Hazrat Imam Jafar Sadiq رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

پندرہ رجب المرجب - یوم حضرت سیدنا :امام جعفر صادق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ


ولادتِ باسعادت: ولادت باسعادت ۱۷ ربیع الاوّل ۸۳ھ میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔

کنیت:ابو عبد اللہ اور ابو اسماعیل القاب:صادق،فاضل اور طاہر ہے۔


شجرہ نسب:آپ کا شجرہ نسب یوں ہے:امام جعفر صادق بن محمد باقر بن امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔


خاندانی تعلق:آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ سیِّدُناامام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ حضرتِ سیِّدَتُنا امّ فردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا امیرالمؤمنین حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوتی تھیں۔


تعلیم وتربیت:آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تبعِ تابعین، اہلِ بیت سادات کرام، جلیل القدر ائمۂ طریقت میں سے ہیں، آپ کی تعلیم وتربیت اپنے جدِ امجد امام زین العابدین اوروالدِ ماجد امام باقر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کے زیرِ سایہ ہوئی،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شجرِ نبوت کا ثمرِ شیریں ہیں، فقہائے مدینہ میں آپ کا شمار ہے،آپ اشارات میں کامل،علوم میں عدیم النظیرہیں،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی فضیلت سب پر ثابت وعیاں ہے۔


علمی مہارت:آپ لطائفِ تفسیر اور اسرارِ تنزیل میں بے نظیر تھے، حافظِ حدیث اور ماہرِ فقہ تھے، الغرض آپ تمام علوم وارشارات میں کامل اور مشائخ کے پیشرو اور مقتدائے مطلق تھے، آپ اخلاقِ حسنہ اور تفسیر قرآن بلکہ جملہ علوم میں عدیم النظیر تھے۔


دینی خدمات:آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مقتدائے امت ہیں،شش جہاتِ عالم میں آپ کی خدمات کا چرچا ہے، شرق تا غرب آپ کے کمالات مشہور ہیں، تاحیات خلقِ خدا کو مستفیض فرمایا،آپ کے کلمات وطیبات پند وموعظت کا دفتر ہیں،ایک مرتبہ حضرتِ سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عرض کیا مجھے کچھ نصیحت فرمائیے! فرمایا: اے سفیان !فاجر سے صحبت مت رکھ! تجھ پر فجور غالب آئے گا،جو شخص ہر آدمی سے صحبت رکھتا ہے وہ سلامت نہیں رہتا۔


تلامذہ:امام الفقہ امام اعظم، امام مالک،سفیان ثوری،سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم۔


تاریخ وفات ومدفن:آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ۱۵ رجب المرجب ۱۴۹ھ کووصال فرمایا، مزارمبارک جنت البقیع میں زیارت گاہِ خلائق ہے۔


٢٢ رجب نیاز حضرتِ سَیِّدُنا امام جعفر صادق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ


رَجبُ المُرَجَّب کی 22 تاریخ کو مسلمان حضرتِ سَیِّدُنا امام جعفر صادق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الخَالِق کے ایصالِ ثواب کے لیے کھیر پوریاں پکاتے ہیں جنہیں ’’کونڈے شریف‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِ س کے ناجائز یا گناہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ، ہاں بعض عورتیں کونڈوں کی نیاز کے موقع پر ’’دس بیبیوں کی کہانی‘‘ ،’’لکڑہارے کی کہانی‘‘ وغیرہ پڑھتی ہیں یہ جائز نہیں ، کیونکہ یہ دونوں اور جنابِ سیِّدہ کی کہانی سب من گھڑت کہانیاں ہیں ان کو نہ پڑھا کریں ، اِس کے بجائے سورہ ٔ یاسین شریف پڑھ لیا کریں کہ دس قراٰن ختم کرنے کا ثواب ملے گا ۔یہ بھی یاد رہے کہ کونڈے ہی میں کھیر کھانا ،کھلانا ضروری نہیں دوسرے برتن میں بھی کھا اور کھلا سکتے ہیں


بے شک نیاز وفاتحہ کی اصل(یعنی بنیاد) ایصالِ ثواب ہے اور ’’رجب کے کونڈے ‘‘بھی ایصالِ ثواب ہی کی ایک قسم ہے اور ایصالِ ثواب(یعنی ثواب پہنچانا) قراٰنِ کریم و احادیث مبارَکہ سے ثابت ہے۔ایصالِ ثواب دُعا کے ذریعے بھی کیاجاسکتا ہے اور کھاناوغیرہ پکا کر اُس پر فاتحہ دلا کر بھی ہوسکتا ہے۔


کونڈے کرنا فرض یا واجب تو نہیں لیکن عمل ضرور ہے کرنے والا ثواب پائے گا لیکن نا کرنے پر گناہ نہیں مگر جو اسے حرام کہتے ہیں وہ اک نیک عمل سے روکتے ہے . کونڈے کو ناجائز کہنا ، شریعت پر افتراء ( یعنی تہمت باندھنا ) ہے نا جائز کہنے والے قرآن شریف کی اِس آیَت پر غور کرے


اے ایمان والوں ! حرام نا ٹھہراؤ وہ سُتھری چیزیں کے اللہ نئے تمہارے لیے حلال کی اور حد سے نا بڑھو . بے شک حد سے بڑھنے والے اللہ کو پسند نہیں .
[Terjama-e-Kanz-ul-Iman] (Parah 7, Surah-e-Maidah, Ayat 87)