کراچی: فرنس آئل کی قیمت میں مزید 4 ہزار روپے فی ٹن کمی ہو گئی، عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کے بعد ستمبر سے اب تک (3 ماہ) فی ٹن فرنس آئل 86 ہزار 549 روپے سے کم ہوکر 56 ہزار 561 روپے کا ہو چکا ہے۔


اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ماہانہ 60 ارب روپے مالیت کی بجلی فرنس آئل سے بنتی ہے اور خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر رہنے سے بجلی کی پیداواری لاگت میں سالانہ 100 ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سالانہ 95 لاکھ ٹن فرنس آئل استعمال کیا جاتا ہے۔


علاوہ ازیں ایف پی سی سی آئی کے انتخابات میں صدارتی امیدوار میاں انجم نثار کا کہنا ہے کہ گزشتہ 6 ماہ میں فرنس آئل کی قیمت 35 فیصد کم ہوچکی ہے، رواں سال جون میں عالمی قیمتوں کے حساب سے پاکستان میں فرنس آئل کی قیمت 76 ہزار روپے فی ٹن تھی جواب 48 ہزار روپے فی ٹن ہو چکی ہے، اس کی وجہ سے بجلی کی پیداواری لاگت میں بھی کمی ہوئی ہے۔


انھوں نے کہا کہ حکومت کو بجلی کی چوری سے نمٹنا چاہیے اور بجلی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانا چاہیے اور بجلی کے نرخ 50 فیصد تک کم کرنے چاہئیں لیکن موجودہ صورتحال میں بھی نرخ 30 فیصد تو کم کیے جانے چاہئیں۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کیاکہ ایف پی سی سی آئی کے عہدیداروں نے اس ناانصافی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ انھوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ بجلی کے نرخوں میں کمی لانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ بجلی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فرنس آئل کے نرخ 35 فیصد گرنے کے بجائے بجلی کی قیمتوں میں 4 سے 5 روپے فی یونٹ کمی ہونی چاہیے۔