ناشکری انسان کی سرشت میں شامل ہے، صحت یاب ہوکر کبھی طبیب کی یاد نہیں آتی۔ اس کی کشتی طوفان میں پھنس جائے تو اسے صرف اللہ یاد آتا ہے۔ پھر وہ اللہ اپنے مجبور و بے کس بندے کو سمندر سے نکال کر خشکی پر لے آتا ہے تو بندہ یک دم سب کچھ فراموش کردیتا ہے۔
اللہ ان کو زیادہ عزیز رکھتا ہے جو سکھ میں بھی عاجزی اختیار کئے رہتے ہیں۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’سانس ساکن تھی‘‘ سے اقتباس)