Results 1 to 2 of 2

Thread: 13 Rabi-ul-Awwal - Urs Hazrat Makhdoom Sabir Rehmatullah Alaih

  1. #1
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    exclaim 13 Rabi-ul-Awwal - Urs Hazrat Makhdoom Sabir Rehmatullah Alaih

    حضرت علاؤالدین احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ


    Kalyar3 - 13 Rabi-ul-Awwal - Urs Hazrat Makhdoom Sabir Rehmatullah Alaih

    حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ گیارہ ربیع الاول ۵۹۲ہجری میں افغانستان کے شہر ہرات میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ تھا جو بڑے متقی، صاحب دل اور با فیض بزرگ تھے آپ کی والدہ ماجدہ بی بی ہاجرہ رحمتہ اللہ علیہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی سگی بہن تھیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد آپ کی والدہ رحمتہ اللہ علیہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو لے کر ہرات سے اجودھن (پاکپتن شریف) میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا کہ اب اس بچے کی پرورش و تربیت آپ کریں ۔


    حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے بچے کی صورت دیکھتے ہی فرمایا یہ بچہ بڑا ہو کر اولیاء وقت میں سے ہو گا اور ایک دنیا اس سے فیض یاب ہو گی بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ نے خود آپ کو تعلیم دینا شروع کی آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ذہانت کا کمال تھا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تین سال کے اندر ہی تمام علوم ظاہری حاصل کر لئے ، تین برس کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ بھائی رحمتہ اللہ علیہ سے یہ کہہ کر ہرات واپس چلی گئیں کہ اب بھانجے کو علوم باطنی میں بھی کامل کر دیجئے اور کوئی تکلیف نہ ہو نے دیجئے گا حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کو بہن سے بہت محبت تھی حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ نے بہن کے سامنے ہی بھانجے کو مرید کر کے تقسیم لنگر کا کام حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کے سپرد کر دیا


    حضرت صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کی عمر گو کہ کم تھی مگر پھر بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ نے یہ اہم کام نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا ایک عرصے کے بعد جب آپ رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ رحمتہ اللہ علیہ نے واپس آ کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا تو آنکھوں سے آنسو نکل پڑے آپ رحمتہ اللہ علیہ سوکھ کر کانٹا ہو گئے تھے۔


    بھائی رحمتہ اللہ علیہ سے جا کر شکوہ کیا تو حضرت بابا فریدرح رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تم خود گواہ ہو کہ تمہارے سامنے ہی میں نے تقسیم لنگر کی خدمت اس کے سپرد کی تھی۔


    حضرت صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا گیا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا "آپ نے تقسیم لنگر ہی کا مجھے حکم دیا تھا یہ کب فرمایا تھا کہ اس میں سے کھا بھی لینا" یہ جواب سن کر ماموں پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے شفقت سے فرمایا '' علاؤالدین صابر است '' اور اسی وقت سینے سے لگا کر خدا جانے کیا کیا عطا فرما دیا اس کے علاوہ بھی آپ کے مجاہدے اور کرامتیں اس درجہ شدید صبر آزما تھیں کہ انہیں سن کر حیرت ہوتی ہے کثرت مجاہدہ اور فاقوں سے آپ کی طبیعت میں بہت ہی قہر و جلال پیدا کر دیا تھا۔
    ایک دن حضرت صابر کلیریرحمتہ اللہ علیہ کی والدہ نے حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کو آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بیٹی سے صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کی شادی کی بات کی تو بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ علاؤالدین رحمتہ اللہ علیہ کو شادی اور بیوی کا ہوش نہیں ہے لیکن بہن نہیں مانیں اور بھائی سے رشتے پر اصرار کرتی رہیں آخر بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ نے بہن کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنی بیٹی خدیجہ بیگم کے ساتھ حضرت علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کا نکاح پڑھا دیا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے جب دلہن پر نے نظر ڈالی تو دلہن کے جسم میں آگ لگ گئی صبح کو ماں آئی تو بہو کو راکھ دیکھ کر غصے میں کہا کہ میں تمھارے ماموں کو کیا جواب دونگی انہیں بھی فورا بخار آ گیا اور کچھ روز بعد وصال فرما گئیں۔


    اس کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ جو حجرے میں داخل ہوئے تو پورے نو سال اندر ہی رہے اور باہر نہیں نکلے نو برس کے بعد حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ جب حضرت مخدوم رحمتہ اللہ علیہ کے حجرے میں صبح کے وقت گئے تو دیکھا کہ آپ استغراق کے عالم میں بے حس و حرکت بیٹھے ہیں آپ کے کان میں سات مرتبہ الا اللہ بلند آواز سے کہا تو ہوش میں آ گئے اور مرشد کو سامنے دیکھ کر قدم چومے اور آداب بجا لائے حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو باہر لا کر خرقہ خلافت عطا کیا اور سند لکھی اور اسم اعظم کی تعلیم دی۔


    حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو دہلی کے لئے متعین کیا اور فرمایا پہلے ہانسی جا کر اپنے بھائی جمال سے اس پر مہر ثبت کرا لینا جب آپ رحمتہ اللہ علیہ سند لے کر ہانسی پہنچے تو حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ نے نہایت محبت اور احترام سے آپ کی مہمان نوازی فرمائی اور پیر روشن ضمیر بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے حالات صحت اور معلومات کی متعلق گفتگو کرتے رہے اسی دوران مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت مخدوم صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ نے دہلی کی خلافت کے لئے حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کی سند خلافت حضرت جمال الدین ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ کو پیش کی اور فرمایا کہ آپ اس پر مہر ثبت کر دیجئے اسی وقت چراغ گل ہو گیا تو جمال الدین ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا بھائی چراغ گل ہو گیا ہے۔ صبح مہر ثبت کردونگا لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا نہیں دوسرا چراغ منگوا کر اسی وقت مہر لگا دیجئے جمال الدین ہانسوی نے دوسرا چراغ منگوایا ابھی آپ مہر لگوانا ہی چاہتے تھے کہ دوسرا چراغ بھی گل ہو گیا اب آپ صبح مہر لگوا لینا۔


    اسی وقت حضرت علاؤالدین صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی انگلی پر دم کیا تو انگلی روشن ہو گئی آپ نے جمال الدین ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا اب آپ مہر ثبت کر دیجئے حضرت جمال الدین ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ رنگ دیکھا تو حضرت علاؤالدین صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کی سند چاک کر دی اور فرمایا تمہارے دم مارنے کی تاب دہلی میں کہاں تم تو ایک دم مارتے ہی دہلی کو جلا کر خاک کر دو گے جواباً حضرت مخدوم علاؤالدین صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ نے حالت جلال میں فرمایا کہ آپ نے میری سند خلافت چاک کی ہے میں نے آپ کا سلسلہ چاک کر دیا اور اجودھن جا کر حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کو ساری تفصیل گوش گزار کی۔


    حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ نے دوسری سند لکھ کر فرمایا میں کلیر شریف کا علاقہ تمہارے سپرد کرتا ہوں وہاں تکبر و غرور اور گمراہی کا ایک طوفان عظیم برپا ہے وہاں پہنچ کر خلق خدا کو ہدایت کرو اور اسلام کو تقویت پہنچائو کلیر اس عہد میں عظیم الشان بارونق شہر تھا امیر کلیر نے آپ کو شاہ ولایت تسلیم کر لیا مگر قاضی شہر نے ورغلایا کہ یہ جادوگر ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سن کر فرمایا اس طرح آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اس فقیر عاصی کے حق میں تازہ ہوئی ہے یہ فرما کر وہاں سے واپس چلے آئے۔


    آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کو خط ارسال کیا یہاں تو میں اطمینان قلب نماز اول کے ثواب سے بھی محروم ہو گیا ہوں حضرت بابا فرید الدین رحمتہ اللہ علیہ نے صبر کی تلقین فرمائی لیکن علماء و امراء کے غرور و تکبر کا وہی حال رہا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مرشد حق کو خط بھیجا حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو لکھا کہ شہر کلیر تمہاری بکری ہے تمھیں اختیار ہے خواہ اس کا دودھ پیو یا اس کا گوشت کھائو یہ جواب پا کر آپ رحمتہ اللہ علیہ جمعہ کے روز جامع مسجد میں گئے امراء شہر نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو مسجد سے نکال دیا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے غضب ناک ہو کر فرمایا ظالمو تم اللہ کے گھر میں بھی امتیازات پیدا کرتے ہو اور یہاں بھی بندہ بن کر نہیں آتے ہو لیکن کسی نے پرواہ نہیں کی آخر امام نے جب خطبہ ختم کیا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے جلا ل میں آ کر مسجد کو مخاطب کیا اور فرمایا کہ اب تو بھی سجدہ کر لے یہ فرماتے ہی عظیم الشان مسجد فورا ہی زمین بوس ہو گئی اہل کلیر گھبرائے ہوئے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا میں تو اللہ سے ویرانی کلیر کی دعا مانگ چکا ہوں اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔


    بہت سے افراد تو جامع مسجد میں دب کر ہلاک ہو گئے اس کے بعد شہر میں طاعون پھیل گیا جس نے تمام شہر کو ویران کر دیا ہزاروں مر گئے اور جو بچے وہ جنگلوں اور پہاڑوں پر بھاگ گئے آپ نور العارفین حضرت بابا فرید مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے جانشین تھے اور صابری سلسلہ آپ ہی سے جاری ہے حضرت شیخ علاؤالدین علی احمد صابر رحمتہ اللہ علیہ کو سماع کا بہت ذوق تھا اور وہ اکثر سے سنا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا وصال بھی عین حالت سماع ہی میں ہوا آپ میں جذبہ الہی حد سے زیادہ تھا زبان مبارک سے جو بھی نکل جاتا وہ پورا ہو جاتا دنیا اور دنیا والوں سے انہیں کوئی غرض نہ تھی ان سے وہ دور بھاگتے تھے اور ہمیشہ ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے۔


    ایک مرتبہ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے مریدوں میں سے ایک شخص حضرت صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا کہ آپ نے حضرت شیخ شمس الدین ترک پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ کے علاوہ کسی کو اپنا مرید اور خلیفہ نہیں بنایا اور میرے پیر و مرشد حضرت شیخ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ نے آسمان پر ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ اپنے مرید بنائے ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ میرا شمس ( رحمتہ اللہ علیہ ) ہی کافی ہے جو اللہ کے فضل سے سارے ستاروں پر غالب ہے وہ شخص خاموش رہا اور دہلی آ کر اس نے حضرت شیخ المشائخ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ واقعہ بیان کیا حضرت شیخ المشائخ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تم نے حضرت رحمتہ اللہ علیہ کو کیوں رنجیدہ کیا آئندہ ایسی حرکت نہیں ہونی چاہئے بے شک انہوں نے جو کچھ فرمایا صحیح ہے وہ مقرب بارگاہ ربانی ہیں۔


    حضرت علائوالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ ۱۳ ربیع الاول ٦٩٤ ہجری کو عین حالت سماع اور وجد میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کی آخری قیام گاہ کلیر شریف میں ہے۔ سلسلۂ چشتیہ کی دوسری سب سے بڑی شاخ آپ ہی کی نسبت سے صابری کہلاتی ہے اور آپ کے سلسلہ میں اتنے اولیاء و علماء پیدا ہوئے کہ شمار ناممکن ہے۔



  2. #2
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default

    جزاک اللہ خیر ۔۔۔

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •