Results 1 to 1 of 1

Thread: لندن کے نیچے آباد دنیا

  1. #1
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    11,928
    Mentioned
    79 Post(s)
    Tagged
    2306 Thread(s)
    Thanked
    24
    Rep Power
    21474855

    snow لندن کے نیچے آباد دنیا



    attachmentphp?attachmentid101344&ampd1415013948 - لندن کے نیچے آباد دنیا
    لندن شہر کی عظیم تعمیرات کے نیچے زیرِ زمین سرنگوں کی بھول بھلیوں کی ایک دنیا آباد ہے۔ غیر ملکی نیوز نے اس زیرِ زمین دنیا میں جا کرکچھ نایاب نظارے عکس بند کیے ہیں۔بالہم ہل سٹیشن کے اندر ایک سیاہ دروازے کے عقب سے نیچے جاتی ہوئی 178 گرد آلود سیڑھیاں نیچے جانے کا واحد راستہ ہیں۔
    یہاں سے ہوتے ہوئے ہم ناردرن لائن سے ایک سو فٹ گہرائی میں پہنچے۔روشنی جلائی گئی تو ہم نے خود کو ایک گرد آلود سرنگ میں پایا۔ یہاں ہلکی سی بو کے ساتھ ٹھنڈی ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔اوپر ٹیوب ٹرینوں کے چلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔


    attachmentphp?attachmentid101345&ampd1415014029 - لندن کے نیچے آباد دنیا
    کیلپم ساؤتھ کا یہ راستہ شمالی اور جنوبی لندن کو ملانے کے لیے ایک نئے ریل منصوبے کے تحت بنایا گیا ہے۔
    یہ سرنگیں جنگ عظیم دوم میں ہاتھوں سے کھودی گئی تھی اور انھیں فضائی حملوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
    یہاں آٹھ ہزار لوگوں کے رہنے کی گنجائش تھی اور یہاں بیت الخلا کی سہولت، نگہداشت کا مرکز اور کینٹین تھی
    جس میں جیم اور سینڈوچ دیے جاتے تھے۔


    attachmentphp?attachmentid101346&ampd1415014093 - لندن کے نیچے آباد دنیا


    کلیپھم ساؤتھ کے گہرے شیلٹر یا پناہ گاہ کو ایک نئے ریلوے نظام کے لیے بنایا گیا تھا جو لندن کے شمالی حصوں کو جنوبی حصوں سے ملانے والا تھا۔
    لندن کے زیرِ زمین ریلوے کے ڈائریکٹر آپریشنز نائجل ہولنس نے بتایا کہ ’یہ اس دور کا کراس ریل منصوبہ تھا۔ مگر ہمارے آبا و اجداد اتنے دوراندیش نہیں تھے اور نہ ہی ان کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ وہ اسے مکمل کر سکتے۔‘
    لندن انڈر گراؤنڈ کے فلپ ایش کا کہنا تھا کہ ’حکومت کے لیے بڑا خدشہ یہ تھا کہ کہیں اس کے نتیجے میں غار نشینی کا رجحان شروع نہ ہو جائے۔ غاروں میں زیرزمین رہنا برطانوی ثقافت کا حصہ نہیں تھا۔‘

    attachmentphp?attachmentid101347&ampd1415014168 - لندن کے نیچے آباد دنیا


    1948 میں جب جہاز ایمپائر ونڈ رش برطانیہ آیا جس پر 400 جمیکن سوار تھے تو ان سرنگوں کو ایک بار پھر استعمال میں لایا گیا۔
    مگر جو برطانیہ انھوں نے دیکھا وہ ان کی توقعات سے بہت مختلف تھا۔ جب وہ ٹلبری پہنچے تو ان نوواردوں کو بسوں میں سوار کروا کر ان پناہ گاہوں میں لایا گیا اور جب تک انھیں نئی رہنے کی جگہ نہیں ملی، انھوں نے اگلے چھ مہینے تک ان گہری زیر زمین پناہ گاہوں میں گزارے۔



    Last edited by Usm@n Butt; 09-11-2014 at 03:54 PM.


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •