کس کو پکارا جائے؟
اوپرالہ کون ہوتا ہے؟ کہ عنوان کے تحت واضح کیا گیا کہ الہ کے مفہوم میں کیا کچھ داخل ہے۔ اولا تو پیچھے جو کچھ بیان کیا گیا اس کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پکارے جانے کے قابل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ لیکن مشرکین عرب اور وہ مسلمان جو اپنی حاجتوں کے لیے غیراللہ کو پکارتے ہیں۔ یہاں قرآنی آیات پیش خدمت ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے پکارنے کو شرک بتایا ہے۔ ان آیات میں اس کی وضاحت ہے کہ ایسا کرنا شرک کیوں ہے۔ لیکن اس سےپہلے یہ آیات پڑھیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی شان بیان کی ہے۔
وله اسلم من في السمٰوٰت والارض طوعا وكرها و اليه يرجعون (آل عمران: 83)
سب اہل آسمان و زمین خوشی یا ناخوشی سے اللہ کے فرماں بردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
وان يمسسك الله بضر فلا كاشف له الا هو وان يردك بخير فلا راد لفضله (یونس: 107)
اور اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔
اور مسلمان کی شان یہ ہے:
قل ان صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين () لا شريك له وبذلك امرت وانا اول المسلمين (الانعام:162-163)
کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔
پکارے جانے کے لائق وہی ہے جو بااختیار ہو، باخبر ہو، قدرت والا ہو، سمیع و بصیرہو
والذين تدعون من دونه ما يملكون من قطمير ان تدعوهم لا يسمعوا دعاءكم ولو سمعوا ما استجابوا لكم ويوم القيامة يكفرون بشرككم ولا ينبئك مثل خبير (فاطر: 13-14)
اور جن لوگوں کو تم اس (اللہ) کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی تو (کسی چیز کے) مالک نہیں اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے اور (اللہ) باخبر کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا۔
یعنی اپنی حاجتوں کے لیے اسی کو پکارا جاسکتا ہے جس کو حاجتوں کو پورا کرنے کی قدرت ہو۔ غیراللہ تو کھجور کی گٹھلی پر جو باریک سی جھلی لگی ہوتی ہے اتنی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ بتائی کہ وہ زمان مکان سے ماورا ہر پکارنے والی کی پکار کو سنتا ہو۔ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔وہ بیک وقت تمام مخلوقات کی دعاؤوں کو سنتا ہے۔ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قل ادعوا الذين زعمتم من دونه فلا يملكون كشف الضر عنكم ولا تحويلا (بنی اسرائیل: 56)
کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے
پکارے جانے کے لائق وہی ہے جو نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہو۔
ومن اضل ممن يدعو من دون الله من لا يستجيب له الى يوم القيامة وهم عن دعائهم غافلون (الاحقاف: 5)
اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور ان کو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو۔
وهم عن دعائهم غافلون ان کو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو۔
جو سن نہیں سکتا وہ اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی نہیں رکھتا۔
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا یہ قول پڑھیے اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی مخلوق کی کیا حیثیت ہے ایک بہترین مثال سے اس کو سمجھا رہے ہیں۔
’’تیرے دل کا لگاؤ مخلوق میں سے کسی چیز سے نہ رہے۔ اور تمام مخلوق کو اس شخص کی طرح بے بس اور عاجز سمجھ جس کو ایک بڑی سلطنت والے ایک بڑے رعب و دبدبے والے، ایک بڑی شان و حکم والے بادشاہ نے گرفتار کرایا ہو، اس شخص کی گردن میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں اور اسے ایک درخت کے ساتھ پھانسی لٹکا دے اور وہ درخت ایک ایسے دریا کے کنارے اگا ہوا ہے جس کی موجیں تیز اور جس کا پھیلاؤ وسیع اور جس کی گہرائی بہت ہو۔ پھر بادشاہ ایسے تخت پر بیٹھا ہو جس تک پہنچنا بہت مشکل ہو۔نیز اس بادشاہ نے اپنے پاس تیروں، نیزوں اور کمانوں کا ایک ایسا انبار لگا رکھا ہو جس کا اندازہ بادشاہ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا اور یہ بادشاہ اس پھانسی پر لٹکے ہوئے شخص پر جس ہتھیار کو چاہے پھینک رہا ہے پس کیا اس شخص کے لیے جو یہ سب ماجرا دیکھے ممکن ہے کہ ایسے بادشاہ کی طرف سے نظر ہٹا لے، اس سے خوف نہ رکھے امید نہ رکھے بلکہ پھانسی لگے ہوئے شخص سے ڈرے اس سے امید رکھے، جو کوئی ایسا کرے گا وہ، جہاں تک عقل و سمجھ کا تعلق ہے، عقل و سمجھ سے خالی، دیوانہ،مجنون، حیوان مطلق اور خارج از انسانیت نہ ہوگا؟ پس اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگوبصیرت کے بعد (حق سے) اندھا ہونے سے، وصولی بارگاہ قدس کے بعد قطع ہونے سے، قرب کے بعد دوری سے، ہدایت کے بعد گمراہی سے، اور ایمان کے بعد کفر سے۔ (فتوح الغیب وعظ ۱۷ )‘‘
دعا عبادت ہے!
قرآن پاک میں دعا کا لفظ پکارنے اور عبادت کرنے کے معنوں میں آیا ہے۔ دعا اور پکارنا خود عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وقال ربكم ادعوني استجب لكم ان الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين (المومن: 60)
ترجمہ: اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے (ازراہ )تکبر (انکار) کرتے ہیں۔ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس سے دعا نہ کرنے والوں کو اس کی عبادت سے انکار کہا ہے یعنی دعا کرنے کو عبادت سے تعبیر کیا ہے۔
1) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
عن النعمان بن بشير قال سمعت رسول الله صلى الله عليه يقول ان الدعاء هو العبادة ثم قرا ادعوني استجب لكم (سنن الترمذی)
نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دعا عبادت ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے آیت پڑھی ادعوني استجب لكم
2) حضرت عبداللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں:
عن ابن عباسؓ افضل العبادة هو الدعاء وقرا وقال ربكم ادعوني استجب لكم ان الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين. (مستدرک حاکم)
بہترین عبادت دعا ہے اور اس کےبعد یہ آیت تلاوت کی وقال ربكم ادعوني استجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين
3) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
عن ابي هريرة ؓعن النبي صلى الله عليه وسلم قال اشرف العبادة الدعاء (الادب المفرد، للبخاری)
دعا تمام عبادتوں میں اشرف (اعلی ترین) عبادت ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں:
اے اللہ کے بندو! عقل سیکھو۔ اپنے معبود کو اپنی موت سے پہلے پہچاننے کی کوشش کرو۔اپنی حاجات مانگو۔ تمہارا دن رات اس سے مانگنا اس کی عبادت ہے۔
(جاری ہے)​