جب کسی لکھاری کا مسودہ رد کیا جاتا ہے، کسی شاعر کا کلام ناقابل اشاعت قرار دیا جاتا ہے، کسی مصور کی تصویر ریجیکٹ کی جاتی ہے، تب بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں تب بھی اتنا دکھ محسوس نہیں ہوتا جتنا اپنی ذات، اپنے وجود کی ریجیکشن پر ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلی صورت میں انسان کی ’’تخلیق‘‘ کو رد کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری صورت میں ’’انسان‘‘ کو دھتکارا جاتا ہے۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’سانس ساکن تھی‘‘ سے اقتباس)

3 - Rejection