Results 1 to 10 of 10

Thread: Aik Azeem Khaton

  1. #1
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    839 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1180
    Rep Power
    21474971

    candel Aik Azeem Khaton

    12355216 995614623844824 1594584314 n?oh73194d7255bf8dcef7e45406709a21f8&ampoe566F1CB1 - Aik Azeem Khaton
    یہ خاتون جرمنی کے شہر لائزگ کی رھنے والی تھی۔
    پیشے کے لحاظ سے یہ ڈاکٹر تھیں۔
    سن 1958ء کی بات ھے اس خاتون نے 30 سال کی عمر میں پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی‘ کوڑھ اچھوت مرض
    ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے‘
    کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں‘
    یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔
    پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے‘
    یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا‘ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں‘
    یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھ‘ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے‘ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے‘
    ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے‘ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے‘ یہ سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔
    یہ انتہائی جاذب نظر اور توانائی سے بھر پور عورت تھی اور یہ یورپ کے شاندار ترین ملک جرمنی کی شہری بھی تھی‘
    زندگی کی خوبصورتیاں اس کے راستے میں بکھری ہوئی تھیں لیکن اس نے اس وقت ایک عجیب فیصلہ کیا‘یہ جرمنی سے کراچی آئی اور اس نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا۔
    اور یہ اس کے بعد واپس نہیں گئی‘ اس نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک‘ اپنی جوانی‘ اپنا خاندان اور اپنی زندگی تیاگ دی‘
    انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا‘
    کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صفت خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو ﷲ کا عذاب سمجھا جاتا تھا‘ لوگوں کا خیال تھا یہ گناہوں اور جرائم کی سزا ہے۔
    چنانچہ لوگ ان مریضوں کو گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے تھے‘ ان کے لیے پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ تھا‘
    انھیں بیماری کو بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا اور اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوا‘یہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی،
    جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے۔اس کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا دے دی‘
    یہ مریضوں کا علاج کرتی اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا‘
    اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا‘ ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میں میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کردی‘
    ان دونوں نے پاکستانی ڈاکٹروں‘ سوشل ورکرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا ۔
    یوں یہ سینٹر 1965ء تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا‘ان ہوں نے جزام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام شروع کیا‘
    ڈاکٹر کے دوستوں نے چندہ دیا لیکن اس کے باوجود ستر لاکھ روپے کم ہو گئے‘
    یہ واپس جرمنی گئی اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہو گئی‘
    جرمنی کے شہریوں نے ستر لاکھ روپے دے دیے اور یوں پاکستان میں جزام کے خلاف انقلاب آ گیا۔
    وہ پاکستان میںجزام کے سینٹر بناتی چلی گئی یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 156 تک پہنچ گئی‘ ڈاکٹر نے اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی۔
    یہ لوگ نہ صرف کوڑھ کے مرض سے صحت یاب ہو گئے بلکہ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح زندگی بھی گزارنے لگے۔
    ان کی کوششوں سے سندھ‘ پنجاب‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جزام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو ’’لپریسی کنٹرولڈ‘‘ ملک قرار دے دیا‘
    پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس میں جزام کنٹرول ہوا تھا‘
    یہ لوگ اب قبائلی علاقے اور ہزارہ میں جزام کا پیچھا کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے اگلے چند برسوں میں پاکستان سے جزام کے جراثیم تک ختم ہو جائیں گے۔
    حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی‘
    اسے ہلال پاکستان‘ ستارہ قائداعظم‘ ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔
    جرمنی کی حکومت نے بھی اسے آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ یہ تمام اعزازات‘ یہ تمام ایوارڈ بہت شاندار ہیں لیکن یہ فرشتہ صفت خاتون اس سے کہیں زیادہ ’’ڈیزرو‘‘ کرتی ہے‘
    جوانی میں اپنا وہ وطن چھوڑ دینا جہاں آباد ہونے کے لیے تیسری دنیا کے لاکھوں لوگ جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور اس ملک میں آ جانا جہاں نظریات اور عادات کی بنیاد پر اختلاف نہیں کیا جاتا
    بلکہ انسانوں کو مذہب اور عقیدت کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھا جاتا ہے‘
    جس میں لوگ خود کو زیادہ اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو بلا خوف کافر قرار دے دیتے ہیں۔
    ان کا نام ڈاکٹر روتھ فاؤ ھے۔۔
    ڈاکٹر روتھ کا عین جوانی میں جرمنی سے اس پاکستان میں آ جانا اور اپنی زندگی اجنبی ملک کے ایسے مریضوں پر خرچ کر دینا جنھیں ان کے اپنے خونی رشتے دار بھی چھوڑ جاتے ہیں واقعی کمال ہے ۔
    ڈاکٹر روتھ اس ملک کے ہر اس شہری کی محسن ہے جو کوڑھ کا مریض تھا یا جس کا کوئی عزیز رشتے دار اس موذی مرض میں مبتلا تھایا جو اس موذی مرض کا شکار ہو سکتا تھا۔
    ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے یہ خاتون‘ اس کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل پاکستان نہ آتے اور اپنی زندگی اور وسائل اس ملک میں خرچ نہ کرتے تو شاید ہمارے ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں اس وقت لاکھوں کوڑھی پھر رہے ہوتے
    اور دنیا نے ہم پر اپنے دروازے بند کر دیے ہوتے‘ ہمارے ملک میں کوئی آتا اور نہ ہی ہم کسی دوسرے ملک جا سکتے۔
    یہ لوگ ہمارے محسن ہیں چنانچہ ہمیں ان کی ایوارڈز سے بڑھ کر تکریم کرنا ہو گی۔

    http://www.chachubush.com/2014/07/salute-to-great-this-lady.html


    صرف آواز نہیں ، لفظ بھی مقفل ہیں مرے

    سوچ میں ہوں کہ اب تجھ کو پکاروں کیسے

  2. #2
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default

    Woooow mai ne yeh pahli baar parha hai wooow awesome information thi aur salute hai iss khtwoon ko hum log tu soch b nahi sakte asi qurbani

  3. #3
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    839 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1180
    Rep Power
    21474971

    Default

    han maine b pehli he bar parha jabhi share kiya k hamara mulk or hum he itne bekhabar
    or jo yaha akar bus gaye Allah inko ajar de ga Insha Allah...
    kio k inho ne insaniyat ki khidmat ki hia...yeh dekhe bina k wo kis mazhab se hia..
    صرف آواز نہیں ، لفظ بھی مقفل ہیں مرے

    سوچ میں ہوں کہ اب تجھ کو پکاروں کیسے

  4. #4
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default

    Hmmm beshak insaaniyat her Mulk her Mazhab se bari hai

  5. #5
    Join Date
    Feb 2010
    Location
    dubai
    Posts
    7,667
    Mentioned
    569 Post(s)
    Tagged
    8128 Thread(s)
    Thanked
    1274
    Rep Power
    214764

    Default

    grt lady nyc sharing
    mera siggy mujhe nazarnahi aa raha...

    30abdx0 - Aik Azeem Khaton

  6. #6
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default

    kuch arsa pehlayy kahin inn khattoon kayy baray main parhaa tha amain nayy,...


    a great lady





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  7. #7
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    1,204
    Mentioned
    45 Post(s)
    Tagged
    391 Thread(s)
    Thanked
    14
    Rep Power
    6

    Default

    No Doubt @naz; waqai ye aik azeem khatoon hain.. Allah in ko jazaa de Aameen
    15mk9ye - Aik Azeem Khaton

  8. #8
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Jadoo Nagri
    Posts
    19,713
    Mentioned
    198 Post(s)
    Tagged
    8340 Thread(s)
    Thanked
    10
    Rep Power
    21474862

    Default

    Main nye kahin aur bhi parha thaa is k bare mai hamara media faltoo ki khabren chalata hai aur jo dikhane batane ki hoti hain woh pata hi nahi koi

    Well done

  9. #9
    Join Date
    Dec 2014
    Location
    soudi arab makkah
    Age
    30
    Posts
    599
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    92 Thread(s)
    Thanked
    14
    Rep Power
    214753

    Default

    gud information ...............

  10. #10
    Join Date
    Mar 2009
    Location
    Dhundo :p
    Age
    26
    Posts
    24,442
    Mentioned
    279 Post(s)
    Tagged
    159 Thread(s)
    Thanked
    3481
    Rep Power
    21474869

    Default


    ~~~☆☆☆☆☆~~~~♡♡♡♡~~~~
    �True love doesn't have a happy ending, because true love never ends. Letting go is one way of saying I love you.�

    ~~~~☆☆☆☆~~~~♡♡♡♡~~~~~~


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •