کراچی: ملکی تاریخ میں پہلی بار پٹرول اور دودھ ایک ہی قیمت پر فروخت ہونے لگے، شہر کے کئی علاقوں میں دودھ پٹرول سے بھی مہنگا فروخت ہورہا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی کمی کے باوجود ضلعی انتظامیہ دودھ،گوشت، مرغی کا گوشت، پھل، سبزیاں اور اشیائے خورونوش سرکاری نرخ پر فروخت ممکن بنانے میں ناکام ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ماہ کے دوران پٹرول کے نرخ میں 19 روپے سے زائد فی لیٹر کمی کی گئی ہے قیمت میں کمی کے بعد پٹرول فی لیٹر 84.53 روپے کی سطح پر آگیا ہے جبکہ شہر میں دودھ بھی 84 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے کئی علاقوں کی بڑی دکانوں پر دودھ کی قیمت 86 روپے وصول کی جارہی ہے۔

دودھ فروش اور خوردنی اشیا فروخت کرنے والے تاجر اور دکاندار ماضی میں پٹرول کی قیمت میں 2 روپے اضافے پر ہی مصنوعات کی لاگت کو جواز بناکر قیمتیں بڑھاتے رہے ہیں، کمشنر کراچی نے یکم دسمبر سے 15 دسمبر تک کے لیے کریانہ اشیاکا نرخ نامہ جاری کیا ہے۔

چھوٹے بڑے دکاندار اور بڑے سپر اسٹورز پر دالیں سرکاری نرخ سے30 سے40 روپے مہنگی فروخت کی جارہی ہیں، ہول سیل مارکیٹ میں سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد نہ ہونے سے ریٹیل کی سطح پر بھی قیمت کا اطلاق ناممکن ہے، تھوک مارکیٹ میں ماش دھلی ہوئی درجہ اول کی قیمت 122 روپے کلو کے بجائے 140 روپے کلو، مونگ کی دال 127 روپے فی کلو کے بجائے 155 روپے کلو، چنے کی دال57 روپے کے بجائے76روپے کلو، مسور کی دال 104 روپے کے بجائے120روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔