اک تمنا کہ سحر سے کہیں کھوجاتی ہے
شب کو آکر مری آغوش میں سوجاتی ہے
یہ نگاہوں کے اندھیرے نہیں چھٹنے پاتے
صبح کا ذکر نہیں صبح تو ہوجاتی ہے
رشتۂ جاں کو سنبھالے ہوں کہ اکثر تری یاد
اس میں دوچار گہر آکے پروجاتی ہے
دل کی توفیق سے ملتا ہے سراغ منزل
آنکھ تو صرف تماشوں ہی میں کھوجاتی ہے
کب مجھے دعویٰ عصمت ہے مگر یاد اس کی
جب بھی آجاتی ہے دامن مرا دھو جاتی ہے
ناخدا چارۂ طوفاں کرے کوئی ورنہ
اب کوئی موج سفینے کو ڈبو جاتی ہے
کرچکا جشن بہاراں سے میں توبہ حقی
فصل گل آکے مری جان کو رو جاتی ہے
(شان الحق حقی)
1 - اک تمنا کہ سحر سے کہیں کھوجاتی ہے