¤¤ دنیا کے کچھ عجیب و غریب اور دلچسپ قوانین ¤¤
دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں ایسے متعدد عجیب و غریب قوانین رائج ہیں جو انسان کے وہم و گمان میں نہیں ہوتے اور وہ ان کا شکار بن جاتے ہیں- زیادہ تر ان کا شکار وہ سیاح بنتے ہیں جو ان سے ناواقف ہوتے ہیں، اور خلاف ورزی کرنے کے باعث اپنی قیمتی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایسے ہی چند قوانین کے بارے آپ کو بتاتے ہیں۔

《بدنما گھوڑے کی سواری》
امریکی ریاست واشنگٹن کے بعض شہروں میں مقامی حکومتوں نے عجیب و غریب قوانین رائج کر رکھے ہیں۔اس کی ایک مثال شہر ولبر کا وہ قانون ہے جو انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ یہاں کوئی شہری بدنما گھوڑے پر سواری نہیں کر سکتا٬ خلاف ورزی کی صورت میں اس کا اگلا ٹھکانہ جیل ہوگا- 《کپڑے لٹکانے کے لئے لائسنس ہے》


نیویارک کا شمار ٹیکنالوجی کے اعتبار سے دنیا کے جدید ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ لیکن یہاں بھی آپ کی واسطہ عجیب و غریب قوانین سے پڑے گا۔ جیسے کہ اگر آپ کو بالکونی یا صحن میں رسی وغیرہ پر کپڑے لٹکانے ہیں تو اس کے لیے پہلے آپ کو باقاعدہ طور پر لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔ بغیر لائسنس کپڑے لٹکائے پر جرمانہ عائد کردیا جاتا ہے۔ 《چوک میں بیٹھنا منع ہے》


وینس کا مشہور چوک سینٹ مارک اسکوائر کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہاں کئی سڑکیں آ کر آپس میں ملتی ہیں۔ جس کی وجہ سے سینکڑوں سیاح اس اسکوائر میں ڈیرہ جمانے لگے تھے۔ لیکن جب اسکوائر میں سیاحوں کی کثرت ہو گئی، تو وہاں ٹریفک جام ہونے لگا۔ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے حکومت نے چوک میں بیٹھنے پر پابندی لگادی۔ اگر کسی کو وہاں بیٹھے ہوئے دیکھ لیا جائے تو پہلے نرمی سے اسے پابندی کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے اور نہ ماننے کی صورت میں تھانے کی سیرکروائی جاتی ہے-

《اپنا کوڑا اپنے کوڑے دان میں》
امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر بریمرٹن (Bremerton) کی حدود میں جو شہری اپنا کوڑا کسی دوسرے کے کوڑے دان میں پھینکتے ہوئے پکڑا جائے تو اسے بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنا کوڑا اپنے کوڑے دان میں ہی پھینکیں-

《کبوتروں کو دانہ ڈالنا منع ہے》
اٹلی کے شہر وینس کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں کیا جاتا ہے اور ہر سال سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس شہر کا رخ کرتی ہے۔ لیکن وینس جانے والے سیاحوں کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ وہاں کبوتروں کو دانہ ڈالنا غیر قانونی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دانہ ڈالنے سے کبوتروں کی آبادی بڑھتی ہے۔ جس سے شہر میں مختلف بیماریاں پھیل جاتی ہیں۔ مشہور امریکی شہر سان فرانسسکو میں بھی کبوتروں کو دانہ ڈالنا ممنوع ہے۔

《ریزگاری نہیں چاہیے》
ہمارے ملک میں بچوں اور بڑوں کی ایک کثیر تعداد بچت کے حوالے سے سکے جمع کرنے کی شوقین ہوتی ہے اور جب تو ان سے جان چھڑانی ہو تو انھیں کسی دکان دار کے حوالے کر کے کرنسی نوٹ حاصل کرلیے جاتے ہیں۔ مگر کینیڈا میں ایسی حرکت نہیں کرسکتے۔ کینیڈا کے قانون کے مطابق دکان داروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ ریزگاری لینے سے انکار کر دیں۔ مثلاً اگر آپ ایک سینٹ کے پندرہ بیس سکے دیں، تو وہ انھیں لینے سے انکار کر سکتے ہیں اور یہ ان کا قانونی حق ہے۔

《جاپان میں وکس انہیلر نہ لے جائیں》
جاپان کا شمار انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے اور یہاں ایک قانون کے مطابق میڈیکل اسٹور والے ً الرجی اور امراض تنفس سے متعلق ادویہ ڈاکٹری نسخے کے بغیر فروخت نہیں کر سکتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوا کو ڈاکٹری نسخے کے بغیر جاپان لانا بھی ممنوع ہے۔

《ٹینکی دیکھ لیں کہیں پیٹرول نہ ختم ہوجائے》
اس بات سے ہر شخص بخوبی واقف ہے کہ اگر راستے میں اچانک پٹرول ختم ہو جائے تو انسان کیسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے؟ لیکن جرمن شاہراہوں(آٹوبان) پر پٹرول ختم ہونا پر جرمانہ عائد کردیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جرمن شاہراہیں بہت طویل ہوتی ہیں اور ان پر سوائے ایمرجنسی کے کسی کو رکنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ جرمن قانون اچانک پیٹرول ختم ہوجانے کو ڈرائیور کی غلطی قرار دیتا ہے کہ اس نے سفر شروع کرنے سے پہلے ٹینکی میں پیٹرول کو چیک کیوں نہ کیا؟

《یہاں کھانا پینا منع ہے》
فلورنس اٹلی کا مشہور ترین شہر ہے۔ اس شہر میں کئی تاریخی عمارات اور چرچ واقع ہیں جنہیں دیکھنے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بہت سے سیاح اس شہر کے ایک انوکھے قانون کی وجہ سے اپنی خاصی بھاری رقم سے جرمانے کے طور پر ادا کر بیٹھتے ہیں۔ قانون یہ ہے کہ فلورنس کے کسی چرچ کی سیڑھیوں یا صحن میں بیٹھ کر کھا پینا ممنوع ہے- اور ایسا کرتے ہوئے اگر چرچ انتظامیہ یا بلدیہ شہر کے کسی ملازم نے دیکھ لیا، تو آپ کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔