Results 1 to 2 of 2

Thread: Jazbati Afsaney

  1. #1
    Join Date
    Mar 2015
    Location
    Karachi
    Posts
    726
    Mentioned
    6 Post(s)
    Tagged
    59 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    3

    Default Jazbati Afsaney

    ترقی پسند افسانوں کے بعد جذباتی افسانے آتے ہیں۔ جذباتی افسانوں میں جذبات اور احساسات کی شدت کو نمایاں طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ مختلف جذبوں کے زیر اثر افسانے کے کردار عجیب و غریب حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک افسانے میں سریش کو جب پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی وجہ سے نرملا سے شادی نہیں کرسکتا تو وہ نرملا کو اس طرح مخاطب کرتا ہے۔ ’’نرملا! تم آج سے میری بہن ہو۔‘‘ ’’تمہاری بہن؟‘‘ نرملا نے گھبرا کر کہا۔ ’’ہاں ہاں میری بہن۔‘‘ سریش نے بہن کے لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ’’میں سچ کہہ رہا ہوں۔ تم آج سے میری بہن ہو۔ کاش کہ تم عمر میں مجھ سے پانچ دس سال بڑی ہوتیں اور میں تمہیں ’’ماں‘‘ کہہ سکتا۔‘‘ اسی طرح ایک افسانے میں دو بھائی ایک ہی لڑکی سے محبت کرتے ہیں مگر جب چھوٹے بھائی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بڑا بھائی ان دونوں کی مشترکہ محبوبہ سے شادی کرنے کو تلا ہوا ہے تو وہ مندر میں دیوی یا دیوتا کے سامنے اس لڑکی کا ہاتھ اپنے بڑے بھائی کے ہاتھ میں دے کر خود سادھو بن کر زندگی گزارنے کا حلف اٹھاتا ہے۔ جذباتی افسانوں میں قہقہے، آنسو، سسکیاں، قسمیں، ہچکولے کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ عموماً انجام خودکشی ہوتا ہے اور محبت کے دیوتا کے سامنے عجیب و غریب قربانیاں دی جاتی ہیں۔
    (کنہیا لال کپور کی کتاب ’’سنگ و خشت‘‘ سے اقتباس)

  2. #2
    Join Date
    Nov 2013
    Location
    USA
    Posts
    3,164
    Mentioned
    327 Post(s)
    Tagged
    1751 Thread(s)
    Thanked
    554
    Rep Power
    8

    Default

    Nice. Thanks for sharing.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •