لاہور: اذان کی روح پرور گونج صرف نماز کیلئے بلاوا یا ہمارے دل اور روح کے سرور کا باعث ہی نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کی عظمت کا نشان ہے۔ ہم دن میں پانچ بار اذان کی آواز سنتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ دنیا کے طول و عرض میں پھیلے مسلمان ملکوں میں روزانہ پانچ بار اذان دی جاتی ہے لیکن ہم میں سے اکثر یہ نہیں جانتے کہ دنیا کے مشرقی کنارے سے لے کر مغرب تک دن اور رات کا کوئی لمحہ ایسا نہیں کہ جب اذان کی آواز نہ گونج رہی ہو۔


اگر آپ دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو انتہائی مشرق میں انڈونیشیا واقع ہے، یہاں صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے اذان کا آغاز ہوتا ہے اور جاوا، سماٹرا، بورنیو اور سیبل کے علاقوں میں ہزاروں موذن اذان دیتے ہیں اور یہ سلسلہ مغرب کی طرف بڑھتا جاتا ہے حتیٰ کہ ڈیڑھ گھنٹے بعد جکارتہ میں صبح ہورہی ہوتی ہے اور یہاں اذان کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ابھی مغربی انڈونیشیا میں اذانیں جاری ہوتی ہیں کہ ملائیشیا میں فجر کا وقت ہوجاتا ہے اور یہاں اذان شروع ہوجاتی ہے۔ ملائیشیا میں اذان فجر کے اختتام سے پہلے ہی برما اور پھر اس کے مغرب میں واقع ملک بنگلا دیش میں اذان فجر شروع ہوجاتی ہے۔ بنگلا دیش کے مغربی حصوں میں اذانِ فجر کے ختم ہونے سے پہلے ہی بھارت کی مساجد میں اللہ اکبر کی صدا بلند ہوجاتی ہے۔ مشرق میں کلکتہ سے شروع ہونے والا سلسلہ جب تک مغرب میں ممبئی تک پہنچتا ہے تو اس وقت تک کشمیر کے شہر سری نگر اور پاکستان کے شمالی شہر سیالکوٹ میں اذانِ فجرکا آغاز ہوچکا ہوتا ہے۔ جب تک اذان کا سفر پاکستان کے شمالی حصے سے جنوب میں کراچی تک پہنچتا ہے تو اس سے پہلے ہی افغانستان اور عمان میں اذان کی آواز گونج اٹھتی ہے اور پھر یہاں اذان فجر کے اختتام سے پہلے عراق اور پھر حجاز مقدس میں فجر کا وقت ہوجاتا ہے۔ مکہ اور مدینہ سے لے کر یمن، متحدہ عرب امارات اور کویت تک اذان کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے اور اسی دوران مصر میں اللہ اکبر کی صدا بلند ہوجاتی ہے۔ مصر کے شہر اسکندریا اور لیبیا کے شہر طرابلس میں فجر کے وقت میں ایک گھنٹے کا فرق ہے اور اس دوران سارے افریقہ میں اذان کی آواز گونجتی ہے اور یہ سلسلہ بحراوقیانوس کے کنارے تک جاپہنچتا ہے۔


انڈونیشیا سے شروع ہو کر بحر اوقیانوس کے مشرقی کنارے تک مسلسل اذان کا سلسلہ ساڑھے نوگھنٹے میں پہنچتا ہے اور اس وقت تک انڈونیشیا میں اذان ظہر کی آواز بلند ہوچکی ہوتی ہے اور اب اسی طرح اذان ظہر کی گونج مشرق سے مغرب کی طرف بڑھتی چلی جاتی ہے اور جس وقت مغربی افریقہ میں عشاءکی اذان دی جارہی ہوتی ہے تو مشرقی انڈونیشیا میں پھر سے فجر کی اذان شروع ہوچکی ہوتی ہے۔ بحرالکاہل سے لے کر بحیر اوقیانوس تک اذان کا مسلسل سلسلہ یوں جاری رہتا ہے کہ دن اور رات میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آتا کہ جب سینکڑوں ہزاروں موذن اللہ اکبر کی صدا بلند نہ کررہے ہوں، اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور تا قیامت یونہی جاری رہے گا۔