عبادت کی حقیقت
لفط الہ کا اردو زبان میں ترجمہ معبود سے کیا جاتا ہے۔ یعنی وہ جس کی عبادت کی جائے۔ الہ میں اور عبادت میں گہرا تعلق ہے۔چنانچہ لفظ الہ کی حقیقت سمجھنے کے لیے عبادت کی حقیقت کو سمجھنا بھی ضروری ہوا۔ عبادت کی حقیقت کسی ہستی کے لیے اپنی مرضی سے قولا یا فعلا اظہار ذلت (انکساری) و عاجزی کرناہے۔اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے دو باتیں جاننا بے حد ضروری ہے۔
پہلی بات

یہ بات یقینی ہے کہ انسان کسی ہستی سے اپنے اختیار سے انتہا درجے کی عاجزی و انکساری سے پیش نہیں آتا جب تک وہ اس کے کسی کمال اور عظمت کا قائل نہیں ہو جاتا۔ یہ عظمت اس کے دل میں اس کی محبت پیدا کردیتی ہے جو اس ہستی کی تعظیم کا محرک بنتی ہے۔ جب یہ دونوں باتیں یعنی اس ہستی کی عظمت و کمال کا اعتقاد اور اس کی محبت دل میں گھر کر لیتی ہے تو اس کے نتیجے میں اس انسان سے اس ہستی کی عظمت اور تعظیم کے اظہار کے لیے کچھ اعمال وجود میں آتے ہیں جو قول و فعل دونوں صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں (حاشیہ: [1])۔ خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہستی کی عظمت کا اعتقاد پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اس ہستی کی عظمت کے اظہار والے اقوال و اعمال وجود میں آتے ہیں۔
دوسری بات
اب یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ کسی ہستی کے اس درجے باکمال ہونے کا عقیدہ کس طرح پیدا ہوتا ہے کہ انسان اس کی ایسی عظمت کا قائل ہوجاتا ہے کہ اس کے سامنے اپنے آپ کو عاجز سمجھنے لگتا ہے۔اس کے دو اسباب ہیں:
اول علم کامل، خواہ ذاتی،خواہ عطائی۔
دوم قدرت کامل یعنی کامل تصرف مافوق الاسباب، یعنی ہر چیز کرنے یا کروانے کی کامل قدرت خواہ ذاتی خواہ عطائی۔
اب علم کامل اور قدرت کامل کو سمجھتے ہیں۔
علم کامل
یہ بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں علم ہر مخلوق کو حاصل ہے۔ یہ بھی ہر شخص جانتا ہے کہ مخلوق کا علم ظاہری و باطنی اسباب کے ماتحت ہے۔ مثلا ہمیں اپنے پانچ حواسوں کے ذریعے بہت سی باتوں کا علم حاصل ہوتا ہے۔ یا کوئی انسان اپنی فکری قوتوں کے ذریعے بھی بہت کچھ جان لیتا ہے۔لیکن کوئی شخص بھی اسباب کے ذریعے سے حاصل ہونے والے علم کی وجہ سے کسی ہستی کا ایسا گرویدہ اور اتنا مرعوب نہیں ہوجاتا کہ اس کے سامنے انتہا درجے کی عاجزی و انکساری یعنی خدائی تعظیم کرنے لگے۔ ہاں جب وہ کسی ہستی کے متعلق یہ گمان کرے گا کہ اس کو اسباب سے بالا یعنی اسباب سے ہٹ کر یعنی علم مافوق الاسباب کچھ اور قوتیں حاصل ہیں جس وجہ سے وہ ایسے علوم کا حامل ہے کہ وہ ہر وقت میری ہر نقل و حرکت کو جان رہا ہے، میری ہر پکار اورثنا کو سن رہا ہے۔ وہ ہر وقت میرے ساتھ ہے تب وہ اس ہستی کا گرویدہ ہوکر اس کے لیے خدائی تعظیم کرنے لگ جائے گا۔کیونکہ وہ جانے گا کہ یہ کمالات مخلوق کے کمالات کی قسم سے نہیں ہے بلکہ خدائی کمال کی جنس سے ہے۔
قدرت کامل
قدرت کامل کے دو پہلو ہیں:
پہلا یہ کہ وہ ہستی ہر کام کرنے کی قدرت رکھتی ہے،
دوسرا یہ کہ وہ ہستی ہر کام کروانے کی قدرت رکھتی ہے (حاشیہ: [2]
ہر کام کرنے کی قدرت کا کیا مطلب ہے اس کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے آلات ، ظاہری و باطنی، کے ذریعے عالم کی اشیا میں تصرف کرسکتا ہے یعنی ان کو اپنے تابع کرسکتاہے۔ یہ تصرف اسباب کے ماتحت ہوتا ہے۔مثلا وہ ٹھنڈے پانی کو گرم کرسکتاہے یا گرم پانی کو ٹھنڈا کرسکتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے وہ اسباب کا پابند ہے۔ چنانچہ ٹھنڈے پانی کو گرم کرنے کے لیے اس کو آگ کا انتظام کرنا پڑے گا۔ یا گرم پانی کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے برف کا انتظام کرناپڑے گا۔ انسانوں کے علاوہ بھی جاندار مخلوق میں اس طرح کے تصرف کی قوت کسی نہ کسی درجے میں موجود ہے۔ کیونکہ ہرانسان سمجھ سکتا ہےکہ اس طرح کے تصرفات وہ چاہے کتنے ہی حیران کن ہوں اسباب کے بغیر نہیں ہوسکتے۔ اس لیے کوئی انسان محض کسی کے ظاہری تصرفات کو دیکھ کر اس کا اتنا گرویدہ نہیں ہوجاتا کہ اس کی عبادت کرنے لگے۔ قدرت کامل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ ہستی ایسی قدرت والی ہے کہ وہ جب اور جس وقت چاہے اپنی مرضی نافذ کرسکتی ہے۔ چنانچہ جب انسان کسی ہستی کے متعلق یہ مان لے کہ اس کو ایسی قدرت کامل حاصل ہے جو اسباب سے ہٹ کر یعنی مافوق الاسباب ہے تو پھر اس کی عقیدت اس درجے میں آجاتی ہے کہ وہ اس کو معبود بنانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ مثلا اگر وہ ہستی مردے کو زندہ کردے تو ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ اسباب سے بالا بات ہے اس لیے وہ ایسی ہستی کو اپنا معبود بنانے کے لیے راضی ہو جاتا ہے اور اس سے نفع و نقصان کی امید لگاتا ہے۔ (حاشیہ: [3])۔ ان مذکورہ اوصاف یعنی علم کامل اور قدرت کامل والی ہستی جس کو انسان معبود بناتا ہے اور اس کو راضی کرنے والے اعمال کرتا ہے وہ ہستی مندرجہ ذیل چار حیثیتوں میں سے ایک حیثیت میں ہوسکتی ہے:
1) وہ معبود خود ہی علم کامل اور قدرت کامل والے اوصاف سے متصف ہے۔ اس کو معبود حقیقی کہہ لیجیے۔
2) یا وہ معبودِ حقیقی کا شریک ہو،
مشرکین عرب جب طواف کرتے تو یہ تلبیہ پڑھتے:
لبيك لا شريك لك الا شريكا هو لك تملكه وما ملك (صحیح مسلم)
ہم حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک تیرا (ہی مقرر کردہ) ہے تو اس کا مالک ہے اور مالک نہیں (تیرا)۔
اس مشرکانہ تلبیے سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب یہ سمجھتے تھے اللہ کی ملکیت میں کچھ ہستیاں عطائی طور پر شریک تھیں (حاشیہ: [4])۔ یعنی اس نے خود کسی کو کا اپنا شریک بنالیا ہے۔
3) یا وہ معبودِ حقیقی کا مددگار ہو کہ اس کو بھی خدائی امور میں عمل دخل حاصل ہوجائے،
4) یا اس کو معبود حقیقی کے یہاں ایسی پوزیشن حاصل ہو جس کے ذریعے سے وہ معبودحقیقی سے اپنی بات (طوعا و کرہا) منوا سکتا ہے۔
جب کوئی ہستی ان اوصاف سے خالی ہو تو ایسی ہستی سے کسی نفع کی امید لگانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا یعنی اس کی عبادت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
ان چاروں میں سے دوسری، تیسری اور چوتھی شرک کی صورتیں ہیں اور قرآن پاک ان کا رد کرتا ہے۔ ان دو باتوں یعنی کامل علم اور کامل قدرت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب ہم قرآن پاک کی آتیوں پر غور کرتے ہیں۔
الله لا اله الا هو الحي القيوم لا تاخذه سنة ولا نوم له ما في السمٰوٰت وما في الارض من ذا الذي يشفع عنده الا باذنه يعلم ما بين ايديهم وما خلفهم ولا يحيطون بشيء من علمه الا بما شاء(بقرۃ: 256)
اللہ (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے)
اس آیت میں جس کو آیت الکرسی (حاشیہ: [5])کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ دعوی کیا ہے کہ عبادت کے لائق صرف میں ہوں۔ اس کے بعد اس کے دلائل بیان کیے ہیں۔
فرمایا:لہ ما فی السمٰوٰت و ما فی الارض یعنی جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا مالک وہی ہے۔
پھر فرمایا: من ذا الذي يشفع عنده الا باذنه یعنی کسی کو اختیار نہیں کہ اس کی مرضی کے خلاف کچھ کراسکے۔ یعنی کسی کو کوئی قدرت حاصل نہیں ہے۔
پھر فرمایا: يعلم ما بين ايديهم وما خلفهم ولا يحيطون بشيء من علمه الا بما شاء ہر چیز کا علم اسی کو ہے، کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں، مخلوق اتنا ہی جانتی ہے جتنا وہ بتانا چاہتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ شرک کے دونوں راستے یعنی علم کامل اور قدرت کامل دونوں کا رد کردیا گیا۔
وربك يخلق ما يشاء ويختار ما كان لهم الخيرة سبحان الله وتعالى عما يشركون() وربك يعلم ما تكن صدورهم وما يعلنون () وهو الله لا اله الا هو له الحمد في الاولى والآخرة وله الحكم واليه ترجعون۔ (القصص: 68-70)
اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کرلیتا ہے۔ ان کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ یہ جو شرک کرتے ہیں اللہ اس سے پاک وبالاتر ہے، اور ان کے سینے جو کچھ مخفی کرتے اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار اس کو جانتا ہے
ان آیات میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ قدرت کامل صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ اسی طرح علم الغیب بھی اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے۔
قرآن پاک نے بار بار ان دونوں باتوں یعنی علم الغیب اور تصرف کامل کا خاص اللہ کے لیےہونا بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ان الله لا يخفى عليه شيء في الارض ولا في السماء هو الذي يصوركم في الارحام كيف يشاء لا اله الا هو (آل عمران: 5-6)
اللہ (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ میں) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
فرمایا: ان الله لايخفى عليه شيءفی الارض ولافی السماءزمین و آسمانوں میں کوئی چیز اس سے چھپی نہیں ہے یعنی علم کامل صرف اللہ کے لیے ہونے کا بیان ہے۔
پھر فرمایا: هو الذئ يصوركم فی الارحام كيف يشاء ماں کے پیٹ میں جو صورت بنانا چاہتا ہے بناتا ہے، وہ کامل قدرت والا ہے۔
هو الذي خلقكم من طين ثم قضى اجلا واجل مسمى عنده ثم انتم تمترون () وهو الله في السموات وفي الارض يعلم سركم وجهركم ويعلم ما تكسبون (الانعام: 2-3)
وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو اللہ کے بارے میں) شک کرتے ہو، اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) اللہ ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے۔
مٹی سے پیدا کرنا مافوق الاسباب ہے، پھر اس کی عمر مقرر کرنا بھی مافوق الاسباب ہے۔ اسی لیے ان دونوں کاموں کا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص بتایا گیا۔
پھر فرمایا: اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) اللہ ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے۔ یعنی علم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے کے لیے مخصوص ہے۔
الله يبسط الرزق لمن يشاء من عباده ويقدر له ان الله بكل شيء عليم (العنکبوت:62 )
اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔
روزی کی وسعت اور تنگی بھی اللہ ہی اختیار میں ہے۔ وہ جس کے لیے جتنی روزی چاہتا ہے مقرر کرتا ہے۔ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
لله ملك السماوات والارض يخلق ما يشاء يهب لمن يشاء اناثا ويهب لمن يشاء الذكور او يزوجهم ذكرانا و اناثا ويجعل من يشاء عقيما انه عليم قدير (الشوری: 49-50)
(تمام) بادشاہت اللہ ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے، یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
اولاد دینا بھی اسی کا اختیار ہے۔ یہ بھی اس کی قدرت کا اظہار ہے۔ قدرت والا بھی ہے اور علم والا بھی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــ
[1]: انسان جب کسی انسان سے اس کے کسی کمال کی وجہ سے انتہا درجے کی محبت کرنے لگتا ہے تو اس کے اظہار لیے بہت سے کام کرتا ہے۔ آج کل کی دنیا میں اداکاروں اور کھلاڑیوں کے ساتھ جو معاملہ ان کے مداح کرتے ہیں اس سے بات سمجھ میں آسکتی ہے۔
[2]: مشرکین کے عقیدہ شفاعت میں یہی خیال کارفرما ہوتا ہے کہ جن کی ہم عبادت کرتے ہیں وہ اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ وہ ان کے کام کراسکیں۔
[3]: عیسائیوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات دیکھ کر ان میں خدائی قوتیں کارفرما نظر آئیں۔ وہ عیسی علیہ السلام کو اللہ تو نہ کہہ سکے اللہ بیٹا کہہ دیا۔ کلمہ گو مشرک رسول اللہ ﷺ کو اور ولیوں اور بزرگوں کو اللہ تو نہیں کہہ سکتے ہیں نہ ہی عیسائیوں کی طرح اللہ کا بیٹا البتہ اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات ان میں مانتے ہیں۔
[4]: آج کل شرک کی بنیاد یہی عقیدہ ہے کہ اللہ کے نیک بندے عطائی طور پر عالم الغیب ہیں۔ عطائی طور پر تصرف کا اختیار بھی ان کو حاصل ہے۔
[5]: آیت الکرسی کو قرآن پاک کا دل کہا جاتاہے۔ اس میں توحید کا بیان اور اس کے مخالف چیزوں کا بیان انتہائی مختصر لیکن مکمل انداز میں کیا گیا ہے۔