بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عہد مبارک میں دریائے نیل کی روانی کا قصہ۔

السلام علیکم!۔
دوستو!۔
قیس بن الحجاج اُس سے رایت کرتے ہیں جس نے اُن سے یہ قصہ بیان کیا کہ۔۔۔


جب ملک مصر فتح ہوا تو سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ (بطور گورنر) وہاں تشریف لائے جب عجمی مہینوں میں سے ایک مہینہ شروع ہوا تو (کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور) کہا کے اے حاکم وقت یقینا یہ ہمارے دریائے نیل کا ایک دستور ہے اور یہ اُس دستور کے بغیر اپنی روانی جاری نہیں رکھتا۔۔۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ دستور کیا ہے؟؟؟۔۔۔ (تو اُن میں سے کسی نے) کہا جب اس ماہ کی گیارہ راتیں گزر جاتی ہیں تو ہم ایک کنواری لڑکی جو اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہو تلاش کرتے ہیں اُس کے والدین کو رضامند کرتے ہیں پھر بہترین لباس پہنا کر (زیورات سے آراستہ کرکے) اُسے (بھینٹ چڑھاتے ہوے) دریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں (تو پھر دریائے نیل کی روانی جارہی رہتی ہے ورنہ رک جاتی ہے)۔۔۔


سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا۔۔۔ “اسلام میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا یقینا اسلام تو اپنے سے پہلے ( کی رسومات جاہلیت) کو مٹادیتا ہے اہل مصر اُس دن کام سے رخ گئے اور نیل تھا کہ نہ تو سست روی کے ساتھ بہتا نہ ہی تیزی کے ساتھ بلکہ اُس کی روانی بالکل رک گئی یہاں تک کے لوگوں نے مصر سے نکلنے کا ارادہ کر لیا۔۔۔


جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ دیکھا تو اس کے متعلق امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خط لکھا اور یہ بات بتلائی۔۔۔


سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب لکھ بھیجا کے آپ نے بالکل صحیح کیا اسلام تو واقعتا جاہلیت کی سابقہ رسومات کو مٹادیتا ہے اور آپ نے اپنے اُس خظ کے اندر ایک “رقعہ“ بھی ارسال فرمایا اور لکھ بھیجا کے میں آپ کی طرف اپنے اس خط کے ساتھ ایک “رقعہ“ بھی بھیج رہا ہوں آپ یہ رقعہ دریائے نیل میں ڈال دیں۔۔۔


جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آپ کا خط پہنچا تو انہوں نے وہ خط پڑھا اور وہ رقعہ اٹھایا اُسے کھولا تو اُس میں یہ لکھا تھا اللہ کے بندے عمر امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کی طرف امابعد!۔۔


اے نیل! اگر و اپنی مرضی سے بہتا ہے تو نہ بہہ (اپنا بہاؤ روک دے) اور اگر عزوجل تجھے بہاتا ہے تو میں اللہ الواحد القہار سے دُعا کرتا ہوں کے وہ تیرا بہنا جاری فرمادے۔۔۔


سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بھینٹ چڑھانے سے ایک دن قبل وہ رقعہ دریائے نیل میں ڈال دیا جب کے اہل مصر، مصر سے نکلنے کا فیصلہ کرچکے تھے چونکہ مصر میں اُن کی منفعت تو دریائے نیل سے وابستہ تھی۔۔۔


(الغرض) جب وہ رقعہ ڈالا گیا تو لوگوں نے یوم الصلیب کی صبح دیکھا کہ ایک ہی رات میں اللہ تعالٰی نے دریائے نیل میں سولہ ہاتھ تک کی اونچائی میں پانی بہادیا۔۔۔ پس اُس دن سے لے کر آج تک اللہ تعالٰی نے اہل مصر کے اس برے طریقہ کو ختم فرمادیا (یہ منکر روایت ہے)۔۔۔


تخریج۔۔۔
اس روایت کو ابو الشیخ (العظمہ ج ٤ ص ١٤٢٤) اللالکائی (الکرامات ص ١١٩) اور ابن عبدالحکیم نے فتوح مصر (ص ١٠٤) میں ابن لہیعہ عن قیس بن الحجاج عمن حدثہ کی سند سے روایت کیا۔۔۔


جرح! اس کی سند ضعیف ہے اس میں دو علتیں ہیں۔۔۔۔


پہلی علت!۔ ابن لہیعہ ہے اور یہ عبداللہ بن لہیعہ الحضرمی ہے یہ سُی الحفظ (برے حافظے والا) اور ضعیف ہے۔۔۔


دوسری علت!۔ اس میں ایک راوی (مجہول) ہے جس کا نام نہیں بیان کیا گیا۔۔۔ حوالے دیکھئے تہذیب التہذیب (ج٥ ص ٣٢٧) تقریب التہذیب (ص٣١٩ تا ٣٥٦٣) میزان الاعتدال (ج ٣ ص ١٨٩) الکاشف (ج ٢ ص ١٠٩) ابن الجوزی کی الضعفاء (ج ٢ ص ١٣٠) السندھی کی کشف الاستار (ص٥٨) اور ابن الکیال کی الکواکب النیرات (ص ٤٨١)۔


علامہ سیوطی نے “تخریج احادیث العقائد میں کہا کہ اس روایت کو ابو الشیخ ابن حبان نے کتاب العظمہ میں جس سند کے ساتھ بیان کیا اس سند میں ایک راوی مجہول ہے (ص١٤)۔


ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں (ج ١ ص ٢٧) اور سیوطی نے حسن المحاضرہ (ج ٢ ص ٣٥٣) میں اسے ذکر کیا ہے (انتھی)۔۔۔


عرض مترجم!۔

اس قصہ کا ضعف آپ کے سامنے ہے کہ اس کے بیان کرنے والے کا سراغ ہی نہیں ملتا کہ کون تھا؟؟؟۔۔۔ کیسا تھا؟؟؟۔۔۔ ایک مجہول نامعلوم شخص ہے جس نے یہ قصہ بیان کیا لیکن افسوس کے آج کتنے ہی محراب ومنبر ہیں کے جن پر یہ اور اس قسم کی سینکڑوں، ہزاروں کہانیوں کی گونج سنائی دیتی ہے اور کتنے ہی قصہ گوواعظین وخطباہیں جو جوش خطابت میں یا اپنے وعظ وتقریر کو خوش نما بنانے کے لئے اسے بیان کردیتے ہیں اور خبر قبولیت خبرواشاعت خبر سے متعلق قرآن وسنت کے بیان کردہ محکم اصول وضوابط کی کچھ پروا نہیں کرتے اور کتنے ہی ایسے علماء سوء ہیں جو عقیدہ توحید پر حملہ آور شرک وبدعات اور توہم پرستی کو سہارا دینے والی ایسی کہانیاں بیان کرتے ہوئے نہیں تھکتے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے طلسماتی ومن گھڑت کراماتی مذہب کو تقویت پہنچانے کے لئے اس قسم کی بےسند و بے ثبوت کہانیوں سے استدلال وحجت پکڑنے سے بھی ذرا نہیں ہچکچاتےکاش ایسا کرتے ہوئے وہ لمحہ بھر کو بوقف فرمائیں غور وفکر اور تدبر سے کام لیتے ہوئے ان کی قباحت وشناعت کا بھی اندازہ لگائیں تو شاید کے اپنے اس طرز تغافل سے باز آجائیں اب ذرا اس کہانی کی قباحب ملاحظہ کیجئے۔۔۔


کہانی بتلاتی ہے کہ ہر سال دریائے نیل اپنی روانی وبہاؤ کو روک دیتا پھر جب اہل مصر ایک کنواری لڑکی کو سجا دھجا کر اُسے دلہن بنا کر اُس کی بھینٹ چڑھاتے تو پھر دریائے نیل اُن کی اس قربانی سے خوش وخرم ہوکر اپنی ناراضگی ختم کردیتا ورنہ وہ اپنی روانی روک کر ایک ظالمانہ، وحشیانہ اور انسانیت سوز قربانی کا مطالبہاور اصرار کرتا۔۔۔


یہ کہانی بتلاتی ہے کہ وہ کوئی ایک آدھ سال کا اتفاق حادثہ یا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ تو ہرسال کا معمول تھا اُس کی پختہ عادت، قانون اور دستور تھا دریائے نیل ہر سال ایک دلہن ایک کنواری دوشیزہ کا چڑھاوا اور بھینٹ لئے بغیر چلتا ہی نہیں تھا اُس کا یہ قانون ودستور ایسا اٹل تھا کے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے انکار پر اُس نے تیزی کے ساتھ بہنا تو درکنار سست روی کے ساتھ بھی بہنا گوارہ نہیں کیا۔۔۔ حتٰی کے خود سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا مشاہدہ کیا گویا کے دریائے نیل میں یہ قوت وصلاحیت اختیاری طور پر موجود تھی کے چاہتا تو بہتا رہتا اور چاہتا تو اپنی روانی پر فل اسٹاپ لگا دیتا اور اپنا بہاؤ روک دیتا اور پھر دریائے نیل عقل وشعور سے بھی مالا مال تھا کے اپنا مطالبہ پورا ہوتے ہی بہنا شروع کردیتا کیا ہی زبردست کرشمہ تھا؟؟؟۔۔۔


بہت خوب! اب سرسوتی اور گنگا، جمنانامی، دریاؤں میں کرشموں کے قائل اور اُن کی داستانیں سنانے والوں کو کس منہ سے احمق کہا جائے؟؟؟۔۔۔ افسوس ہے ایسی کہانیوں کو سچا سمجھ کر بیان کرنے والوں کی عقل وفہم پر اُن کی چھوٹی سمجھ اور محدود سوچ پر۔۔۔


المختصر!۔ اس قسم کی کہانیوں کو سچا سمجھ کر بیان کرنے والے مولویان گرامی کو چاہئے کہ وہ دریاؤں سمندروں کی کرامتوں اور کرشموں کے بھی قائل ہوجائیں تاکہ ان بےسروپا کہانیوں پر پوری طرح سے عمل پیرا ہوں نہ صرف یہ کے ان کہانیوں کا بھی حق ادا ہوجائے بلکہ ان کے طلسمی کرامات کے من گھڑت قصوں اور دیومالائیکہانیوں کو بھی پوری تقویت ملے۔۔۔


واللہ تعالٰی اعلم



مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے