اداس شامیں، اجاڑ رستے، کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
کسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا
ابھی نئی وادیوں، نئے منظروں میں رہ لو مگر میری جاں
یہ سارے اک ایک کرکے جب تم کو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا
نئے زمانوں کا کرب اوڑھے ضعیف لمحے، نڈھال یادیں
تمہارے خوابوں کے بند کمروں میں لوٹ آئیں تو لوٹ آنا
اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تم کو بھول جائیں تمہارے ساتھی
اور اپنی خاطر ہی اپنے اپنے دیئے جلائیں تو لوٹ آنا
مری وہ باتیں تو جن پہ بے اختیار ہنستا تھا کھلکھلا کر
بچھڑنے والے مری وہ باتیں کبھی رلائیں تو لوٹ آنا
(فرحت عباس)

1 - اداس شامیں، اجاڑ رستے، کبھی بلائیں تو لوٹ آنا