لاہور (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول پر فی لیٹر 34 روپے وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ایک لٹر پٹرول کی اصل قیمت 70.04 روپے ہے اور حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع، ڈیلرز کمشن اور آئی ایف ای ایم چارجز کی مد میں 33.58 روپے وصول کئے جانے کے باعث ایک لٹر پٹرول کی زیادہ سے زیادہ ایکس ڈپو قیمت 103.62 روپے ہے جبکہ صارفین کو ایک لیٹر پٹرول 104.04 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ حکومت اس وقت ایک لٹر پٹرول پر 10 روپے پٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس کی مد میں 15.06 روپے وصول کررہی ہے، اگر پٹرولیم لیوی ختم کردی جائے تو صارفین کو براہ راست پٹرول کی قیمتوں میں 10 روپے کی بچت ہوگی۔ ماہرین کے مطابق 24 اکتوبر کو ایک بیرل تیل کی قیمت 81.98 ڈالر ہے جبکہ گزشتہ سال 27 اکتوبر کو ایک بیرل تیل کی قیمت 96.65 ڈالر تھی۔ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے اگر حکومت پٹرولیم قیمتوں میں عالمی منڈی کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے کمی کرے تو پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی ہوسکتی ہے جس سے مہنگائی پر قابو پانے میں بہت مدد ملے گی۔ اس وقت ایک لٹر ڈیزل پر 35 روپے کے لگ بھگ ٹیکس اور دیگر چارجز وصول کئے جارہے ہیں۔