Results 1 to 3 of 3

Thread: Muharram-Youm e Urs Baba Fareed Uddin Ganj Shakar Rehmatulahalleh

  1. #1
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    exclaim Muharram-Youm e Urs Baba Fareed Uddin Ganj Shakar Rehmatulahalleh

    حضرت شیخ العالم خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ​

    Shrine of Baba Fareed - Muharram-Youm e Urs Baba Fareed Uddin Ganj Shakar Rehmatulahalleh

    Bahishti Darwaza - Muharram-Youm e Urs Baba Fareed Uddin Ganj Shakar Rehmatulahalleh

    عظیم صوفی بزرگ بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ​ کا اصل نام مسعو د اور لقب فرید الدین تھا۔ آپ کا شمار برصغیر کے مُشہور بزرگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی شمع جلائی آپ ملتان کے ایک گائوں کوٹھی وال میں پیدا ہوئے آپ کا سلسلہ تینتیس ویں واسطے میںحضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے آپ کے دادا حضرت شیخ شعیب رحمۃ اللہ علیہ​ کو اللہ تعالی نے تین فرزند عنایت فرمائے
    ۔ خواجہ جمال الدین سلیمان
    ۔ خواجہ احمد
    ۔ خواجہ سعد حاجی
    خواجہ جمال الدین سلیمان رحمۃ اللہ علیہ​ حضرت بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ​ کے والد تھے جو نہایت عالم و فاضل اور دیندار بزرگ تھے ۔

    آپ کی والدہ ماجد بی بی قرسم خاتون خود ایک ولیۂ کاملہ اور مُلتان کے ایک ولّی کَامِل سید وہاج الدین خجوندی رحمۃ اللہ علیہ​ کی صاحِب زَادی تھیں اور آپ کی نگرانی میں بابا صاحب کی تعلیم وتربیت ہوئی۔ حضرت بی بی قرسم خاتون بھی نہایت عبادت گزار اور شب زندہ دار خاتون تھیں۔ اکثر تذکرہ نگاروں نے لکھا کہ وہ کثرتِ عبادت کی بدولت درجہ ولایت پر فائز تھیں۔

    حضرت خواجہ نظام الدین اولیا محبوب اولہی رحمۃ اللہ علیہ
    فرماتے ہیں کہ ایک رات بی بی قرسم خاتون نماز تہجد میں مشغول تھیں کہ ایک چور گھر میں گھس آیا۔ جونہی بی بی صاحبہ کی نظر اس پر پڑی تو وہ بینائی سے محروم ہوگیا ۔ اس پر اس نے گریہ وزاری شروع کردی اور کہنے لگا کہ جس نیک بخت کی بددعا سے میری بینائی سلب ہوئی ہے میں اس سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر میری بینائی دوبارہ مجھے جائے تو میں عمر بھر چوری نہ کروں گا۔
    بی بی صاحبہ کو اس کی فریاد اور گریہ زاری پر ترس آگیا اور انہوں نے بارگاہ الہی میں اس کی بینائی کے لیے دعا کی۔ چور کی بصارت عود کر آئی۔ اس وقت بی بی صاحبہ کے قدموں میں گر کر معافی اور رخصت ہوگیا۔
    اگلی صبح وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ حاضر خدمت ہوا اور اہل و عیال سمیت مشرف باسلام ہوگیا ۔ حضرت بی بی صاحبہ نے اس کا اسلامی نام عبداللہ رکھا۔ عبد اللہ قبول اسلام کے بعد کثرت مجاہدات و ریاضات کی بدولت درجہ ولایت پر پہنچا اور اسے خاندانِ خواجہ شعیب کی طرف سے “چاولے مشائخ“ کا لقب عطا ہوا۔ بعد میں قصبہ کھتوال اسی کے نام سے “چاولے مشائخ“ سے مشہور ہوگیا۔

    گنج شکر​

    گنج شکر کی وجہ تسمیہ کے بارے میں تذکرہ نگاروں نے مختلف روایات لکھی ہیں یہاں پر صرف تین روایتیں درج کی جاتی ہیں۔
    تاریخ فرشتہ میں مرقوم ہے کہ بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ
    کی والدہ ماجدہ بچپن میں نماز کی پابندی کرانے کے لئے ان کی جا نماز کے نیچے شکر کی پڑیا رکھ دیا کرتی تھیں اور ان سے فرماتی تھیں کہ جو نماز پڑھتے ہیں ، ان کی جا نماز کے نیچے سے روزانہ انکو شکر مل جاتی ہے ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ والدہ شکر کی پڑیا رکھنا بھول گئیں۔ کچھ دیر بعد انہیں یاد آیا تو گھبرا کر پوچھا : مسعود ! تم نے نماز پڑھی؟ بابا صاحبرحمۃ اللہ علیہ نے ادب سے جواب دیا : ہاں امی جان ! نماز پڑھ لی اور شکر بھی کھا لی ۔ یہ جواب سن کر انکی والدہ بڑی حیران ہوئیں اور سمجھ گئیں کہ اس بچے کی غیب سے مدد ہوئی ہے ۔ چناچہ اس وقت سے انہوں نے اپنے بچے مسعود کو گنج شکر کہنا شروع کردیا۔

    ابتدائی تعلیم​

    حضرت بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ ابھی کم سن تھے کہ ان کے والد ماجد نے وفات پائی اور ان کی تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری ان کی والدہ محترمہ کے سر پر آ پڑی ۔ وہ خود علم و فضل کے اعتبار سے بلند مقام رکتی تھیں ۔ انہوں نے نہایت توجہ سے اپنے لخت جگر کی پرورش اور تربیت کی ۔ بابا صاحب نے ابتدائی تعلیم کھتوال سے حاصل کی ۔ نہایت ذہین اور محنتی تھے ۔ جو سبق ایک دفعہ پڑھ لیتے ہمیشہ کے لیے ذہن نشین ہوجاتا۔

    بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ
    بچپن میں ہی نہایت اعلی اخلاق کے مالک تھے۔ بدتمیز اور شرارتی بچوں کے ساتھ نہ کھیلتے ۔ انکی والدہ کی تربیت کا یہ عالم تھا کہ کم سنی میں ہی نماز کے سخت پابند ہوگئے تھے۔ سات سال کی عمر میں انہوں نے تمام ابتدائی دینی کتب ختم کرلیں تو والدہ کو ان کی مزید تعلیم کی فکر ہوئی۔ کھتوال میں کوئی ایسا عالم نہ تھا جو آپ کو علوم متداولہ کی تکمیل کراسکتا۔ ملتان ان دنوں علم و دانش کا مرکز تھا ، وہاں بڑے بڑے نامور علما موجود تھے ، چناچہ بابا صاحب کی والدہ نے انہیں مزید تعلیم کے لیے ملتان بھیج دیا۔

    یہاںآپ مولانا منہاج الدین برنا ترمذی کے مدرسے میں داخل ہوگئے جو مسجد میں واقع تھا۔ یہیں آپ کی ملاقات اَپنے مُرشدِ کامل حَضرت قُطب الدین بَختیار کاکی
    رحمۃ اللہ علیہ سے ہوئی بعض تذکرہ نگاروں نے قیاسا لکھا ہے کہ قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ملتان میں بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے رسمی بیعت لی اور جب وہ تعلیم و سیاحت سے فارغ ہوکر دہلی آئے تو ان کے سر پر کلاہ چہار ترکی رکھی اور باقاعدہ اپنے حلقہ ارادت میں شامل فرمایا۔
    حضرت قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ جتنے روز ملتان مقیم رہے بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان کی صحبت سے مستفیذ ہوتے رہے ، جب قطب صاحب دہلی کے لئے روانہ ہونے لگے تو بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی ان کے ساتھ چل دیئے ۔ ابھی چند میل ہی چلے ہوں گے کہ قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا
    “میرے عزیر! ابھی کچھ مدت اور علم ظاہری کی تحصیل میں صرف کرو۔ فارغ ہوجاو تو میرے پاس آجانا۔ ان شااللہ اپنی مراد کو پہنچو گے“ بابا صاحب نے پیر و مرشد کے اس ارشاد کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا۔

    ملتان سے تکمیلِ علوم کے بعد انہوں نے مزید پانچ سال تعلیم کے لیے خطہ قندھار ، غزنی ، بغداد ، سیوستان اور بدخشاں وغیرہ میں گزارے اور پھر دہلی میں آئے۔ جہاں حضرت قطب صاحب
    رحمۃ اللہ علیہ کے آستانے پر حاضری دی۔ قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : “ خوب ہوا۔ تم اپنا کام پورا کرکے میرے پاس آئے“ بابا صاحب نے دیکھا کہ دہلی میں ہجوم مرداں کی وجہ سے یکسوئی میسر نہیں تو مرشدِ کامل کی اجازت سے ہانسی چلے گئے ، لیکن وہاں سے دہلی آتے جاتے رہے۔

    آپ کو ہانسی میں آئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت قطب عالم رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ بیدار ہوتے ہی دہلی روانہ ہوگئے۔ دہلی میں معلوم ہوا کہ پیر و مرشد نے وصال سے قبل اپنا خرقہ ، عصا، نعلین ، مصلی اور دیگر تبرکات حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کیے اور وصیت کی کہ میرا جانشین فرید الدین مسعود ہوگا اور یہ سب تبرکات اسی کو دے دیے جائیں۔

    بابا صاحب
    رحمۃ اللہ علیہ نے پیر و مرشد کے مزار اقدس پر حاضری دی ۔ بعد ازاں حضرت قظب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سب خلفا اور ارباب صحبت جو دہلی میں موجود تھے جمع ہوئے اور سب نے حضرت بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو قطب عالم رحمۃ اللہ علیہ کا جانشین تسلیم کیا۔ اسی محفل میں تمام تبرکات بابا صاحب کے سپرد کیے گئے۔
    دہلی میں بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مرشد گرامی کی خانقاہ میں قیام فرمایا۔ رات دن عبادت الہی میں مشغول رہتے اور صرف نماز جمعہ کے لیے حجرہ سے باہر تشریف لاتے۔ ایک جمعہ کو حجرہ سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک درویش باہر کھڑا ہے اس نے بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا " شیخ عالم ! ہانسی کے لوگ آپ کی جدائی میں ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں، کرم فرمائیے اور ہانسی کو پھر اپنے قدوم میمنت لزوم سے مشرف فرمائیے"
    بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے ہانسی جانے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا۔ اس سے لوگوں میں سخت اضطراب پیدا ہوا اور انہوں نے آپ سے دہلی ہی میں قیام کرنے کی درخواست کی ۔ لیکن بابا صاحب نے فرمایا:
    "دہلی کی نسبت ہانسی کو میری زیادہ ضرورت ہے ۔ اس لیے میرا وہاں جانا ضروری ہے"
    یہ سن کر لوگ خاموش ہوگئے اور بابا صاحب ہانسی تشریف لے گئے۔
    ہانسی میں ایک مدت تک قیام فرما رہے ۔

    بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ پاک پتن میں​

    ہانسی سے بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ
    کھتوال پہنچے اور اپنی والدہ ماجدہ کی خدمت میں رہنے لگے ، لیکن خلقت کا یہ عالم تھا کی ہر طرف سے ٹوٹی پڑتی تھی۔آپ طبعا عزلت پسند تھے ۔ جب ہجوم خلق سے بیزار ہوگئے تو ایک روز والدہ صاحبہ سے اجازت لے کر کھتوال سے چل پڑے ۔پھرتے پھراتے ایک غیر معروف قصبہ اجودھن میں پہنچے (اجودھن پاک پتن کا پرانا نام ہے) ۔ اجودھن ان دنوں جنگلوں سے گھرا ہوا اور حشرات الارض کا دل پسند مسکن تھا۔ قصبہ کے اطراف میں دور دور تک کفار اور مشرکین کی بستیاں تھیں۔

    بابا صاحب نے اپنے قیام کے لیے اس جگہ کو پسند فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک شب خواب میں آپ کے مرشد گرامی حضرت قطب العالم رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ فرید! اس قصبہ میں مستقل طور پر اقامت اختیار کرلو اور مخلوق خدا کو راہ حق کی طرف بلاو۔
    غرض اجودھن سے باہر مغرب کی سمت کریر کے ایک درخت کے نیچے بابا صاحب
    رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا مصلی بچھایا اور یاد الہی میں مشغول ہوگئے۔

    تنگ دستی کا علاج​

    حضرت بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ
    کے پاس کوئی شخص دینی یا دنیاوی مشکل لے کر آتا تو وہ اسے کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے۔ عام طور پر صبر کی تلقین فرماتے اور نماز پڑھنے کی ہدایت فرماتے۔ ایک روز ایک شخص نے حاضر خدمت ہوکر عرض کی کہ یا حضرت! میں بیحد تنگ دست ہوں۔ گھر میں عام طور فاقوں کی نوبت آجاتی ہے۔ آپ نے اسکے لیے دعا فرمائی اور پھر اسے ہدایت کی کہ ہر روز رات کو سنے سے پہلے سورہ جمعہ بڑھ لیا کرو۔

    وصال​

    ذوالحجہ 663 ھجری کے آخری دنوں میں بیماری نے شدت اختیار کی اور آپکو بے ہوشی کے دورے ہونے لگے۔ لیکن اس کے باوجود آپ کی کوئی نماز حتی کہ نفلی عبادت تک قضا نہ ہوئی اور وظائف و اوراد بھی وقت پر ادا ہوتے رہے۔ محرم 664 ھجری کی چار تاریخ کو دہلی سے آپ کے مخلص قدیم سید محمد کرمان پرسش احوال کے لیے پاک پتن آئے۔ اور وہ حجرے میں داخل ہوگئے اور بابا صاحب کے قدموں پر سر رکھ دیا ۔ بابا صاحب اور خوش ہوئے اور مولانا بدر الدین اسحاق سے فرمایا کہ جو تبرکات مجھے سلسلہ بہ سلسلہ اپنے حضرت سے پہنچے ہیں وہ نظام الدین محمد بدایونی کا حق ہے ، انکو پہنچا دینا۔

    بعد ازاں نماز مغرب آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی۔ عشا کی نماز آپ نے جماعت سے ادا کی ، پھر بے ہوش ہوگئے ۔ ہوش میں آنے کے بعد آپ نے سوال کیا : میں نے عشا کی نماز پڑھ لی ہے؟ عرض کی گئی جی ہاں۔ آپ نے فرمایا :
    ایک مرتبہ پھر پڑھ لوں۔ دوبارہ نماز عشا ادا کی تو پھر بے ہوش ہوگئے۔ ہوش میں آنے پر پھر یہ سوال کیا ۔ کہا گیا: آپ دو مرتبہ عشا کی نماز ادا پڑھ چکے ہیں ، فرمایا: ایک دفعہ اور پڑھ لوں ، ممکن ہے پھر موقع نہ ملے۔ یہ فرما کر آپ نے عشا کی نماز مع وتر ادا کی اور پھر تازہ وضو کیا۔ اس کے بعد سجدہ کیا اورسجدہ ہی میں ایک مرتبہ زور سے یاحی یا قیوم کہا اور جاں جان آفریں کے سپرد کردی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
    وصال سے چند منٹ پہلے پوچھا : نظام الدین دہلی سے آئے یا نہیں؟ کہا گیا ، جی نہیں۔ فرمایا کہ میں بھی اپنے شیخ کے انتقال کے وقت ان کے پاس موجود نہ تھا ، ہانسی میں تھا۔
    حضرت خواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ کو اطلاع ہوئی تو وہ پاک پتن آئے ۔ حضرت بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مزار شریف تعمیر کرایا اور اس اہتمام سے کہ ہر اینٹ پر ایک قرآن شریف ختم کیا۔

    بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء

    حضرت کے بے شمار خلفا تھے جن کا مکمل رجسٹر حضرت جمال الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تھا۔ بعض خلفا کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں


    حضرت خواجہ قطب شیخ جمال الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ


    ۔ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ


    ۔ حضرت مخدوم علاوالدین علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ


    ۔ حضرت شیخ بدر الدین اسحاق رحمۃ اللہ علیہ


    ۔ حضرت نصیر الدین متبنیٰ رحمۃ اللہ علیہ


    ۔ حضرت بدر الدین سلیمان رحمۃ اللہ علیہ


    ۔ سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رحمۃ اللہ علیہ
    Last edited by shaikh_samee; 30-10-2014 at 03:58 PM.

  2. #2
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    11,928
    Mentioned
    79 Post(s)
    Tagged
    2306 Thread(s)
    Thanked
    24
    Rep Power
    21474855

    Default

    Jazak Allah

  3. #3
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    Default

    بال کی کرامت


    شیخ المشائخ حضرت نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اجودھن میں حضرت بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت اقدس میں حاضر تھا کہ اس اثناءمیں آپ کی داڑھی مبارک سے ایک بال گرا، جو میں نے فوراً اٹھا لیا اور آپ سے عرض کی کہ اگر اجازت مرحمت فرمائیں تو اسے تعویز بنا لوں، حضرت بابا فرید گنج شکر نے اجازت دے دی، میں نے اس بال مبارک کو با اہتمام کپڑے میں باندھ کر محفوظ کر لیا اور دہلی میں جو کوئی بھی بیمار میرے پاس آتا اسے یہ تعویز اس شرط پر دیتا کہ وہ درست ہونے کے بعد اسے واپس لوٹا دے گا، میں نے جسے بھی یہ تعویز دیا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیشہ صحت یاب ہوا۔ ایک مرتبہ میرے عزیز دوست تاج الدین مینائی کا لڑکا سخت علیل ہوا اور وہ یہ مبارک تعویز کے لئے حاضر ہوئے لیکن حکم خدا سے تلاش کرنے کے باوجود بھی طاق میں رکھا، یہ تعویز مجھے نہ ملا اور تاج الدین کا صاحبزادہ انتقال کر گیا، کچھ عرصہ بعد ایک اور صاحب تعویز کے لئے آئے تو یہ تعویز وہیں طاق سے فوراً مل گیا چونکہ تاج الدین کے بیٹے کی قسمت میں شفا نہ تھی اسی لئے یہ مبارک تعویز وہاں سے گم ہو گیا اور بعد ازاں وہیں سے مل گیا۔


    مٹی سونا بن گئی


    آپ کے در سے کوئی سائل خالی ہاتھ واپس نہ جاتا، آپ ہر ایک کی حاجت پوری کرتے اور حسن سلوک سے پیش آتے، ایک مرتبہ ایک خاتون حاضر ہوئی کہ یاحضرت میری تین جوان بیٹیاں ہیں، جن کی شادی کرنی ہے، آپ مدد فرمائیں، آپ نے خدام سے کہا کہ جو کچھ بھی درگاہ پر موجود ہے وہ خاتون کو دے دو، وہ کہنے لگی آج کچھ بھی باقی نہیں بچا، یہ سن کر وہ خاتون رونے لگی کہ میں بہت مجبور ہوں اور آس لیکر آئی ہوں، آپ نے فرمایا: کہ جاﺅ باہر سے ایک مٹی کا ڈھیلا اٹھالاﺅ، وہ مٹی کا ڈھیلا اٹھالائی، آپ نے بلند آواز سے سورة اخلاص پڑھ کر اس پر دَم کیا تو وہ مٹی کا ڈھیلا سونا بن گیا، یہ دیکھ کر سب بہت حیران ہوئے، خاتون سونا گھر لے گئی اور گھر جاکر اس نے بھی پاک صاف ہوکر سورة اخلاص پڑھ کر مٹی کے ڈھیلے پر دَم کیا مگر وہ سونا نہ بن سکا، ناچار وہ آپ کے در پر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا حضرت آخر کون سی کمی تھی جو مٹی سونا نہ بن سکی، تو آپ نے فرمایا کہ تو نے عمل تو وہی کچھ کیا مگر تیرے منہ میں فرید کی زبان نہ تھی۔


    حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ اپنے مریدین کو ایک بزرگ کا حوالے دیتے ہوئے فرماتے ہیں : جب ایک آدمی تین باتوں سے اجتناب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے تین چیزیں اٹھا لیتا ہے۔


    جو شخص زکوة ادا نہیں کرتا‘ اللہ تعالیٰ اس کے دل سے برکت اٹھا لیتا ہے۔
    جو شخص قربانی نہیں کرتا‘ اللہ تعالیٰ اس سے عافیت چھین لیتا ہے۔
    جو شخص نماز نہیں پڑھتا‘ اللہ تعالیٰ مرنے کے وقت اس سے ایمان کو جدا کر لیتا ہے۔
    Last edited by shaikh_samee; 19-10-2015 at 12:48 PM.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •