Results 1 to 4 of 4

Thread: غم عاشقی سے کہہ دو، رہِ عام تک نہ پہنچے

  1. #1
    Join Date
    Mar 2015
    Location
    Karachi
    Posts
    726
    Mentioned
    6 Post(s)
    Tagged
    59 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    3

    Default غم عاشقی سے کہہ دو، رہِ عام تک نہ پہنچے

    غم عاشقی سے کہہ دو، رہِ عام تک نہ پہنچے
    مجھے خوف ہے یہ تہمت، مرے نام تک نہ پہنچے
    میں نظر سے پی رہا تھا، تو یہ دل نے بددعا دی
    تیرا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے
    وہ نوائے مضمحل کیا، نہ ہو جس میں دل کی دھڑکن
    وہ صدائے اہلِ دل کیا، جو عوام تک نہ پہنچے
    مرے طائرِ نفس کو نہیں باغباں سے رنجش
    ملے گھر میں آب و دانہ تو یہ دام تک نہ پہنچے
    نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ، یہ بھی ڈر ہے
    یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے
    یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک
    مگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے
    جو نقابِ رخ اٹھا دی تو یہ قید بھی لگادی
    اٹھے ہر نگاہ لیکن کوئی بام تک نہ پہنچے
    انہیں اپنے دل کی خبریں، مرے دل سے مل رہی ہیں
    میں جو اُن سے روٹھ جاؤں تو پیام تک نہ پہنچے
    وہی اک خموش نغمہ ہے شکیل جانِ ہستی
    جو زبان پر نہ آئے، جو کلام تک نہ پہنچے
    (شکیل بدایونی)

    1 - غم عاشقی سے کہہ دو، رہِ عام تک نہ پہنچے

  2. #2
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    11,928
    Mentioned
    79 Post(s)
    Tagged
    2306 Thread(s)
    Thanked
    24
    Rep Power
    21474855

    Default

    bu - غم عاشقی سے کہہ دو، رہِ عام تک نہ پہنچے


  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default

    Wah
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  4. #4
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Mideast
    Posts
    5,905
    Mentioned
    210 Post(s)
    Tagged
    5074 Thread(s)
    Thanked
    176
    Rep Power
    10

    Default

    V good

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •