رسول مکرم محمّد صلی الله علیہ وسلم ابھی کم سن تھے اور آپکی عمر شریف محض بارہ سال کے لگ بھگ تھی کہ آپ اپنے چچا جناب ابو طالب کے ساتھ ایک قافلے کی شکل میں مکّہ سے بغرض تجارت روانہ ہوے -

قافلے نے ملک شام کے جنوب میں اس مقام پر پڑاؤ ڈالا جہاں قریب ہی '' بصرہ '' یا'' بوسیرہ '' میں ایک عیسائی راہب ''بحیرہ'' رہا کرتا تھا - اسنے انجیل مقدس اور دوسری کتابوں میں یہ پڑھ رکھا تھا کہ ایک آخری نبی مکّہ میں پیدا ہونگے - کتابوں میں اس نبی کے پیدا ہونے کی بہت سی نشانیاں بھی اسنے پڑھ رکھی تھیں -

اسکے علم کے مطابق وہ نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہوگئی تھیں - وہ وقت قریب آ چکا تھا جب الله کے آخری نبی کا ظہور ہونا تھا -
وہ الله کے اس عظیم نبی سے ملنے کا خواھشمند تھا - جب یہ قافلہ اسکے شہر کے قریب پڑاو ڈالے تھا تو اسکی متجسس نگاہیں اس قافلے پر مرکوز تھیں - اسکے علم میں جب یہ بات آ ئی کہ اس قافلے میں ایک بچہ ایسا ہے کہ وہ دھوپ میں جس طرف بھی جاتا ہے بادل کا ایک ٹکڑا اس پر سایہ فگن رہتا ہےتو خبر راہب کو یقین کی حد تک لے گئی کہ یہی الله کے آخری نبی ہیں - لیکن سو فیصد تصدیق کے لیے اسے ابھی کچھہ اور بھی تجربہ کرنا تھا - اسکا اضطراب دیدنی تھا -
حالانکہ وہ اپنی خانقاہ سے سا ل میں ایک یا دو بار ہی باہر آتا تھا۔ لیکن اس خبر نے اسے فوراً باہر آنے پر مجبور کردیا۔
اسنے قافلے کے تمام لوگوں کو کھانے پر مدعو کیا - سب لوگ دعوت پر آئے ۔لیکن وہ بارہ سال کا بچہ دعوت میں موجود نہیں تھا
جس سے وہ راہب ملنے کے لیے بے چین تھا - اس بچے کے نہ آنے سے وہ بے قرار باہر کی جانب آیا اور اس قافلے کے پڑاؤ کی جانب دیکھنے لگا- اسنے دیکھا کہ وہ بارہ سال کا بچہ تنہا ایک درخت کے نیچے آرام فرما رہا ہے - اس راہب کو بے قراری اور بڑھ گئی اور اسکو اب یقین کامل ہوگیا کہ یہی وہ ہستی ہے ، یہی وہ آخری نبی ہیں جسکے لیے الله سبحان و تعالی نے اس پوری کائنات کو پیدا فرمایا ہے - اس راہب نے اس درخت کے بارے میں پڑھ رکھا تھا کہ اس مقدس درخت کے نیچے آخری نبی ہی ہونگے جو آرام فرمائیں گے -
اس راہب نے عزت سے کم سن رسول سیدنا محمّد صلی الله علیہ وسلم کو ضیافت میں آنے کی درخواست کی اور پھر لوگوں کوآگاہ کیا کہ یہی وہ آخری نبی ہیں جن کا ذکر پاک مقدس انجیل میں موجود ہے - اس راہب نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کو نہ صرف مشورہ دیا بلکہ اس بات پر راضی بھی کیا کہ کہ وہ اس عظیم بچے کو واپس مکّہ لے جائیں کیوں کہ بہت سے یہودی اس متبرک بچے کی جان مبارک کے دشمن ہیں اور وہ انکی تلاش میں ہیں -

سنن الترمذی، کتاب المناقب ، باب ماجاء فی بدء نبوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم،
الحدیث:۳۶۴۰، ج۵،ص۳۵۶
اور۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، قصۃ بحیری، ص۷۳

میں یہ قصہ کچھ یوں ہے۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اعلان نبوت سے قبل تین بار تجارتی سفر فرمایا۔ دو مرتبہ ملک شام گئے اور ایک بار یمن تشریف لے گئے،یہ ملک شام کا پہلا سفر ہے اس سفر کے دوران '' بُصریٰ '' میں '' بُحیرہ ''راہب (عیسائی سادھو) کے پاس آپ کا قیام ہوا۔اس نے توراۃ وانجیل میں بیان کی ہوئی نبی آخر الزماں کی نشانیوں سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو دیکھتے ہی پہچان لیااور بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ اس نے آپ کے قافلہ والوں کی دعوت کی اور ابو طالب سے کہا کہ یہ سارے جہان کے سردار اور رب العالمین کے رسول ہیں، جن کو خدا عزوجل نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ شجر و حجران کو سجدہ کرتے ہیں اور بادل ان پر سایہ کرتا ہے اور ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے۔ اس لئے تمہارے اور ان کے حق میں یہی بہتر ہوگا کہ اب تم ان کو لے کر آگے نہ جاؤاور اپنا مال تجارت یہیں فروخت کرکے بہت جلد مکہ چلے جاؤ ۔کیونکہ ملک شام میں یہودی لوگ ان کے بہت بڑے دشمن ہیں۔ وہاں پہنچتے ہی وہ لوگ ان کو شہید کر ڈالیں گے۔بحیرٰہ راہب کے کہنے پر ابو طالب کو خطرہ محسوس ہونے لگا۔ چنانچہ انہوں نے وہیں اپنی تجارت کا مال فروخت کر دیا اور بہت جلدحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ واپس آ گئے۔ بُحیریٰ راہب نے چلتے وقت انتہائی عقیدت کے ساتھ آپ کو سفر کا کچھ توشہ بھی دیا۔