نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا، کہ تری جفا کا گلہ کریں
یہ نظر تھی پہلے بھی مضطرب، یہ کسک تو دل میں کبھو کی ہے
(فیض احمد فیض)

2 - نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا،