اتر پردیش: بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کی شہادت کو 22 برس بیت چکے ہیں لیکن مسلمان آج بھی انصاف کے طلب گار ہیں۔

ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے آر ایس ایس اور شیوسینا جیسی ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ مل کر 16ویں صدی عیسوی سے قائم مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی ایک تحریک چلائی اور پھر 6 دسمبر 1992 کو ہندو انتہاپسند تنظیموں نے نیم فوجی دستوں کی مدد سے بابری مسجد کو شہید کر دیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے نتیجے میں گجرات میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جس میں حکومت کی سرپرستی میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کیاگیا۔

بابری مسجد کی شہادت کے خلاف اس وقت کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ اور شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے اور ایل کے ایڈوانی سمیت 49 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جو 2 دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود قانونی دائو پیچ اور عدالتوں کی پیچیدگیوں میں الجھے ہوئے ہیں، اس دوران 10 ملزمان اور 50 گواہ مر چکے ہیں لیکن مقدمے کا فیصلہ آج تک نہیں آ سکا ہے۔

واضح رہے کہ بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر نے 16 صدی عیسوی میں تعمیر کروائی تھی جو اسلامی اور مغل فن تعمیر کا ایک شاہکار تھی جب کہ ہندو انتہاپسندوں کا دعویٰ تھا کہ ظہیر الدین بابر نے ہندو دیواتا رام کی جائے پیدائش پر بنے رام مندر کو مسمار کر کے بابری مسجد تعمیر کی تاہم ہندو اس حوالے سے مستند تاریخی ثبوت دینے میں ناکام رہے ہیں۔