Results 1 to 2 of 2

Thread: ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مرا نام ہی آئے

  1. #1
    Join Date
    Mar 2015
    Location
    Karachi
    Posts
    726
    Mentioned
    6 Post(s)
    Tagged
    59 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    3

    Default ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مرا نام ہی آئے

    ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مرا نام ہی آئے
    آئے تو سہی، برسرِ الزام ہی آئے
    حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دلگیر ہیں غنچے
    خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
    لمحاتِ مسرت ہیں تصور سے گریزاں
    یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
    تاروں سے سجالیں گے رہِ شہرِ تمنا
    مقدر نہیں صبح چلو شام ہی آئے
    کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
    جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
    تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کوئے تمنا
    کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
    باقی نہ رہے ساکھ ادا دشتِ جنوں کی
    دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
    (ادا جعفری)

    1 - ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مرا نام ہی آئے

  2. #2
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default

    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •