Results 1 to 2 of 2

Thread: یہ سب جہنم کے کتےہیں۔

  1. #1
    Join Date
    Sep 2014
    Location
    Nankana Sahib
    Age
    23
    Posts
    61
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default یہ سب جہنم کے کتےہیں۔

    یہ سب جہنم کے کتےہیں۔
    ان جاہلوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو خوارج کو اپنا خلیفہ سمجھتے ہیں؟
    ان کا نہ سلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی پاکستان سے کوئی تعلق ہے۔ان کا تعلق صرف اسلام کے دشمنوں اور پاکستان کے دشمنوں سے ہے۔
    اپنے آپ کو پتہ نہیں کس منہ سے یہ مسلمان کہتے ہیں اور ہمیں خوف آتا ہے انہیں مسلمان کہتے ہوئے۔ہم خود اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔لعنت ہواِن پر۔میں پوچھتاہوں اِن سے کہ یہ شریعت کانفاذچاہتے ہیں۔کتنی ماؤں کےآنسوپونچھےہیں انہوں نے؟کتنی عزتوں کوبچایاہےاِن لوگوں نے؟کتنے بے گھروں کوگھردیاہے ان لوگوں نے؟کتنے لوگوں کی جان بچائی ہے ان لوگوں نے؟کتنے علاقوں پرشریعت کانفاذ قائم کیا ہے اِن لوگوں نے؟؟ان سب سوالوں کاجواب بالکل خاموش ہے۔یہ توخود بم بلاسٹ کررہے ہیں مسلمانوں کو مار رہے ہیں۔دہشت گردی پھیلارہے ہیں۔یاد رکھنا بندےمارکرجنت نہیں ملتی۔حضورﷺ نے فرمایاکہ جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی اُس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی۔۔ایسے مسلمانی کادعوہ کرنے والےلوگوں کو خداقہروعذاب میں مبتلاکرے۔آمین۔
    35m2xpi - یہ سب جہنم کے کتےہیں۔

  2. #2
    Join Date
    Sep 2014
    Location
    Nankana Sahib
    Age
    23
    Posts
    61
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default

    نمازِ عید سے قبل کی ایک سنت

    حضرتِ سَیِّدُنا بُرَیْدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ سے مَروی ہے کہ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، پیکرِ جُودو سخاوت، سراپا رَحمت، محبوبِ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم عِیْدُ الفِطْر کے دِن کچھ کھا کر نَماز کیلئے تشریف لے جاتے تھے۔اور عیدالْاَضْحٰی کے روز اُس وقت تک نہیں کھاتے تھے جب تک نَماز سے فارغِ نہ ہو جاتے۔ (جامع ترمذی ج۲ ص ۷۰ حدیث۵۴۲)اور ''بُخاری '' کی رِوایَت حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہُ سے ہے کہ عِیْدُالفِطْر کے دِن(نَمازِ عید کیلئے)تشریف نہ لے جاتے جب تک چند کھَجوریں نہ تَناوُل فرمالیتے او روہ طاق ہوتیں۔
    (صحیح البخاری ج۱ ص ۳۲۸ حدیث ۹۵۳)
    حضرتِ سَیِّدُنا ابُوہُرَیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوايت ہے کہ نبیِّ رَحمت ، شفیعِ امّت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمعِیْد کو (نَماز ِعِیْد کیلئے)ایک راستہ سے تشریف لے جاتے اور دُوسرے راستے سے واپَس تشریف لاتے۔
    (جامع تِرمذِی ج۲ص۶۹حدیث۵۴۱)
    نبیوں کے سلطان ، رحمتِ عالمیان ، سردارِ دو جہان محبوبِ رحمن عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان بَرَکت نشان ہے، جس نے عِیْدَین کی رات (یعنی شبِ عِیدُالفِطْر اور شبِ عِیدُ الْاضْحٰی)طلبِ ثواب کیلئے قِیام کیا ،اُس دن اُس کا دِل نہیں مَرے گا،جس دن (لوگوں کے)دِل مَرجائیں گے۔
    (سُنَنِ ابنِ ماجہ ج۲ص۳۶۵حدیث۱۷۸۲)


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •