جب روز قیامت اللہ زمین آسمان کو بلائے گا ۔۔۔۔ تو ہر چیز کھنچی چلی آئے گی ۔۔۔ طوعاً یا کرہاً۔۔۔۔۔ خوشی سے یا ناخوشی سے ۔۔۔۔۔۔ جب ہم اللہ کے بلانے پر نماز اور قرآن کی طرف نہیں آتے تو اللہ ہمارے لئے ایسے حالات بنادیتا ہے، یہ دنیا اتنی تنگ کردیتا ہے کہ ہمیں زبردستی، سخت ناخوشی کے عالم میں آنا پڑتا ہے اور پھر ہم کرہاً بھی بھاگ کر آتے ہیں اور اس کے علاوہ ہمیں کہیں پناہ نہیں ملتی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی طرف طوعاً آجاؤ محمل۔۔۔۔۔۔۔! ورنہ تمہیں کرہاً آنا پڑے گا۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’مصحف‘‘ سے اقتباس)

3 - طوعاً یا کرہاً۔۔۔۔۔