لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کہتے ہیں کہ اگر نواز شریف چاہیں تو 48 گھنٹوں میں مذاکرات کے ذریعے معاملات طے پاسکتے ہیں۔

لاہور میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر لاہور کے تاجر اور دکاندار موجودہ حالات سے مطمئن ہیں تو وہ 15 دسمبر کو اپنا کاروبار کھلا رکھیں ہم ان کا کاروبار زبردستی بند نہیں کرائیں گے اور جو سمجھتے ہیں کہ ملک قبضہ گروپ کے ہاتھ میں ہے جو باریاں لے کر ملک لوٹ رہے ہیں اور دھاندلی کرکے اقتدار میں آتے ہیں تو وہ ہمارا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کبھی بندوق کے بغیر دکانیں بند نہیں کی گئیں لیکن ہمارا پُرامن احتجاج ہوا اور لاہور کا احتجاج بھی پرامن ہوگا۔ فیصل آباد میں راناثناءالله کےغنڈوں نے پہلے پتھراؤ کیا پھر گولیاں چلوائیں تاہم ہم انہیں ہر صورت جیل میں ڈلوا کر رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لاہور میں بھی نواز شریف نے فیصل آباد کی طرح اپنے گلوؤں کو چھوڑا تو ہمارے نوجوان ان کا بھرپور مقابلہ کریں گے اور نتائج کی ذمہ داری نواز شریف پر ہوگی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم صرف دھاندلی پر انصاف مانگ رہے ہیں لیکن حکومت خوفزدہ ہے، انہیں پتا ہے کہ اگر حلقے کھل گئے تو سب کے پول کھل جائیں گے اور اگر یہ بات ثابت ہوگئی کہ 2 بڑی جماعتوں نے مک مکا کرکے دھاندلی کی تو پھر ان کی باریاں کبھی نہیں آئے گی۔ اگر نواز شریف مذاکرات میں سنجیدہ ہیں تو آگے بڑھیں۔ اگر انہوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو 48 گھنٹوں میں دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق معاملات طے پاسکتے ہیں کیونکہ دونوں کے درمیان زیادہ تر باتوں پر اتفاق ہوچکا ہے۔

اس سے قبل تقریب سے خطاب کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ انسان اسی وقت اپنی منزل حاصل کرسکتا ہے جب وہ پیچھے کی جانب نہ دیکھے اور مشکلات کے سامنے ہار نہ مانے اور اپنی ناکامیوں کی وجہ جاننے کے لئے صحیح تجزیہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ وزیراعظم بن جانا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی، وطن عزیز میں کئی لوگ اس عہدے پر آئے اور چلے گئے، اصل کام بین الااقوامی معیار کے مطابق تعلیمی اداروں کا قیام ہے۔