شارجہ: شارجہ میں شرمناک شکست کے باوجود پاکستانی کوچ وقار یونس کا سر فخر سے بلند ہے۔

انھوں نے ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کردیا، سابق پیسرکا کہنا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس بہت اچھی رہی، اچھے اختتام سے مزہ دوبالا ہوجاتا لیکن ٹیم جس طرح سے کھیلی اس کا جواب ہی نہیں، مجھے کھلاڑیوں پر فخر ہے، پوری قوم کو بھی ان پر ناز ہونا چاہیے، آخری ٹیسٹ میں ایک دن کا تعطل آنے سے پورا کھیل بگڑ گیا، بہانہ نہیں بنا رہا مگر حقیقت یہی ہے کہ ہمارا ردھم ٹوٹ گیا تھا، یونس خان اور مصباح الحق انتہائی غیرمعمولی ثابت ہوئے۔

پاکستان کوشارجہ میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں اننگز اور 80 رنز کی شرمناک شکست ہوئی، جس انداز میں کھلاڑیوں نے ایک کمزور سائیڈ کے سامنے تمام شعبوں میں ہتھیار ڈالے اس سے رواں ہوم سیزن میں کھیلے جانے والے گذشتہ ٹیسٹ میچز میں کامیابیاں دھندلا کر رہ گئیں۔ اس کے باوجود کوچ وقار یونس ٹیم کی پرفارمنس کو انتہائی غیرمعمولی قرار دے کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے، وہ سمجھتے ہیں کہ شارجہ ٹیسٹ کے نتیجے کی بنیاد پر سب کیے کرائے پر پانی نہیں پھرنا چاہیے۔

صرف ایک مقابلے کی وجہ سے تنقید کسی صورت بھی درست نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم نیوزی لینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ جیت جاتے تو یہ ہمارے لیے’ہیپی اینڈنگ‘ ہوتی لیکن جب میں نے یہاں پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ کھیلے گئے پانچوں ٹیسٹ میچز میں ٹیم پرفارمنس کا تجزیہ کیا تو اسے بہت شاندار پایا۔ یاد رہے کہ پاکستان نے اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف2ٹیسٹ کی سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا، یہ اس کی کینگروز پر 20 برس بعد پہلی سیریز کامیابی تھی۔ وقار یونس نے کہاکہ مجھے اپنے تمام کھلاڑیوں پر فخر ہے اور پوری قوم کو بھی ان پر ناز ہونا چاہیے، ہمارا بولنگ اٹیک کمزور تھا لیکن اس کے باوجود دونوں سیریز میں اس نے بہترین پرفارم کیا، یہ اور بات ہے کہ ہم آخری میچ نہیں جیت پائے لیکن اس کے باوجود بھی میں بہت خوش ہوں۔

واضح رہے کہ اس سیریز میں غیرقانونی بولنگ ایکشن کے باعث پابندی کے شکار سعید اجمل کی پاکستان کو خدمات حاصل نہیں تھیں مگر لیفٹ آرم اسپنر ذوالفقار بابر اور لیگ اسپنر یاسر شاہ نے پانچوں ٹیسٹ میچز میں 27، 27 وکٹیں لے کر اس خلا کو پُر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وقار یونس نے بھی کپتان مصباح الحق کی طرح شارجہ ٹیسٹ میں شکست کا سبب فل ہیوز کی ناگہانی موت کو قرار دیا مگر وجہ مختلف بیان کی، انھوں نے کہاکہ جب ٹیسٹ میں ایک دن کا تعطل آیا تو ہمارے کھلاڑیوں کا ردھم برقرار نہیں رہا،281 رنز 3 وکٹ سے دوبارہ کھیل کا آغاز کرنے والی ٹیم پہلی اننگز میں 351 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔ ماضی کے عظیم فاسٹ بولر کو پاکستان کا ٹیسٹ کرکٹ میں مستقبل کافی روشن دکھائی دے رہا ہے۔

انھوں نے کہاکہ ہمیں ٹیسٹ میں ڈسپلن کی ضرورت ہوتی ہے،اس کا آغاز ہوٹل کے کمروں سے ہوتا ہے کہ آپ پانچ دنوں کے درمیان کس طرح آرام کرتے ہیں، بولنگ، فیلڈنگ اور بیٹنگ سب میں ڈسپلن درکار ہوتا ہے، ہمارے موجودہ کھلاڑی مستقبل میں بھی ڈسپلن برقرار رکھنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ وقار نے مزید کہا کہ راحت علی کی بولنگ میں بہتری آئی جبکہ یونس خان اور مصباح نے ان دونوں سیریز میں غیرمعمولی کھیل پیش کیا، خاص طور پر مصباح نے انتہائی عمدگی سے ٹیم کی قیادت کے فرائض نبھائے۔