لاہور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں انتخابی دھاندلی سے متعلق قائم الیکشن ٹریبونل میں اپنا بیان قلمبند کرادیا۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم جعلی پارلیمنٹ میں نہیں جانا چاہتے، حکومت ہمارے استعفوں کو منظور کرنے میں تاخیری حربے اختیار کرکے ہمارے ارکان کو خریدنے کی کوشش کررہی ہے۔ نواز شریف کاروباری ہیں جنہیں وہ خرید سکتے ہیں خرید لیں اس سے ہماری جماعت غیر نظریاتی لوگوں سے پاک ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی زبوں حالی کی حکومت کی کرپشن، نااہلی اور اقربا پروری ہے۔ نواز شریف کو اپنے رشتے داروں اور درباریوں کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ فیصل آباد کے ٹرانسپورٹرز اور وکلا نے پیر کے روز ہماری ہڑتال کی حمایت کردی ہے، وہ فیصل آباد کے عوام سے ہڑتال پر معذرت چاہتے ہیں کیونکہ اگر وہ اس ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں ایک دن کی قربانی دینی پڑے گی۔ اس کے ساتھ ہی ہم کسی کے ساتھ اپنا کاروبار بند کرنے کے لئے زبردستی نہیں کریں گے۔ جو تاجر ملک کی موجودہ صورت حال کو ٹھیک سمجھے وہ بے شک اپنی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھیں اور جو ہماری موقف کی حمایت کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ نکلیں اور پیر کے روز کاروبار بند رکھیں۔ جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم ایماندار شخص تھے لیکن چیف الیکجشن کمشنر کی حیثیت سے انہیں اختیارات حاصل ہی نہیں تھے، اسی طرح سردار محمد خان بھی شاندار کردار کے مالک ہیں لیکن اصل اختیارات صوبائی الیکشن کمشنرز کے پاس ہیں، انتخابات میں دھاندلی کرانے والوں کی موجودگی میں انتخابات صاف، شفاف اور غیر جانبدار نہیں ہوسکتے۔

اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ میں الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس کاظم نے حلقہ این اے 122 میں انتخابی دھاندلی سے متعلق کیس کی سماعت کی اس موقع پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ٹریبونل کے روبرو پیش ہوئے۔ سماعت شروع ہوئی تو ٹریبونل نے عمران خان سے استفسار کیا کہ دھاندلی سے متعلق ثبوت پیش کریں جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ دھاندلی کے ثبوت پولنگ بیگوں میں موجود ہیں اور پولنگ بیگ کھول لیں دھاندلی خود بخود ثابت ہوجائے گی، حلقے میں جعلی ووٹ ڈالے گئے اور ہمیں سادہ کاغذ پر نتائج دیئے گئے۔

حلقہ این اے 122 سے کامیاب ہونے والے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے وکلا نے عمران خان سے جرح کرتے ہوئے کہا کہ اگر انتخابات کے روز دھاندلی ہورہی تھی تو اس وقت پریزائڈنگ افسر کو آگاہ کیوں نہیں کیا گیا، کیا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے یا آپ کے پولنگ ایجنٹوں نے کوئی شکایت کی۔ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنوں سے نکال دیاگیا تو میں کس سےشکایت کرتا۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ بیلٹ پیپرز، کاؤنٹر فائل پر انگوٹھوں کے نشانات کی نادرا سے تصدیق کرائی جائے۔

اس سے قبل سربراہ تحریک انصاف جیسے ہی لاہور کی عدالت پہنچے تو کارکنان کی بڑی تعداد نے ان کی گاڑی کو گھیرلیا جب کہ احاطہ عدالت میں پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد جمع ہوگئی، سماعت کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی بھی بڑی تعداد عدالت کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئی جب کہ اس موقع پر تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے “گو نواز گو” اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ” رو عمران رو ” کے نعرے لگائے۔

دوسری جانب دھاندلی کی تحقیقات کے لئے الیکشن ٹریبونل کے سامنے پیشی کے لئے لاہورروانگی سے قبل بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےعمران خان کا کہنا تھا کہ این اے 122 میں دھاندلی کے حوالے سے خود پیش ہونے جا رہا ہوں کیونکہ اس حلقے کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اگر یہ ٹریبونل وہ فیصلہ کر دیتا ہے جس کے لئے ہم جدو جہد کر رہے ہیں تو ہم حقیقی جمہوریت کی طرف چلے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں 1970 کے علاوہ جتنے بھی انتخابات ہوئے ان میں اپوزیشن نے کہا کہ دھاندلی ہوئی لیکن 2013 کا الیکشن واحد الیکشن ہے جس میں جو کامیاب ہوئے انہوں نے بھی کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے، جب تک عوام کا مینڈیٹ چوری کرنے والوں کو سزا نہیں مل جاتی اس وقت تک انتخابی اصلاحات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ لوگ مہنگائی سے تنگ ہیں، ہر جگہ لوٹ مار مچی ہوئی ہے، دیہاتوں میں لوگ شام کو گھر سے باہر نہیں نکل سکتے، جرم بڑھ گیا ہے، قانون نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے، ہر روز کوئی نہ کوئی اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر ہوتا ہے، اگر تاجر برادری تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمارا ساتھ دیں اور میرے ساتھ نکلیں، انہیں ایک دن کی مشکل پڑے گی لیکن ہو سکتا ہے کہ آپ کا مستقبل ٹھیک ہو جائے لیکن اگر آپ اسی طرح رہنا چاہتے ہیں تو پھر یہ مت کہیے گا کہ حالات برے ہیں، مہنگائی ہے، پھر جو بھی ہو چپ کر کے سہتے رہنا۔

حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مجھے مکس سگنل مل رہے ہیں، حکومت نے اگر مذاکرات کرنے ہیں تو سنجیدگی سے کرے اور مذاکرات وہاں سے ہی شروع کئے جائیں جہاں سے ختم ہوئے تھے اور لوگوں کو دھوکا نہ دیا جائے۔ پہلے بھی مذاکرات کے دوران ہماری بات صرف نواز شریف کے استعفے پر اڑ گئی تھی لیکن پھر ہم اپنے اس مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے، ہمارا مطالبہ ہے کہ جب تک جوڈیشل کمیشن اپنا کام شروع نہیں کر دیتا اور اس کمیشن کے اصول و ضوابط پر ہم دونوں متفق نہیں ہو جاتے تو ہمارا دھرنا بھی جاری رہے گا اور پھر ان کے لئے حکومت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ “سی” پلان تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، پلان کتنا کامیاب یا ناکام ہوا اس کا تو 8 دسمبر کو فیصل آباد میں پتہ چل جائے گا۔