کاش! ہم اپنی آمدنی کا آدھا نہ سہی بارھواں حصّہ بلکہ ایک فیصد ہی جشنِ ولادت کے لئے نکال کر اسے دین کے کاموں میں صَرف کرنے کا حوصَلہ رکھتے۔

جشنِ ولادت منانے والا خاندان

مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں ابراہیم نامی ایک مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کادیوانہ رہا کرتا تھا۔ہمیشہ حلال روزی کماتا اور اپنی آمدنی کا آدھا حصّہ جشنِ ولادت منانے کے لئے علیٰحدہ جمع کرتا ۔ ربیعُ النُّور شریف کی آمد ہوتی تو دھوم دھام سے مگر شرِیعَت کے دائرے میں رَہ کر جشنِ وِلادت مناتا۔ اَللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ایصالِ ثواب کیلئے خوب لنگر کرتا اور اچھّے اچھّے کاموں میں اپنی رقم خرچ کرتا۔ اُس کی زوجۂ محترمہ بھی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بَہُت دیوانی تھی اور ان کاموں میں مکمَّل تعاوُن کرتی۔ زَوجہ کی وفات ہو گئی مگراس کے معمولات میں فَرق نہ آیا۔ ابراہیم دیوانے نے ایک دن اپنے نوجوان بیٹے کو وصیَّت کی: ’’پیارے بیٹے!آج رات میری وفات ہو جائیگی ،میری تمام تر پُونجی میں پچاس دِرہَم اور اُنّیس گز کپڑا ہے۔ کپڑا تجہیزوتکفین پر صَرف کرنا اور رہی رقم تو اسے بھی ہوسکے تو نیک کام میں خَرچ کردینا۔‘‘اِس کے بعد اُس نے کلِمۂ طیِّبہ پڑھا اور اس کی روح قَفَسِ عُنْصُریسے پرواز کرگئی۔


بیٹے نے حسبِ وصیّت والدِ مرحوم کوسِپُردِخاک کردیا ۔اب پچاس دِرہَم نیک کام میں خَرچ کرنے کے مُعامَلے میں اس کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا کرے ۔اسی فِکْر میں رات جب سویا تو خوا ب میں دیکھا کہ قِیامت قائم اورہر طرف نفسی نفسی کا عالَم ہے ،خوش نصیب لوگ سُوئے جنَّت رواں دواں ہیں ،جبکہ مجرِموں کو گھسیٹ گھسیٹ کر جہنّم کی طرف ہانکا جارہا ہے اور یہ کھڑا تھر تھر کانپ رہا ہے کہ اس کے بارے میں نہ جانے کیا فیصلہ ہوتا ہے۔اتنے میں غیب سے نِدا آئی:’’اِس نوجوان کو جنّت میں جانے دو۔‘‘چُنانچِہ وہ خوشی خوشی جنّت میں داخِل ہوگیا اور سَیرکرنے لگا۔ ساتوں جنّتوں کی سَیر کرنے کے بعد جب آٹھویں جنّت کی طرف بڑھا تو داروغۂ جنَّت حضرتِ رِضواننے فرمایا: ’’اِ س جنَّت میں صِرف وُہی داخِل ہوسکتا ہے جس نے ماہِ ربیعُ النُّور میں وِلادتِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ایّام میں خوشی منائی ہو۔‘‘یہ سن کر وہ سمجھ گیا کہ میرے والِدَینِ مَرحومَین اِسی میں ہونے چاہئیں۔اِتنے میں آواز آئی:’’اِس نوجوان کو اندر آنے دو،اس کے والِدَین اِس سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘ لہٰذاوہ اندر داخِل ہوا۔اُس نے دیکھا کہ اُس کی والِدۂ مرحُومہ نَہَرِ کوثر کے قریب بیٹھی ہے، ساتھ ہی ایک تَخت بچھا ہے جس پر ایک بُزُرگ خاتون جلوہ افروز ہیں اوراس کے اِردگِرد کُرسیاں بچھی ہیں جن پر کچھ پُروقار خواتین تشریف فرما ہیں۔ اس نے ایک فِرِشتے سے پوچھا:یہ خواتین کون ہیں ؟اُس نے بتایا:

’’تَخت پر شہزادیٔ کونین سَیِّدَتُنا فاطِمہ زَہرارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں اورکُرسیوں پر خدیجۃُ الکبریٰ،عائشہ صِدّیقہ، یِّدَتُنامریم ،سیِّدَتُناآسِیہ ،سیِّدَتُناسارہ ،سیِّدَتُناہاجِرہ، سیِّدَتُنا رابِعہ اور سیِّدَتُنا زُبیدہ ( رضی اللہ تعالٰی عَنْہُنّ) ہیں۔‘‘ اسے بَہُت خوشی ہوئی، مزید آگے بڑھا توکیادیکھتا ہے کہ ایک بہت ہی عظیم تخت بچھا ہے اور اس پر سرکارِ عالم مدار، مدینے کے تاجدار ، دو عالم کے مالِک و مختار ، حبیبِ پروَرد گار ، شافِعِ روزِ شمار، جنابِ احمدِ مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنا چاند سا چہرہ چمکاتے رونق افروزہیں۔ اِرد گرد چار کُرسیاں بچھی ہوئی ہیں ان پر خُلفَا ئے راشِدِین عَلَيهِمُ الّرِضْوَانتشریف فرما ہیں۔ دائیں طرف سونے کی کُرسیوں پر انبیاءے کِرام عَلَيهِمُ السَّلَامرونق افروز او ر بائیں جانب شہداءے کِرام جلوہ فرما ہیں ۔ اتنے میں اس کے والِدِ مرحوم ابراھیم بھی سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے قریب ہی جُھرمٹ میں نظر آگئے۔ والِدصاحِب نے اپنے لختِ جگر کو سینے سے لگا لیا، وہ بَہُت خوش ہوااور سُوال کیا: ابّا جان ! آپ کو یہ عالیشان رُتبہ کیوں کر حاصِل ہوا ؟ جواب دیا: اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! یہ جشنِ وِلادت منانے کا صِلہ ہے۔ اِس کے بعد اُس نوجوان کی آنکھ کُھل گئی۔

صُبح ہوتے ہی اُس نے اپنا مکان اَونے پَونے داموں بیچا اور والِدِ مرحوم کے بچے ہوئے پچاس دِرہَم کے ساتھ اپنی ساری رقم مِلا کر طَعام کا اہتِمام کیا اور عُلَماء وصُلَحاء کی دعوت کی۔ اُس کا دل دنیا سے اُچاٹ ہو چکا تھا، چُنانچِہ مسجِد میں عبادت اور اُسی کی خدمت میں مشغول رَہنے لگا اور اپنی زندَگی کے بَقیّہ تیس سال اسی طرح گزار دیئے۔ بعدِ وفات کسی نے اسے خواب میں دیکھ کر پوچھا: کیا گُزری؟ بولا: مُجھے جشنِ ولادت منانے کی بَرَکت سے جنَّت میں اپنے والِد مرحوم کے پاس پہنچا دیا گیا ہے۔(مُلخَّص از تذکِرۃُ الواعظِین اردو ص۵۵۷)اَللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

بخش دے مجھ کو الہٰی! بہرِ مِیلادُ النّبی

نامۂ اعمال عِصیاں سے مِرا بھرپور ہے
(وسائلِ بخشش ص۴۷۷)