راہِ وفا میں سر جو کٹایا حسین نے




راہِ وفا میں سر جو کٹایا حسین نے
در اصل ظلمتوں کو مٹایا حسین نے


ایک درس دے گئے وہ پسِ پردۂ جہاد
رشتہ یہ خوب حق سے نبھایا حسین نے


سر خم کیا نہ ظلم و ضلالت کے رو برو
اُمت کو اِس طرح سے بچایا حسین نے


دے کر زمینِ دین کو نذرانۂ لہو
نانا کی عظمتوں کو بڑھایا حسین نے


پانی بھی بند کردیا فوجِ یزید نے
اِس پر بھی صبر کرکے دِکھایا حسین نے


خاکی تم اُس زمین کے ذروں کو چوم لو
جس سر زمیں پہ خون بہایا حسین نے