أَلۡهَٮٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ
حتی زرتم المقابر

Competition in [worldly] increase diverts you, Until you visit the graveyards

.
(لوگو) تم کو(مال کی) بہت سی طلب نے غافل کر دیا یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں


For Self undestanding:



یعنی کہ اللہ تعالی آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ دولت جسے آپ نے آزمائش بنایا ہم اسکی طلب میں بڑھ جاتے ہیں تھوڑے پہ راضی نہیں ہوتے بلکہ چاہتے ہیں آسائشیں اور سے اور ملیں حالانکہ کہ اتنا رزق بھی کافی ہوتا ہے جس میں ضروریات پوری ہو جائیں مگر ہم دولت کے پیچھے بھاگ کے اپنا سکون بھی غارت کر لیتے ہیں اور پوری زندگی اسی دوڑ میں گزار دیتے ہیں یہاں تک کہ ہماری زندگی ختم ہو جاتی ہے اور ہم موت تک پہنچ جاتے ہیں پر آپ نے کہا قبروں تک یعنی حساب کتاب کا ایک لمبا سلسلہ ۔۔۔۔۔
مگر دولت کمانا تو بری بات نہیں اگر انسان زیادہ دولت حلال طریقے سے کمائے تو بری بات تو نہیں ہوگی نا یہ ۔۔ مگر آپ نے کہا دولت کی بہت سی طلب نےغافل کردیا یعنی ہم مال کی زیادہ خواہش سے ہی غافل ہو جائیں گے اپنی آخرت اور موت سے کیا ہم حساب سے غافل ہو جائیں گے یا اپنے تمام فرائض اپنے رشتوں سے بھی غافل ہو جائیں گے؟؟
ایسا ہی ہے نا کہ ہم سٹڈیز بھی اس نقطہ نظر کے ساتھ کرتے ہیں کہ اعلی عہدوں پہ جاکر خوب دولت کمائیں اس سے ہم غافل ہو جاتے ہیں تعلیم کے مقصد سے اس لیے ہم پڑھے لکھے جاہل بن جاتے ہیں
ہم زیادہ دولت کی خاطر اپنے پیاروں کو دور ملکوں میں بھیج دیتے ہیں اور وہ ساری زندگی یا اس کا زیادہ حصہ تنہائی اور یاسیت میں گزار دیتے نہیں ہم ان رشتوں کے احساس سے غافل ہونے لگتے ہیں
ہم زیادہ دولت کی خواہش میں قتل کرتے ہیں، ملاوٹ کرتے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں، حق مارتے ہیں، کرپشن کرتے ہیں ہم آپکو بھول جاتے ہیں اللہ تعالی یہاں تک کہ ہم مر جاتے ہیں پھر سارا حساب شروع ہو جائے گا کڑا حساب
توآپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ضرورت کیمطابق دولت کی خواہش کرنا چاہیے بس تاکہ ہم غافل نا ہوں اور ہمارا حساب بھی مشکل نا ہو ۔ اور آپ نے یہ بھی تو کہا تھا تم میرے دیے تھوڑے رزق پہ راضی ہو جائو میں تمہارے تھوڑے اعمال پہ راضی ہو جائوں گا یعنی ہمارا حساب بھی آسان اور ہم غافل بھی نہیں ہوں گے
ٹھیک ہے پیارے اللہ تعالی میں ہمیشہ اس میں خوش رہنے کی کوشش کروں گی جو آپ دیں میں بہت سی کی خواہش نہیں کروں گی جو مجھے غافل کردے