آسکر وائلڈ کہتا ہے کہ کچھ نہ کرنا دنیا میں مشکل ترین کام ہے۔ مشکل ترین ہی نہیں ذہین ترین بھی۔ یہ سچ ہے کہ بے روزگار ہونا اتنا مشکل کام ہے کہ میں نے اتنے لوگ کام کرتے مرے نہیں دیکھے جتنے بے روزگاری سے مرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی آج کل کا بے روزگار، سکندر اعظم سے بہتر ہے اور اس کی بہتری یہ ہے کہ سکندر اعظم مرچکا اور یہ ابھی زندہ ہے۔
خواتین کی خواندگی کا عالم یہ ہے کہ ایک خاتون کی سرکردگی میں ایک سروے ٹیم بلوچستان گئی، وہاں کئی قصبوں اور گاؤں میں پھرنے کے بعد ٹیم نے بتایا کہ اس سارے سفر کے دوران ہمیں صرف ایک پڑھی لکھی خاتون نظر آئی اور یہ خاتون وہ تھی جس کی سرکردگی میں یہ سروے ٹیم بلوچستان گئی تھی۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارے ہاں اتنے ان پڑھ ہیں تو ان کی نمائندگی کے لئے بھی ان پڑھ ہی چاہئیں تاکہ وہ اسمبلی میں اس اکثریت کے مسائل بتاسکیں۔ اس لئے ہمارے ہاں سیاست دانوں میں ہائی تعلیم یافتہ وہ ہوتا ہے جو ہائی جماعت تک گیا ہو۔ یوں بھی پڑھے لکھے نورتن ہوتے ہیں، اکبر بننے کے لئے ان پڑھ ہونا ضروری ہے۔ ہمارے ایک وزیر سے ایک غیر ملکی صحافی نے پوچھا۔ ’’آپ کی تعلیم؟‘‘ جواب ملا۔ ’’ایم اے، کرلیتا اگر میٹرک میں رہ نہ جاتا۔‘‘ وکٹر ہوگیو نے کہا ہے ’’بے روزگاری ماں ہے جس کا ایک بچہ لوٹ مار اور ایک بچی بھوک ہے۔‘‘ ہمارے ہاں اس زچہ بچہ کی صحت کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ سب سن کر میرا ایک دوست کہنے لگا ’’اس سے تو لگتا ہے ایک بے روزگار سے زیادہ مظلوم دنیا میں کوئی نہیں۔‘‘
ہم نے کہا ’’ایک بے روزگار سے زیادہ مظلوم بھی دنیا میں ہیں۔‘‘
بولا ’’کون؟‘‘
ہم نے کہا ’’دو بے روزگار۔‘‘
(ڈاکٹر یونس بٹ)