1450261 736446843044272 1619362960 n?oh8ca2fa9e0e71eb081818388a67df089e&ampoe54E50625&  gda  1423857854 1b5c4318e5a63ee9f68c2a3b7a5d1c76 - Barish


آج بہت دنوں بعد سنی ہے بارش کی آواز
آج بہت دنوں بعد کسی منظر نئے رستہ روکا ہے
رم جھم کا ملبوس پہن کر یاد کسی کی آئی ہے
آج بہت دنوں باد اچانک آنکھ یوں ہی بھر آئی ہے
آنکھ اور منظر کی وسعت میں چاروں جانب بارش ہے
اور بارش میں دور کہیں ایک
گھر ہے جس کی
ایک ایک اینٹ پر تیرے میرے خواب لکھے ہیں
اور اس گھر کو جانے والی کچھ گلیاں ہیں
جس میں ہم دونوں کے سائے تنہا تنہا بھیگ رہے ہیں
دروازے پر قفل پڑا ہے اور دریچے سونے ہیں
دیواروں پے جمی ہوئی خاک کی طرح چپ کر
موسم ہم کو دیکھ رہے ہیں
کتنے بادل ہم دونوں کی آنکھ سے اوجھل
برس برس کر گزر چکے ہیں
ایک کمی سی ایک نمی سی
چاروں جانب پھیل رہی ہے
کئی زمانے ایک ہی پل میں
باہم مل کر بھیگ رہے ہیں
اندر یادیں سُوکھ رہی ہیں
باہر منظر بھیگ رہے ہیں . . . !