ہماری خوشیوں کی سب سے بڑی دشمن یہی ’’اندر‘‘ کی اکھاڑ پچھاڑ ہوتی ہے۔ ہم جسے ’’کوئی‘‘ کہہ کو خود کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ ’’کوئی‘‘ ہمارے اندر کنڈلی مار کر بیٹھا ہوا خوف ہوتا ہے۔ اردگرد کے انسانوں کا خوف، اپنے سے برتر انسانوں کا خوف، اپنے سے کمتر انسانوں کا خوف، ناکامی کے بوجھ سے خائف لرزتے دل کا خوف، آنکھوں کی اوٹ سے جھانکتے تاسف کا خوف، طعنوں کا خوف، ہمدردی کی آڑ میں رگِ جاں کو آری کی طرح کاٹتے فقروں کا خوف، واہ واہ سمیٹ کر ایک اونچی مسند پر پہنچ نہ پانے کا خوف اور کبھی کبھی اس مسند پر پہنچ کر عزت و ستائش کے مہین لبادے میں لپٹی اس ’’واہ واہ‘‘ کے گر کر چکنا چور ہوجانے کا خوف، پابندیوں سے جکڑے اس معاشرے کا خوف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں، اس معاشرے کا خوف۔ کوئی ایسا نہ کہہ دے، کوئی ویسا نہ کہہ دے، کوئی دیکھ نہ لے، کسی کو پتا چل گیا تو؟ میرے دل کو بھی ایسے ہی خوف لاحق رہا کرتے تھے تب ہی میرا’’اندر‘‘ میری بڑبڑاہٹ کو دبا کر ’’سب اچھا ہے‘‘ کی گردان کرنے پرمجبور کردیتا تھا۔
(تنزیلہ ریاض کے ناول ’’من شر ما خلق‘‘ سے اقتباس)