میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے
حضرت شیخ سے ایک جملہ منسوب ہے کہ: ’’ میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔‘‘شیخ الاسلام شہاب الدین احمد عسقلانی ؒ سے جس وقت یہ پوچھا گیا کہ حضرت شیخ کے اس قول کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے کہا :
’’اس کا ظاہری مفہوم تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان سے ایسی کرامتیں ظاہر ہوں گی جن کا سوائے حاسدین اور مخالفوں کے اور کوئی انکار نہ کرسکے گا۔ ‘‘ (قلائد الجواہر)
’’بعض حضرات قدم سے مجازی معنی مراد لیتے ہیں اور ادب کا تقاضا بھی یہی ہے۔ لہذا قدم سے مراد طریقہ بیان کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بزرگوں کا احترام بے معنی ہو کر رہ جاتاہے۔ دوسرے یہ کہ ایسے عظیم عالم، عارف کامل کے قول کو فصاحت و بلاغت کے اعلی نمونے پر خیال نہ کرنا انصاف کے تقاضے کے خلاف ہے۔لہذا حضرت کے مقام کے مطابق یہی مطلب زیادہ دلنشیں ہے۔ باقی پوشیدہ مفہوم کا علم تو عالم الغیب حق سبحانہ تعالیٰ ہی کو ہے۔‘‘(قلائد الجواہر)
اس کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس قول سے آپ کی عظمت و تکریم مقصود ہے۔ (قلائد الجواہر)
وصال
آپ کا وصال ربیع الثانی ۵۶۱ھ میں نوے (۹۰) سال کی عمر میں ہوا۔البتہ تاریخ کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے۔ بعض ۱۰ ربیع الثانی بتاتے ہیں اور بعض ۱۱ ربیع الثانی۔ وصال سے پہلے ایک دن رات آپ کی طبیعت ناساز رہی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے علاوہ حضرت شیخ کبھی بیمار نہیں ہوئے۔
آپ کے بیٹوں نے غسل دیا اور آپ کے بیٹے عبدالوہاب نے نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ رات کے وقت مدرسے ہی میں ادا کی گئی۔اس موقع پر آپ کے شاگرد، مرید اور عقیدت مند بڑی تعداد میں موجود تھے۔اسی رات مدرسہ ہی میں آپ کو دفن کیا گیا۔
گیارہویں شریف
ایک عمل جو حضرت شیخ کی ذات سے وابستہ ہے وہ گیارہویں شریف ہے۔ گیارہویں شریف دراصل حضرت شیخ کے لیے ایصال ثواب کرنے کا نام ہے۔اہلسنت کے نزدیک ایصال ثواب کے لیے کوئی خاص تاریخ ضروری نہیں، یعنی یہ ضروری نہیں کہ گیارہویں شریف گیارہ تاریخ ہی کو ہو گی ورنہ نہیں۔ جب بھی ایصال ثواب کیا جائے جائز ہے۔اس صورت میں بھی اسے گیارہویں شریف ہی کہا جاتا ہے۔رہا کسی خاص دن کو مقرر کرنا تو یہ سہولت کی خاطر کیا جاتا ہے نہ کہ دینی تقاضا سمجھ کر (نہ ہی سمجھنا چاہیے)۔ اسی طرح ایصال ثواب کا کوئی خاص طریقہ بھی مقرر نہیں۔ ہر نیک کام کا اجر و ثواب بخشا جا سکتا ہے۔
(جاری ہے)​