Results 1 to 3 of 3

Thread: Shajar Takhleeq Kiye

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    candel Shajar Takhleeq Kiye

    خدا نے شجر تخلیق کئے اور انسان نے پنجرے ہم پرندوں کی باتیں کر رہے تھے۔۔۔ حضرت فرید الدین عطار کی کتاب ’’منطق الطائر‘‘ یا ’’منطق الطیر‘‘ کا تذکر ہ کر رہے تھے اور کامران سلیم کی ’’برڈز آف سیالکوٹ‘‘ کے پرندوں کی باتیں کر رہے تھے اور ۔۔۔آسمانی کتابوں میں ان پرندوں کے جتنے تذکرے ہیں، دنیا کے مختلف خطوں میں جو حکایتیں، داستانیں اور روایتیں ہیں ان کے حوالوں میں آپ کو شریک کرنا چاہتے تھے۔۔۔ اور اوّل ذکر آخری کتاب کا، آخری حکم اور آخری نازل شدہ مقدس حروف کا۔ ’’النمل۔۔۔ سورہ 16‘‘ ’’کیا وہ پرندوں کو نہیں دیکھتے، فضا میں، آسمانوں کے درمیان توازن قائم رکھے۔۔۔ انہیں صرف اللہ ہی وہاں سہارا دیتا ہے‘‘۔ ایک مدت سے بلا سوچے سمجھے ہم ’’روح کا قفس عنصری سے پرواز کر جانا‘‘ بیان کرتے آئے ہیں اور مجھے حیرت ہوئی کہ اس کا منبہ ’’بھگوت گیتا‘‘ ہے جس میں درج ہے کہ۔۔۔ ہماری روح، ایک پنجرے میں بند پرندے کی مانند پھڑپھڑاتی اور خواہش کرتی ہے کہ وہ آزاد ہو کر وسیع فضا میں پرواز کر جائے‘‘۔ بائبل اور تورات میں بھی پرندے بار بار نمودار ہوتے ہیں۔ حضرت آدم اور بی بی حوّا کی جنت میں ’’اور ان کے ہمراہ جنت کے پرندے بھی قیام کرتے تھے، وہ شاخوں میں پوشیدہ گیت گاتے تھے‘‘۔ اور پھر خدا نے کہا ’’پانیوں میں آبی حیات کی نمود ہو جائے اور پرندوں کو زمین سے اوپر آسمانوں کی وسعت میں پرواز کرنے کا اذن دیا جاتا ہے‘‘۔ حضرت سلمان کے گیت میں درج ہے ’’اور دیکھو کہ موسم سرما بیت گیا ہے، بارشیں ختم ہو گئی ہیں، زمین پر پھول نمودار ہونے لگے ہیں اور فاختہ کی آواز ہماری سرزمین پر سنائی دینے لگی ہے‘‘۔ ’’ایک بگلا آسمانوں میں پرواز کرتا ہوا، ایک فاختہ، ایک چڑیا بھی وقت کی پہچان رکھتے ہیں لیکن لوگ اپنے خالق کے اصولوں کونہیں پہچانتے‘‘۔ ’’کیا یہ تمہاری فہم میں ہے کہ ایک عقاب اپنے پر پھیلا کر جنوب کی جانب پرواز کرتا ہے۔ کیا یہ تمہارے حکم سے ہے کہ ایک شاہین ہمیشہ اپنا گھونسلا بلند جگہوں پر تعمیر کرتا ہے۔۔۔ چٹانوں میں وہ قیام کرتا ہے، اپنا گھر بناتا ہے اور وہاں سے اپنے شکار پر نظر رکھتا ہے، اُس کی آنکھیں دور دور تک دیکھتی ہیں، اُس کے بچے خون پیتے ہیں اور جہاں کہیں لوگ قتل کئے جاتے ہیں وہاں وہ ہوتا ہے۔ ’’لیکن۔۔۔ فاختہ کو کوئی ایسا مقام نہ ملا جہاں وہ اتر سکے اور وہ واپس نوح کے پاس لوٹ آئی کیونکہ پانی ابھی تک زمین کے چہرے کو ڈھانپے ہوئے تھے۔۔۔ چنانچہ نوح نے اُسے اپنے ہاتھوں پر اترنے دیا اور اُسے کشتی کے اندر لے آیا‘‘۔ اور یہ تو مقدس کتابوں کے حوالے تھے پرندوں کے بارے میں۔۔۔ تو ذرا ان کے زمینی حوالے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ اور میں گریز کروں گا اور اپنی کسی بھی تحریر کے پرندوں کا کچھ ذکر نہ کروں گا۔ ’’ایک پرندہ اس لئے نہیں گاتا کیونکہ اُس کے پاس کسی مسئلے کا حل ہوتا ہے، وہ اس لئے گاتا ہے کہ اُس کے پاس ایک گیت ہوتا ہے (چینی کہاوت) ’’خدا پرندوں سے محبت کرتا تھا تو اُس نے اُن کے لئے درخت تخلیق کئے۔۔۔ انسانوں نے پرندوں سے محبت کی تو اُن کے لئے پنجرے بنائے‘‘ (جیک ڈیوال) ’’ہر پرندہ اپنے گلے سے گاتا ہے‘‘ (ہنرک اِبسن۔۔۔ ڈرامہ نگار) ’’ایک پرندہ تین چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پَر، پرواز اور گیت۔۔۔‘‘ ’’اگر پرندے پرواز کر سکتے ہیں اور ہم نہیں کر سکتے صرف اس لئے کہ وہ پختہ ایمان رکھتے ہیں۔۔۔ کہ ایمان رکھنے سے ہی آپ کے پَر نکلتے ہیں‘‘۔ ’’آپ ایک پرندے کو پنجرے میں بند تو کر سکتے ہیں لیکن اُسے گیت گانے پر مجبور نہیں کر سکتے‘‘ (ایک یہودی کہاوت) ’’ایک عقاب کو اُڑنے کے لئے تعلیم درکار نہیں‘‘ (ایک یونانی محاورہ) ’’ایک پرندہ اپنے پروں سے پہچانا جاتا ہے‘‘ (ایک یہودی کہاوت) ’’ایک پرندہ اپنے پَر اس لئے نہیں تبدیل کرتا کہ موسم تبدیل ہو گیا ہے‘‘ (ایک نائیجیرین کہاوت) ’’ایک پرندہ اپنی پرواز سے پہچانا جاتا ہے‘‘ (روسی کہاوت) ’’سب سے خوبصورت موسم وہ ہے جس میں پرندے نغمہ سرا ہوتے ہیں‘‘۔ ’’اگر ایک پرندہ زمین پر چل رہا ہو تو بھی آپ اُس کے پر محسوس کرسکتے ہیں‘‘۔ ’’بہترین پرندے صرف وہ نہیں ہوتے جن کے بال و پر شاندار ہوتے ہیں‘‘۔ ’’اس برس کے پرندوں کو پچھلے برس کے گھونسلوں میں سے تلاش نہ کرو‘‘۔ (سروانتس)۔ یہ کامران سلیم کی ’’برڈز آف سیالکوٹ‘‘ کا کمال ہے کہ آج میرے کالموں میں ہرنسل اور قومیت کے پرندے پرواز کرتے ہیں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کبھی وہ زمانہ آئے گا جب وہ سب پرندے جنہیں کامران نے اپنی شاہکار تصویروں میں محفوظ کر کے ہمیشہ کے لئے امر کر دیا ہے وہ سب چلے آئیں گے، اُس کے آس پاس بیٹھ جائیں گے، گیت گائیں گے اوراعلان کریں گے کہ تم ہی ہمارا آخری سچ ہو۔ سیالکوٹ کے علامہ اقبال نے ملت اسلامیہ میں ایک نئی روح پھونکی، فیض نے اٹھو میری دنیا کے مزدوروں کو جگا دو کا نعرہ بلند کیا اور کامران نے سیالکوٹ کے پرندوں کو نئے آسمانوں سے روشناس کروایا.
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  2. #2
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    11,928
    Mentioned
    79 Post(s)
    Tagged
    2306 Thread(s)
    Thanked
    24
    Rep Power
    21474855

    Default

    bu - Shajar Takhleeq Kiye


  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default

    Shukriya
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •