شخصیت و معمولات
آپ نازک بدن اور درمیانہ قدتھے۔ رنگ گندمی تھا۔ سینہ کشادہ تھا، بھویں ملی ہوئی تھیں، داڑھی طویل اور گنجان تھی، آواز بلند تھی۔
آپ ہفتے میں تین مرتبہ عوامی مجلس سے خطاب فرمایا کرتے تھے اور ہر روز صبح اور شام کے وقت آپ تفسیر، حدیث اور سنت نبوی کا درس دیا کرتے تھے۔ دن کے ابتدائی حصے میں تفسیر اور حدیث و اصول فقہ کی تعلیم دیتے اور ظہر کے بعد قرات کے ساتھ قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے۔ظہر کی نماز کے بعد آپ فتوے کا کام انجام دیا کرتے تھے۔ دوردراز کے شہروں اور ملکوں سے جو کچھ سوالات آپ کی خدمت میں آیا کرتے تھے ان کے جوابات تحریر فرماتے تھے۔ آپ امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ دونوں کے مسلک پر فتوی دیا کرتے تھے۔
آپ کی ذات مستجاب الدعوات، رقیق القلب اور علم دوست تھی۔ایک طرف آپ روحانی علوم کے حامل، عارف باللہ اور باکمال صوفی نظر آتے ہیں تو دوسری طرف سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پابند، فقہ و حدیث کے استاد، مفتی، مصنف، مصلح اور مبلغ کی حیثیت سے بھی آپ نمایاں ہیں۔
سید ہونے کی وجہ سے صدقہ لینا آپ کے لیے جائز نہیں تھا۔ ہدیہ بھی بہت مشکل سے قبول کرتے تھے کیوں کہ ہدیہ دینے والے کو اس بات کا ثبوت پیش کرنا ہوتا تھا کہ اس کا مال حلال طریقے سے کمایا ہوا ہے۔ حضرت شیخ کے پاس جب کوئی ہدیہ آتا تو آپ سب کا سب یا اس کا کچھ حصہ حاضرین مجلس میں تقسیم فر ما دیتے اور ہدیہ بھیجنے والے کے پاس بطور اظہار تشکر خود بھی ہدیہ بھجتے تھے۔ (قلائد الجواہر)
آپ کے پاس زمین کا ایک ٹکڑا تھا جس میں آپ دیہاتیوں سے کاشت کرواتے۔ آپ کے بعض اصحاب اناج پیس کر چار پانچ روٹیاں تیار کر دیتے پھر آپ ان روٹیوں میں سے ایک ایک ٹکڑا حاضرین مجلس میں تقسیم فرما دیتے اور جو کچھ باقی بچتا اس کو اپنے لیے رکھ لیتے۔ (قلائد الجواہر)
آپ علما کے شایان شان لباس پہنتے تھے جو پر تکلف ہوتا تھا (قلائد الجواہر)۔ خود حضرت شیخ کا قول ہے:
’’اے دنیا بھر کے اہل مملکت و شاہان و سلاطین و حکام! میرے گھر میں اندر بہت سے کپڑے لٹکے ہوئے ہیں جس لباس کا جی کرتا ہے پہن لیتا ہوں۔‘‘ (ملفوظات شیخ )
اپنی تمام تر عبادات اور مجاہدوں کے باوجود آپ بیوی بچوں کا پورا پورا خیال رکھتے تھے۔ آپ فرماتے تھے جو شخص حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں راہوں پر گامزن رہتا ہے وہ بہ نسبت دوسرے لوگوں کے مکمل اور جامع ہوتا ہے۔کیونکہ یہی صفت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تھی۔ (قلائد الجواہر)
حضرت شیخ کے پاس عراق کے مختلف علاقوں سے کثیر تعداد میں فتوی آیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ بغداد میں ایک فتوی آیا جو تمام علمائے عراق کے سامنے پیش ہوا تھا لیکن کوئی بھی عالم اس کا مناسب جواب دینے سے قاصر رہا تھا۔ مسئلہ یوں تھا کہ اگر کسی شخص نے یہ قسم کھالی کہ وہ ایسی عبادت کرے گا جس میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہ ہو اور اگر وہ ایسا نہ کرسکا تو اس کی بیوی کو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔جب یہ فتوی دوسرے تمام علما کے پاس سے ہوتا ہوا حضرت شیخ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے فوری طور پر جواب دیا کہ کچھ دیر کے لیے مطاف کعبہ خالی کرایا جائے اور مذکورہ شخص اس میں طواف کرے۔ اس طرح اس کی قسم پوری ہوجائے گی۔
ایک اور فتوی کی روداد اس طرح سے ہے:
’’حکایت کے طور پر نقل کیا گیا ہے کہ حضرت شیخ کے زمانے میں کسی شخص نے اپنی بیوی کے لیے طلاق کی قسم کے ساتھ کہا کہ میں بایزید بسطامیؒ سے افضل ہوں اور جب علمائے عراق سے فتوی طلب کیا گیا تو کسی نے بھی فتوے کا جواب نہیں دیا۔ جب وہ شخص زیادہ پریشان ہوا تو لوگوں نے اس کو شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے پاس جانے کو کہا۔ چنانچہ اس نے آپ کے پاس آکر پورا واقعہ بیان کیا اور معلوم کیا کہ میں اپنی بیوی کو الگ کر دوں یا ساتھ رکھوں؟ آپ نے ڈانٹ کر فرمایا: ’’ساتھ رکھو کیونکہ تم کو بایزید بسطامیؒ پر فضیلت اور سبقت اس اعتبار سے رکھتے ہو کہ تم نے فتوے کا علم حاصل کیا اور وہ مفتی نہیں تھے۔ تم نے نکاح کیا اور ان کا نکاح نہیں ہوا، تم اپنی اولاد کے رزق کا خیال رکھتے ہو اور وہ اس سے محروم تھے۔‘‘ (قلائد الجواہر)
حضرت شیخ بادشاہوں سے کبھی نہیں ملتے تھے مگر بادشاہ بڑے اصرار سے حاضری کی درخواست کرتے تھے۔ ان کے آنے سے پہلے حضرت مکان کے اندر تشریف لے جاتے تھے اور جب بادشاہ آکر بیٹھ جاتا تب آپ مجلس میں تشریف لاتے تا کہ بادشاہ کی تعظیم کی خاطر نہ اٹھنا پڑے۔آپ ان کے مال کو بھی جائز اور حلال نہ سمجھتے تھے بلکہ آپ ان کو بیت المال میں خیانت کرنے والا سمجھتے تھے۔
آپ برسر منبر معاشرے کے بھٹکے ہوئے افراد کی اصلاح کی کوشش فرماتے رہتے اور بعض اوقات سخت گرفت فرماتے تھے اور اس میں کسی سے خوف نہ کھاتے تھے۔ آپ فرماتے تھے:
’’میں تم سے حق بات کہہ رہا ہوں اور نہ تم سے ڈرتا ہوں اور نہ امید رکھتا ہوں۔ تم اور ساری زمین کے لوگ میرے نزدیک مچھر اور چیونٹی جیسے کمزور ہیں۔ کیونکہ میں نفع اور نقصان سب حق تعالیٰ ہی کی طرف سے سمجھتا ہوں۔‘‘ (الفتح الربانی مجلس ۵۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا : کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا۔‘‘(نسائی)۔چنانچہ جب عباسی خلیفہ المقتضی بامر اللہ نے ایک ظالم ابوالوفا جو ابن مرجم کے نام سے مشہور تھا کو گورنر مقرر کیا تو اسی فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں جناب شیخ نے منبر پر خلیفہ کو یوں مخاطب کیا:
’’آج تو نے جس ظالم کو مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار مقرر کیا ہے کل قیامت کے دن اس تقرر کے بارے میں کیا جواب دے گا؟‘‘
یہ خطاب سن کر خلیفہ لرز گیا اور فورا ابن مرجم کی برطرفی کا حکم جاری کیا۔ (قلائد الجواہر)
معاشرے کے مختلف طبقوں کو خطاب کرتے ہوئے حضرت شیخ فرماتے ہیں:
’’اے بادشاہو! اے غلامو! اے ظالمو! اے منصفو! اور اے مخلصو! دنیا ایک محدود وقت کے لیے ہے اور آخرت لامحدود مدت کے لیے۔ اپنے مجاہدے اور زہد سے اللہ تعالیٰ کے سوا سب کو چھوڑ کر اپنے رب کے غیر سے اپنے دل کو پاک صاف بناؤ۔‘‘ (الفتح الربانی مجلس ۵۱)
جلاء الخواطر کی مجلس نمبر ۲۹ میں ارشاد فرماتے ہیں:
’’تم اپنے محل کے ارد گرد کے پہریدار سے اس سے زیادہ ڈرتے ہو جتنا کہ تم اپنے رب جلیل سے ڈرتے ہو۔ تم ان کو مال دیتے ہو اور ان کے لیے تحفے بھیجتے ہو۔ اس لیے کہ وہ تمہارے گھر کی خرابی اور تمہاری مہربانی سے مطلع ہیں۔‘‘
جلاء الخواطر کی چھٹی مجلس میں فرماتے ہیں:
’’اے منافق یہ مرتبہ تمہیں اپنے نفاق اور ریاکاری سے کب ہاتھ آسکتا ہے۔ تم تو اپنی مقبولیت لوگوں میں دیکھنا چاہتے ہو۔اپنے ہاتھوں کو چومتے چماتے دیکھنا چاہتے ہو۔تم اپنے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں منحوس ہو اور اپنے مریدوں کے لیے بھی جو تمہارے زیرتربیت ہیں۔تم ریاکار ہو، جھوٹے ہو، لوگوں کا مال اڑانے والے ہو۔ جب غبار چھٹے گا تو دیکھو گے کہ گھوڑے پر سوار ہو یا گدھے پر۔‘‘
بے علم صوفیوں سے خطاب فرماتے ہوئے جلاء الخواطر مجلس ۴۵ میں فرماتے ہیں:
’’اے گھروں اور خانقاہوں میں نفس، طبیعت، خواہش نفسانی اور علم کی کمی کے ساتھ بیٹھنے والو! تم پر لازم ہے کہ علم پر عمل کرنے والے شیوخ کی صحبت اختیار کرو۔ تم میں سے بہت سارے حرص اور لالچ کا شکار ہیں۔ اپنی خانقاہوں میں بیٹھے مخلوق کی پوجا کرتے ہو۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
جو شخص دین کا علم غیر اللہ کے لیے سیکھے وہ اپنے اس ٹھکانے میں ٹھہرنے کے لیے تیار ہوجائے جو دوزخ میں ہے۔ (ترمذی)
ایسے ہی بے عمل عالموں سے خطاب فرماتے ہوئے حضرت شیخ فرماتے ہیں:
’’تمہارے علوم کتنے زیادہ ہیں اور تمہارے اعمال کتنے کم۔ تم نے علم کو اپنے نصیبہ کی حفاظت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔اور کہانیاں اور واقعات کا اضافہ کردیاہے۔یہ بات تمہیں فائدہ نہ دے گی۔اتنی اور اتنی حدیثیں یاد کرتا ہے اور ان میں سے ایک حرف پر بھی عمل نہیں کرتا۔‘‘ (جلاء الخواطر مجلس ۳۸)

(جاری ہے)​