Results 1 to 2 of 2

Thread: جو چلے تو جاں سے گزر گئے

  1. #1
    Join Date
    Mar 2015
    Location
    Karachi
    Posts
    726
    Mentioned
    6 Post(s)
    Tagged
    59 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    3

    Default جو چلے تو جاں سے گزر گئے

    نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوادیا
    جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لٹادیا
    مرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
    وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکادیا
    کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
    کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلادیا
    اُدھر ایک حرف کے کشتنی، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
    جو کہا تو ہنس کے اڑادیا، جو لکھا تو پڑھ کے مٹادیا
    جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
    رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا
    (فیض احمد فیض)
    1 - جو چلے تو جاں سے گزر گئے

  2. #2
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default

    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •