عشق میں کون کامران رہا

تم مری ہو نہ میں تمہارا ہوں
اب تو رشتہ نہیں ہے کچھ اپنا
جب کبھی یاد آئے ماضی کی
ساتھ مجھ کو بھی یاد کر لینا
وصل کو جاوداں سمجھتے تھے
ہائے یہ سادگی محبت کی
کاش پہلے سے جانتے ہوتے
انتہا ہے یہی محبت کی
ابن انشاء