Results 1 to 2 of 2

Thread: میں اسے واقفِ الفت نہ کروں

  1. #1
    Join Date
    Mar 2015
    Location
    Karachi
    Posts
    726
    Mentioned
    6 Post(s)
    Tagged
    59 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    3

    Default میں اسے واقفِ الفت نہ کروں

    میں اسے واقف الفت نہ کروں

    سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ
    میں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروں
    روح کو اس کی اسیرِ غم الفت نہ کروں
    اس کو رسوا نہ کروں، وقفِ مصیبت نہ کروں

    سوچتا ہوں کہ ابھی رنج سے آزاد ہے وہ
    واقفِ درد نہیں، خوگرِ آلام نہیں
    سحرِ عیش میں اس کی اثرِ شام نہیں
    زندگی اس کے لئے زہر بھرا جام نہیں!

    سوچتا ہوں کہ محبت ہے جوانی کی خزاں
    اس نے دیکھا نہیں دنیا میں بہاروں کے سوا
    نکہت و نور سے لبریز نظاروں کے سوا
    سبزہ زاروں کے سوا اور ستاروں کے سوا

    سوچتا ہوں کہ غمِ دل نہ سناؤں اس کو
    سامنے اس کے کبھی راز کو عریاں نہ کروں
    خلش دل سے اسے دست و گریباں نہ کروں
    اس کے جذبات کو میں شعلہ بداماں نہ کروں

    سوچتا ہوں کہ جلادے گی محبت اس کو
    وہ محبت کی بھلا تاب کہاں لائے گی
    خود تو وہ آتشِ جذبات میں جل جائے گی
    اور دنیا کو اس انجام پہ تڑپائے گی
    سوچتا ہوںکہ بہت سادہ معصوم ہے وہ
    میں اسے واقفِ الفت نہ کروں
    (ن م راشد)

    1 - میں اسے واقفِ الفت نہ کروں

  2. #2
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default

    Beautiful Sharing ....

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •