کراچی: متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے جو تقریر کی ہے اس کے بعد کوئی جواز نہیں رہ جاتا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر چلا جاسکے جبکہ لفظ ’’مہاجر‘‘ کو گالی دینے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 1992 میں ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی آپریشن میں ہزاروں لاشوں کے تحفے دیئے گئے، ہمارے درجنوں کارکن لاپتا کردیئے گئے لیکن اگر ہمیں لاشوں پر سیاست کرنی ہوتی تو پیپلز پارٹی ہمیں 100 برس کا سامان دے چکی ہے ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں تھی تاہم ہمارے قائد اور رہبر نے ایک ایسے وقت پر پاکستان کے لئے محبتوں کے سفر کو جاری رکھنے اور نفرت کے بجائے محبت کی سیاست جاری رکھنے کے لئے مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کیا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ الطاف حسین نے کئی بار کی دھمکیوں کے باوجود شہری اور دیہی سندھ میں رہنے والوں کے درمیان پائی جانے والی خلش کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود ہمیں ہمارے تعاون اور محبت کے پیغام کے بدلے میں زیادتیاں، نفرتیں اور ناانصافیاں ملیں تاہم اب پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے اور آج ہم یہ بتانا چاہتے ہیں ہم نے اپنے حصے کا سفر طے کرلیا ہے، ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کے سندھی وزیر اعظم کو ووٹ دے کر وزیر اعظم ہاؤس پہنچایا لیکن جب بات ہمارے قائد پر آجائے تو کوئی کارکن اس پر سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم 1997 میں پورے ملک کو ساتھ لے کر چلنے کے لئے متحدہ قومی موومنٹ بنی لیکن اس لئے نہیں کہ کوئی مہاجر لفظ کو گالی دے اور ہمارے قائد کو برا بھلا کہے۔

رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر نے کہا کہ عید کے روز بلاول بھٹو زرداری نے بغیر کسی وجہ کے الطاف حسین کا نام لے کر کہا کہ آپ اپنے لوگوں کو قابو کریں ورنہ ہم آپ کا جینا حرام کردیں گے، اس وقت ہر کارکن کے سینے میں غصہ بھرا ہوا تھا لیکن ہم قائد کے فرمان پر رک گئے، پھر 2 روز قبل خورشید شاہ نے لفظ ’’مہاجر‘‘ کو گالی کہا جس پر کسی طرح سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے جو تقریر کی ہے اس کے بعد کوئی جواز نہیں رہ جاتا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر چلا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پچھلی زیادتیوں کے جانب نہیں جاتے جو پیپلز پارٹی نے ہمارے ساتھ کیں لیکن پچھلے 5 سالوں میں پیپلز پارٹی نے تعصب اور نفرت کا جو مظاہرہ کیا ہے اس کے بعد ہمیں ان کی نیت پر کوئی شک وشبہہ نہیں ہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی ملک کو 70 فیصد اور صوبے کے شہری علاقے سندھ حکومت کو 95 فیصد ریونیو دیتے ہیں لیکن ترقیاتی فنڈز میں کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ کراچی کے شہریوں کو سرکاری محکموں میں نوکریاں تک نہیں دی جاتیں، 18ویں ترمیم کے بعد پیپلز پارٹی نے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بجائے اس پر قبضہ کرلیا، ان ہی وجوہات کے باعث آج سندھ ون اور ٹو کی بات ہورہی ہے اور اب پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم جمہوریت کے خلاف قدم اٹھارہے ہیں اور ملک کمزور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت جاگیرداروں اور وڈیروں پر مشتمل ہے اور ان کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں کہ صوبے میں تعلیم عام ہوسکے، عام انسان کو انصاف مل سکے لیکن ہم واضح کردیں کہ ہم متروکہ سندھ کے بلاشرکت وارث ہیں، ہم اپنا یہ حق لے کر رہیں گے اور صوبوں کے مطالبے سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر نے کہا کہ اگر موروثی حق کی بات کریں تو بھٹو کا وارث بھٹو ہوسکتا ہے زرداری نہیں، بلاول بمبینو سینما کا مالک ہوسکتا ہے لیکن پیپلز پارٹی کا نہیں، آج ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم کا جینا حرام کرنے کی بات کرنے والوں نے کیا اپنی ماں بے نظیر بھٹو، نانا ذوالفقار علی بھٹو اور بھٹو خاندان کے وارث مرتضیٰ علی بھٹو کے قاتلوں کا جینا حرام کیا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو بھی مہاجر لفظ کو گالی دینے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مہاجر لفظ کو گالی دینے والے خدا کے عذاب کا شکار ہوں گے اور اس کا جواب ہم آج نہیں دیں گے بلکہ اس کا جواب مہاجروں کے صوبے کا قیام ہوگا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس ہمارے عزم کا آئینہ دار ہے کہ رابطہ کمیٹیوں کے تمام اراکین اور کارکن متحد ہیں اور واضح طور پر کہتے ہیں کہ آج سے ہم سندھ حکومت کے کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہوں گے۔ پریس کانفرنس کے آخر میں ایم کیو ایم کے کارکنان نے ’’گو زرداری گو‘‘ اور ’’گو بلاول گو‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔