سُنو میری جاں

یاد ہے تُمہیں

کہ تجھ سنگ

کئی برساتیں

ایک چھتری تلے

گُزاری تھیں ہم نے

کبھی تُم بھیگتی

کبھی میں بھیگ جاتا تھا

سُنو

آج پھر بارش ہے

وہی چھتری ہے

پر میں تنہا ہوں

ترے ہونے کا جھوٹا

احساس لیے

چھتری سے آدھا باہر

چھتری سے ادھُورا باہر