۔ اس قوم کو ختم کرنے کے لیے فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کے قتلِ عام کا حکم دے دیا ۔حضرت موسیٰ اس دور میں پیدا ہوئے ۔ خدانے انہیں بچا لیا اور پیغمبری عطا کی ۔ طور کی وادیوں سے واپس آکر حضرت موسیٰ نے فرعونِ مصر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلیوں کو مصر سے نکل جانے کی اجازت دیدے ۔ یہودیوں کی روایت کے مطابق حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل نے جو شواکی زیرِ کمان ( مصر سے آکر ) فلسطین کو فتح کیا اور وہاں کے باشندوں کو قتل اور بعض کو جلاوطن کر دیا ۔ بیشتر مورخین یہودیوں کی اس روایت سے اتفاق نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل فلسطین کے باشندوں کو کلی طور پر تہہ تیغ نہیں کر سکے تھے ۔ ایچ-جی -ویلز نے اپنی کتاب The outline of History میں لکھا ہے کہ عبرانی یعنی بنی اسرائیل موعودہ سر زمین Promised land کو کسی بھی وقت مکمل طور پر فتح نہ کر سکے تھے ۔ دیگر کئی دستاویزات اور انجیل سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطینی جنوب کے زر خیز علاقوں پر قابض رہے اور شمال میں کنعانی اور فونیشینن قبائل نے اسرائیلیوں کے پاؤں نہ جمنے دیئے ۔بہر حال یہ ثبوت بڑا صاف ملتا ہے کہ بنی اسرائیل نے جو علاقے فتح کر لیے وہاں کے باشندوں پر انہوں نے رحم کرنا گناہ سمجھا ۔ ان باشندوں کو قتل کرنا اور ان کی کھیتیوں پر قبضہ کر لینے کو بنی اسرائیل خدائے یہودہ کی خوشنودی سمجھتے تھے ۔حضرت داود اور حضرت سلیمان آل اسرائیل کے بادشاہ اور پیغمبر بنے ۔ اسرائیل کے پرچم پر جو ستارہ ہے اسے وہ داود کا ستارہ Star of David کہتے ہیں ۔ گیارہویں صدی قبل مسیح میں حضرت داود نے پہلی بار یروشلم کا دار ا لحکومت بنایا ۔ دسویں صدر قبل مسیح میں حضرت سلیمان نے بیت المقدس میں پہلا ہیکل Temple تعمیر کیا ۔ یہ بنی اسرائیل کے عروج کا زمانہ تھا ۔ پھر زوال کی داستان بڑی ہی طویل اور عبرت ناک ہے ۔ ان کے اپنے اعمال اور خصائلِ بد ان کی تباہی کا باعث بنے ۔ اس کے متعلق قرآن میں واضح فرمان ملتا ہے :" اور دیکھو ، ہم نے کتاب ( تورات ) میں بنی اسرائیل کو اس فیصلے کی خبر دے دی تھی کہ تم ملک میں ضرور دو بار خرابی پھیلاؤ گے اور بہت ہی سخت درجے کی سر کشی کرو گے ۔ " ( القرآن : ١٤ /١٧)تورات میں ان تباہیو ں کا ذکر بڑی تفصیل سے آیا ہے ۔ یہ تباہیاں ٧٢١ قبل مسیح میں اشوریوں اور بابل کے شاہ بخت نصر کے ہاتھوں بپاہوئی تھیں ۔ یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بج گئی اور بنی اسرائیل کی نہ صرف حکمرانی کے پر خچے اڑے بلکہ وہ بحیثیت قوم فرد فرد ہوکے بکھر گئے اور ان کی قومیت ریزہ ریزہ ہوکر جیسے آندھی میں اڑ گئی ۔تقریباً ساٹھ سال بعد شاہِ فارس نے دریائے فرات اور بحیرئہ روم کا درمیانی علاقہ فتح کرلیا اور بکھرے ہوئے اسرائیلیوں کو اجازت دے دی کہ وہ فلسطین واپس چلے جائیں ۔ یہ اجازت بھی دے دی کہ وہ یروشلم کو از سر نو آباد کرکے ہیکل تعمیر کر لیں ۔اسرائیلی ایک بار پھر یکجا اور آباد ہوگئے ۔ لیکن امن پسند نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ بسنے والی قوموں اور قبائل کو پریشان کرنے لگے ۔ اسرائیلی اپنے برے خصائل اور فتنہ پرور فطرت کے ہاتھوں مجبور تھے ۔ چنانچہ دوسروں کے لیے مصیبت بننے کی کوشش میں خود تباہ ہوگئے ۔





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    7,416
    Mentioned
    504 Post(s)
    Tagged
    5438 Thread(s)
    Thanked
    359
    Rep Power
    874041

    Default

    bohat hi informative article hay... woh dinn bhi door nahin kay yeh dosroon ko takleef dainay main ek baar phir naist-o-nabood hojayain gian INSHALLAH

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •