ہم پتنگ بازی کو کھیل مانتے ہیں کیونکہ بقول یوسفی ’’جہاں کھیل میں دماغ پر زور پڑا، کھیل کھیل نہیں رہتا، کام بن جاتا ہے۔‘‘ اور پتنگ بازی میں بوجھ دماغ کے بجائے کوٹھے پر پڑتا ہے۔ ہم نے ایک پتنگ باز سے پوچھا۔
’’یہ پیچ لڑانے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟‘‘
کہا۔ ’’کلائی مضبوط ہوتی ہے۔‘‘
پوچھا۔ ’’مضبوط کلائی کا فائدہ؟‘‘
کہا۔ ’’پیچ لڑانے میں آسانی ہوتی ہے۔‘‘
پیچ بھی سیاست کی طرح پرپیچ ہوتے ہیں مگر پتنگ بازی اور سیاست بازی میں یہ فرق ہے کہ ہمارے ہاں اول الذکر کے لئے ڈور اور آخر الذکر کے لئے بیک ڈور کی ضرورت پڑتی ہے۔ امریکا اور روس نے خلائی جہازوں کے ذریعے آسمان پر پہنچنے کی کوشش کی۔ ابھی وہ خدا تک پہنچنے کے لئے خلائی شٹل کا سہارا لینے کا منصوبہ بنارہے ہیں جبکہ ہم نے پتنگ بازی میں اتنی ترقی کرلی ہے کہ ہر سال بذریعہ ’’پتنگ‘‘ کئی لوگ خدا تک پہنچ جاتے ہیں۔
(ڈاکٹر یونس بٹ کی کتاب ’’جوک در جوک‘‘ سے اقتباس)