Results 1 to 4 of 4

Thread: History of Key & Lock of Kaaba Sharif (قفلِ خانہ کعبہ)

  1. #1
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    exclaim History of Key & Lock of Kaaba Sharif (قفلِ خانہ کعبہ)

    40126 02 - History of Key & Lock of Kaaba Sharif (قفلِ خانہ کعبہ)



    خانہ کعبہ کی طرح خدا کے اس مقدس گھر سے نسبت رکھنے والی دیگر تمام معمولی چیزوں کو بھی غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ ان میں خانہ کعبہ کی کنجی بھی شامل ہے۔ کعبہ شریف کی کُنجی 1400 سال سے مکہ مکرمہ کے معروف آل شیبی قبیلے کے پاس بطور امانت رکھی گئی ہے۔ اسلامی تاریخی کتب میں صرف ایک واقعہ ملتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی دور میں آل شیبی سے خانہ کعبہ کی کلید چوری کی گئی تھی لیکن اسے دوبارہ حاصل کر لیا گیا تھا۔ یہ امانت آج کل آل الشیبی کے السدنہ خاندان کے پاس ہے۔


    قفل و کلید کعبہ کی تاریخ


    ایک روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت عثمان بن طلحہ کے دادا کو خانہ کعبہ کی چابی عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’اے بنی طلحہ! یہ (چابی) اللہ تعالیٰ کی جانب سے امانت ہے اپنے پاس رکھو۔ یہ امانت (کلید) ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی اور آپ سے اسے چھیننے والا ظالم ہو گا‘‘۔


    الشیبی خاندان کے موجودہ سربراہ عبدالقادر الشیبی نے خانہ کعبہ کی کنجی کی حفاظت کے بارے میں بتایا کہ ’’ کلید کعبہ کو خانہ کعبہ کے غلاف کے کپڑے سے بنی ایک سنہری تھیلی میں نہایت محفوظ مقام پر رکھا گیا ہے، جہاں سے اس کے گم ہونے کا کوئی احتمال نہیں ہے‘‘۔


    تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان خلفاء، سلاطین، دور عباسی، ممالیک اور خلافت عثمانیہ کے ادوار میں خانہ کعبہ کی کنجی یکے بعد دیگرے ایک سے دوسری حکومت کو سپرد کی جاتی رہی ہے، تاہم اس کی اصل ملکیت صرف الشیبی خاندان ہی کے پاس رہی۔


    خانہ کعبہ کے درو دیوارکی طرح کے اس کے قفل اور کنجیوں پر بھی خوبصورت عربی خطاطی میں آیات سے نقش و نگاری کی جاتی رہی ہے۔ الحرمین الشریفین کی وسعت کے دوران اس کے دروازوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور ہر دروازے کا تالا اور اس کی کنجیاں تیار کی گئیں۔ یہ تالے لوہے سے تیار کی جاتے۔ خانہ کعبہ کے آخری دروازے کا تالا اور اس کی کنجی خلافت عثمانیہ کے دور میں 1309 ھ میں تیاری کیے گئے، شاہ خالد بن عبدالعزیز آل سعود مرحوم کے حکم پر 1398ھ میں خانہ کعبہ کے مرکزی دروازے کا تالا تبدیل کیا گیا۔ حال ہی میں غسل کعبہ کے بعد اسی تالے کی جگہ ایک سنہری قفل لگایا گیا۔


    صاحب ثروقت لوگ خانہ کعبہ کی پرانی چابیوں اور اس کے تالوں کو بھاری رقوم کے عوض خرید کرتے اور انہیں تبرک کے طور پر اپنے گھروں میں رکھتے رہے ہیں۔ کعبۃ اللہ کے ایک پرانے تالے اور اس کی چابی کی عام نیلامی کی گئی جو تقریبا 18ملین ڈالرسے زیادہ کی رقم میں فروخت ہوئے تھے۔ اسلامی تاریخ میں مقدسات سے متعلقہ کسی چیز کی یہ سب سے بڑی رقم قرار دی جاتی ہے۔


    رپورٹس کے مطابق خانہ کعبہ کی مجموعی طور پر 58 پرانی کنجیاں آج بھی دستیاب ہیں جو مختلف عجائب گھروں میں رکھی گئی ہیں۔ ان میں 54 چابیاں ترکی کے شہر استنبول کے ’’توپ کاپی‘‘ میوزیم میں ہیں، دو چابیاں فرانس کے نہاد السعید
    میوزیم میں جبکہ ایک قاہرہ کے ایک عجائب خانے میں ہے۔



  2. #2
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default

    very nice information
    Jazzak Allah

  3. #3
    Join Date
    May 2013
    Location
    pakistan
    Posts
    5,720
    Mentioned
    128 Post(s)
    Tagged
    7184 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    644255

    Default

    nice t0 kn0w per jab k0i president jata tu us k0 khana kaba dikhne k0 chabi un se mangi jati???

  4. #4
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default

    جزاک اللہ خیر ۔۔۔۔

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •